Bismillah

694


۱۰رمضان المبارک۱۴۴۰ھ

سوانح حضرت امیرِ شریعتؒ (قسط۲۴)

سوانح حضرت امیرِ شریعتؒ  (قسط ۲۴)

(شمارہ 580)

۲۴)

ایک مرتبہ شاہ جی رحمہ اللہ حاجی مولابخش سومرو کے مکان پر فروکش تھے، نماز مغرب کے بعد وِرد میں مصروف تھے کہ مولانا عبدالمجید سالک اور مجید لاہوری وہاں پہنچے۔ سالک صاحب نے شاہ جیؒ کو وظیفہ پڑھتے دیکھ کر یہ شعر پڑھا:

برزباں تسبیح ودردل گائوخر

ایں چنیں تسبیح کہ دارداثر

شاہ صاحب جب وِرد سے فارغ ہوئے تو فرمایا:

میں یقینا تم دونوں کے خیال میں تھا( شاہ جی کا اشارہ گائو، خر کی طرف تھا)( امروز: ص۸)

۲۹)ایک شخص نے شاہ جی سے سوال کیا کہ آپ کب سے اس کرائے کے مکان میں رہ رہے ہیں؟ فرمایا: ۱۹۴۸ء میں یہاں آگیاتھا اب تک یہیں پڑا ہوں۔

 اس نے عرض کیا: آپ نے کوئی مکان الاٹ نہیں کرایا آپ کا کلیم تو ہے؟ شاہ جی نے فرمایا:آپ مکان کے الاٹ منٹ کی بات کرتے ہیں خدا جانے قبر کے لئے چند گز زمین بھی ملے گی یا نہیں۔( امروز: ص۸)

۳۰)ایک مرتبہ شاہ جی نے فرمایا کہ ایک دفعہ ایک مرکزی وزیر صاحب مجھے ملنے ملتان تشریف لائے، انہوں نے فرمایا تھا کہ اگر میں ان سے کہوں تو وہ مجھے مکان الاٹ کروادیں گے۔ ساتھ ہی ارشاد فرماگئے کہ فلاں تاریخ کو فلاں صاحب ملتان سے گذر رہے ہیں ان سے مل لینا۔ ایک صاحب نے پوچھا :کیا آپ نے ان صاحب سے ملاقات کی؟ فرمایا: نہیں۔ وجہ دریافت کی تو فرمایا:

میرے پاس کالی اچکن اور قراقلی ٹوپی نہیں تھی۔(امروز: ص۸)

۳۱)شاہ جی سے ایک شخص نے پوچھا کہ آپ کو ذیابیطس کا مرض کب سے ہے؟جواب دیا: یہ مرض جیل میں میرے ساتھ آلگا تھا ابھی تک سنگت نبھا رہا ہے۔

 اس نے دوسراسوال یہ کیا کہ ان دنوں میں جبکہ آپ اس قدر بیمار ہیں اور عوامی زندگی سے بھی ریٹائرڈ ہوچکے ہیں کبھی دیرینہ رفقاء میں سے کوئی ملنے آیا ہے یانہیں؟

جواب میں مسکرادئیے اور فرمایا:

بیٹا!جب تک یہ کتیا( زبان) بھونکتی تھی سارا برصغیر ہندوپاک ارادت مند تھا، اس نے بھونکنا چھوڑدیا ہے تو کسی کو پتہ ہی نہیں رہا کہ میں کہاں ہوں، ہاں دیرینہ رفقاء میں سے ایک آدھ کو چھوڑ کر باقی میرے ہاں آہی جاتے ہیں ،پچھلے دنوں ایبٹ آباد سے ایک دیرینہ ملنے والے صاحب تشریف لائے انہوں نے ایبٹ آباد جانے پر اصرارکیا میں نے انکار کردیا۔

اس شخص نے کہا: شاہ جی آپ ان کے ہاں چلے جاتے ایبٹ آباد اچھاصحت افزا مقام ہے، ملتان کی گرمی میں آپ کیوں تڑپ رہے ہیں؟ جواب دیا: بیٹا! اب عمر کی اس سطح پر آگیا ہوں کہ دیکھنا چاہتاہوں کہ کتنے لوگ میرے ہاں آتے ہیں، ساری عمر لوگوں کی مہمانی میں گذری ہے اب میزبان بن کر بھی دیکھنا ضروری ہے۔(امروز:ص۸)

