Bismillah

694


۱۰رمضان المبارک۱۴۴۰ھ

سوانح حضرت امیرِ شریعتؒ (قسط۲۵)

سوانح حضرت امیرِ شریعتؒ  (قسط ۲۵)

(شمارہ 581)

ایک دفعہ میرٹھ کے جلسہ میں تقریر کر رہے تھے، پرشو تم د اس صدر کانگریس بھی جلسہ میں موجود تھے انہوں نے کہا:

شاہ جی تلاوت قرآن پاک کریں تو وہی آتم پر سنگ ہوتی ہے۔ شاہ جی نے اس جلسہ میں ساڑھے آٹھ گھنٹے تقریر کی، صبح قریب آگئی اور وہ یہ شعر پڑھ کر اسیٹج سے اُتر آئے:

شب وصال بہت کم ہے آسماں سے کہو

کہ جوڑ دے کوئی ٹکڑا شب جدائی کا

۳۷)۱۹۳۱؁ء میں شاہ جی نے مسئلہ میراث پر ملک بھر میں تقریریں کی جن کا ردعمل یہ ہوا کہ ایک دفعہ آریہ سماج وچھووالی شاہ عالم لاہور میں ہندوؤں کے ایک جلسہ میں کماریہ وجیہ وتی نے کھڑے ہو کر وراثت کا مطالبہ کر دیا ۔ ڈی۔اے۔ وی کا لج کے پرنسپل چھبیل داس جلسہ کے صدر تھے۔ کماریہ وجیہ وتی نے کہا کہ اگر آپ بہنوں کو وراثت میں حصہ نہیں دیں گے تو مسلمان ہوجائیں گی۔چھبیل داس نے کہا: ہمارے لئے مشکل ہے چونکہ ہم دور دور شادیاں کرتے ہیں۔ کماریہ وجیہ وتی نے کہا:آپ جگر گوشہ کو بیاہ کردور بھیج دیتے ہیں لیکن زمین کے ٹکڑے انہیں منتقل نہیں کر سکتے۔ (امروز: ص۸)

۳۸)۱۹۳۱؁ء میں پہلی دفعہ دوسال کی سزا ہوئی اور شاہ جی کو میانوالی جیل منتقل کردیا گیا۔ ایک دن سپرنٹنڈنٹ جیل لالہ رام جی داس آئے اور شاہ جی سے کہنے لگے کہ گورنر بہادر کی چٹھی آئی ہے کہ اگر عطاء اللہ شاہ صرف اظہار افسوس کردے تو میں اس کی فوری رہائی کے احکام صادر کردوں گا۔ تو شاہ جی نے کہا :لالہ جی جو میں کہوں گا وہ لکھو گے؟

 لالہ جی نے کہا: کہو۔ تو شاہ جی نے فرمایا :لکھو

جب تک میں زندہ رہوں گا تمہاری جڑوں میں پانی پھیرتا رہوں گا۔(تمہاری جڑیں کاٹتارہوں گا) لالہ جی ہنس کرچل دئیے اور کہنے لگے :

بس کرو شاہ جی جواب ہوگیا۔( امروز: ص۸)

۳۹)ایک محفل میں شاہ جی نے ارشاد فرمایا کہ میری طفولیت کے ایام اپنے آبائی گائوں ناگڑیاں ضلع گجرات میںبسر ہو رہے تھے ایک دن دیکھا کہ بہت سے آدمیوں کا ہجوم قطارمیں کھڑا ہے میں بھی تماشائی کی حیثیت سے قطار میں شامل ہوگیا، دیکھا کہ ایک سرے سے ایک انگریز افسر سب لوگوں کے ساتھ ہاتھ ملارہا ہے جب وہ انگریز افسر میرے قریب آیا تو میں قطار سے پیچھے سرک گیا۔ اس انگریز نے شاید برا منایا ہو لیکن گائوں کے زمینداروں نے اور بعض خاندانی بزرگوں نے بہت براخیال کیا تو میں نے کہا کہ میں اس دشمن دین کافر سے ہاتھ نہیں ملا سکتا۔

 

 غرضیکہ شاہ جی میں دشمنانِ اسلام سے نفرت کا جذبہ شروع زندگی ہی میں موجود تھا۔( امروز:ص۵)

۴۰)ایک مرتبہ شاہ جی کسی گاڑی کے انتظار میں امر تسر کے پلیٹ فارم پر گھوم رہے تھے، دیکھا کہ کسی دوسری جانب جانے والی گاڑی کے ایک درمیانہ درجہ کے سامنے کچھ لوگ جمع ہیں۔ نزدیک جا کر دیکھا تو معلوم ہوا کہ سالم ڈبہ میں دو انگریز نوجوان دروازہ بند کئے بیٹھے ہیں اور کسی ہندوستانی کو اندر گھسنے نہیں دیتے کچھ دیر تو شاہ جی اسی انتظار میں رہے کہ اتنے آدمی موجود ہیں شاید ان میں سے کوئی جرأت کرے مگر سب پر خوف و ہیبت طاری تھی۔ شاہ جی زیادہ دیر تک یہ ذلت آمیز منظر نہ دیکھ سکے۔

شاہ جی نے اپنا موٹا ساڈنڈا زور سے دروازے پر مارا اور اندرداخل ہوگئے۔

ایک انگریزنوجوان شاہ جی کی طرف بڑھا انہوں نے ڈنڈے کی نوک سے اس کو ڈبہ میں گرادیا،دوسرا انگریز اس کی امداد کو بڑھا تو اس کو بھی گر ے ہوئے پردے مارا مگر اس کے بعد بھی کسی کو اندرداخل ہونے کی ہمت نہ ہوئی۔

اسٹیشن ماسٹر اسٹیشن چھوڑ کر روپوش ہوگیا۔ شاہ جی نے لوگوں کو کہہ سن کر باصراراندربلایا۔ ان انگریزنوجوانوں کو دیکھا کہ وہ سہمے ہوئے ایک جانب آرام سے بیٹھے ہیں۔

 شاہ جی نے اپنا موٹا ساڈنڈا دکھاتے ہوئے انگریزوں کو کہا کہ پھر کوئی شرارت کی تو یہ اب آپ کے سر پر برسے گا۔( امروز:ص۸)

۴۱)ایک مرتبہ شاہ جی بنگال کے ضلع دیناج پور کی جیل میں بھیجے گئے۔ وہاں اندرون جیل مولانا عبداللہ الباقی اور دیگر علماء و رہنما یان بنگال پہلے سے موجود تھے، شاہ جی کے سر پر مراد آبادی ٹوپی تھی۔ ان لوگوں نے بھی دیکھا دیکھی مراد آبادی ٹوپیاں استعمال کرنا شروع کردیں۔

 جیل کے انگریز افسروں کو یہ ٹوپیاں سخت ناگوار تھیں اور سب سیاسی قیدیوں نے یہ فیصلہ کرلیا کہ اگر انگریزوں کو یہ ناگوار ہیں تو ہم ان کا استعمال ہرگز ترک نہ کریں گے۔

 ایک دن سپرنٹنڈٹ جیل اورمسٹرسمپسن( SIMPSON) انسپکٹر جیل خانہ جات معائنہ کے لئے آئے اور تمام سیاسی قیدیوں کو مخاطب کر کے کہنے لگے:

یہ گاندھی کیپ ہے اسے آپ لوگ نہ پہنا کریں

 شاہ جی نے آگے بڑھ کر فرمایا:

یہ گاندھی کیپ نہیں بلکہ مراد آبادی کیپ ہے

 مگر گاندھی کیپ کے متعلق ان کا اصرار جاری رہا۔ شاہ جی نے غصے میں فرمایا: تو پھر یہ قمیص بھی گاندھی ہے اور پائجامہ بھی۔

 اس پر سمپسن بہت چڑا، اس نے سپرنٹنڈنٹ جیل کو حکم دیا :ان سب کی ٹوپیاں اُتروالو۔

یہ حکم سنتے ہی اکثر اصحاب نے ٹوپیاں خود بخود اُتار کر حکام جیل کے حوالہ کردیں۔ سپرنٹنڈ نٹ جیل شاہ جی کی طرف بڑھا اور کہا:آپ بھی ٹوپی اُتار دیں۔

شاہ جی نے فرمایا:

سراُترنے سے پہلے یہ ٹوپی نہیں اُتر سکتی، پہلے سراُتارو پھر ٹوپی اُتارلینا۔

 شاہ جی نے فیصلہ کرلیا تھا کہ اگر میری ٹوپی پر اس نے ہاتھ ڈالا تو دونوں افسروں کو نیچے گر اکر آج میں سمپسن کا خون پیوں گا۔ آپ نے یہ بھی فرمایا کہ اس وقت میرے سامنے بہادر شاہ ظفر کے بیٹوں کا خون تھا اور میری صحت بھی ماشاء اللہ بہت اچھی تھی۔

 جب سپرنٹنڈنٹ جیل نے شاہ جی کی طرف ہاتھ بڑھایا تو آپ نے اس کی کلائی پکڑ لی اس پر کچھ اس قسم کی ہیبت طاری ہوئی کہ چوٹی سے لے کر ایڑی تک وہ پسینہ میں لت پت ہوگیا اور وہ پیچھے ہٹنے لگا۔ شاہ جی نے اس کاہاتھ چھوڑدیا اور وہ دونوں افسر بڑبڑاتے ہوئے احاطے سے باہر چلے گئے۔

اس کے بعدادھر تمام رفقاء جیل یہ سمجھے کہ شاہ جی پر بڑی مصیبت کا پہاڑ ٹوٹے گا ادھر جب سمپسن دفتر پہنچا ابھی آرام سے بیٹھا بھی نہ تھا کہ دوپستولوں سے مسلح جوان آئے اور انہوں نے سمپسن کو للکار کر کہا:

تیار ہوجائو مسٹر سمپسن پھر بیک وقت دونوں نے دو فائر کئے چشم زدن میں سمپسن خاک کا ڈھیر تھا ،کچھ وقفہ کے بعد جب شاہ اور ان کے رفقاء کو اطلاع ملی تو شاہ جی نے مارے خوشی کے زور سے کہا :وہ مارا۔ ان کی اس گرج پر رفقاء گھبراگئے کہ کہیں اس سازش میں ہم پر اور مقدمہ قائم نہ ہوجائے۔ شاہ جی نے فرمایا:

ظالم دشمن مارا ہے اب بھی خوشی نہ منائیں۔( امروز: ص۹،۸)

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

Rangonoor Web Designing Copyrights Khabarnama Rangonoor