۳۲)شاہ جی نے مولانا عبدالمجید سالکؔ مرحوم کا واقعہ سنایا کہ ایک دفعہ سالکؔ نے یوپی کے ایک جلسہ کی تقریر میرے نام سے منسوب کر کے ’’انقلاب‘‘ میں چھاپ دی، حالانکہ میں(شاہ جی) نے یوپی میں کوئی ایسی تقریر نہیں کی تھی ان سے شکایت کی تو انہوں نے خاطر خواہ جواب نہ دیا۔ میں نے سالک سے ۲۵ سال تک بات نہ کی۔

ایک دن صوفی تبسم مجھے پطرس بخاری مرحوم کے ہاں دعوت پر لے گئے ،پطرس نے مجھے مدعو کیا تھا۔ اس دعوت میں سالک مرحوم بھی شریک تھے وہاں ہم دونوں کی صلح کرائی گئی۔ سالک نے میری پیٹھ پر ہاتھ مار کر کہا: آپ نے میرے پچیس برس تباہ کر کے رکھ دئیے۔ یہ واقعہ بیان کر کے شاہ جی نے ایک لمبا سانس لیا پھر فرمایا:سب یار کہنہ بچھڑتے جاتے ہیں ایک دن میں بھی ان سے جاملوں گا۔ فرمانے لگے :پطرس کے مکان پر ہم چاروں ساتھی ماضی کے فسانے بیٹھے سناتے رہے نماز کا وقت ہوگیا۔ میں نے پطرس سے کہا: آپ سید ہیں ،قرآن پاک آپ کے گھر میں اُتر ا ہے۔آپ بھی نماز نہ پڑھیں تو بری بات ہے۔ پطرس نے یہ سن کر سالک کو آواز دی: اُٹھو شاہ جی ہمیں زبردستی جنت میں لے جائیں گے۔( امروز: ص۸)

۳۳)ایک مرتبہ ایک شخص نے ایک مضمون میں اپنے جذبات کا اظہار کرتے ہوئے شاہ جی کے بارے میں تحریر کیا کہ جس مجاہد اور خطیب اعظم نے ملک کی آزادی کے لئے اتنی لمبی عمر انگریز کے خلاف جنگ لڑی ہے اور ساتھ ساتھ دین کی خدمت بھی کی ہے وہ کرائے کے مکان میں رہ رہا ہے، حکومت اور سوسائٹی نے ان کی خدمات کی قدر نہیں کی۔ جب شاہ صاحب کو معلوم ہوا ناراض ہوگئے۔ بہر کیف ان کی ناراضگی عارضی تھی ایک دن فرمانے لگے:

بیٹا! میں اپنوں سے ناراض ہوتا ہوں، تمہاری نیت پر شک نہیں کرتا تم نے میرے حق میں اچھا نہیں کیا۔لیکن شاہ جی نے انہیں معاف کردیا۔( امروز: ص۸)

۳۴)ایک دفعہ دہلی جیل میں مولانا ابو الکلام آزاد، شاہ جی، آصف اور ڈاکٹر انصاری اکٹھے ہوگئے۔ مولانا آزاد چائے کے بڑے رسیاتھے ایک صبح بڑے اہتمام سے چائے تیار کر کے شاہ جی کو پلائی، شاہ جی چائے پی چکے تو مولانا نے داد طلب نظروں سے پوچھا: چائے کیسی بنی میرے بھائی؟

 شاہ جی نے کہا: ایک کمی رہ گئی۔ مولانا ایسے جھنجھنائے جیسے دماغ پر بجلی گری ہو، پوچھا: وہ کیا میرے بھائی! شاہ جی نے جواب دیا:اس میں دوپتی زعفران کی بھی ہونی چاہیے تھی۔

مولانا آزاد نے کہا: ہاں میرے بھائی آپ تو اضافات کی بات کرتے ہیں ،اچھا میرے بھائی کل آپ کو زعفران پلائوں گا۔

چنانچہ دوسرے روز مولانا آزاد نے جیل کے ایک ملازم کو پانچ روپے دے کر زعفران منگوائے اور شاہ جی کو ذعفرانی چائے پلائی۔( امروز: ص۸)

۳۵)ایک دفعہ شاہ جی مولانا حبیب الرحمن صاحب کے ہمراہ مولانا آزاد سے ملنے گئے، استفادہ کے لئے چند آیا ت تفسیر کے لئے پیش کیں، مولانا آزاد نے اپنے انداز میں ان کی تفسیر کی۔ شاہ جی بہت متاثر ہوئے، کہا: مولانا! خدا آپ کو بہت عمر نصیب کرے۔ مولانا آزاد نے فرمایا: نہیں میرے بھائی تھوڑی ہو مگر قرینے کی ہو۔( امروز: ص۸)

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

Rangonoor Web Designing Copyrights Khabarnama Rangonoor