Bismillah

694


۱۰رمضان المبارک۱۴۴۰ھ

سوانح حضرت امیرِ شریعتؒ (قسط۲۶)

سوانح حضرت امیرِ شریعتؒ  (قسط ۲۶)

(شمارہ 582)

۴۲)ایک مرتبہ شاہ جی نے جیل میں پھانسی خانے کو دیکھا۔ آپ نے تختہ دار پر قد م رکھا اور پھر اپنے آپ کو تولا کہ اگر اس راہ میں پھانسی آجائے تو میں اس پر تیار ہوں یا نہیں، تو فرمایا :میں نے اپنے آپ کو مطمئن اور تیار پایا۔( امروز: ص۵)

۴۳)حضرت شاہ صاحب نے بہت متوکلانہ زندگی گذاری ہے، تقسیم کے بعد اکثر احباب کی خواہش تھی کہ آپ ہمارے ہاں سکونت اختیار کریں بہت سے ساتھیوں نے مکان اور زمین کی پیشکش کی مگر آپ مسکراتے رہتے کبھی فیصلہ نہ فرماتے۔

کسی دوست نے عرض کیا کہ بہاولپور میں زمین خریدنا اور اسے آباد کرنا میرا ذمہ ہے آپ ہاں کریں۔ اس وقت ایک مربعہ کی قیمت سولہ روپے تھی، فرمایا: سوچ کر بتائوں گا پھر ان کے اصرار کے باوجود جواب نہ دیا۔ اب وہاں ایک مربعہ کی قیمت پانچ ہزار روپے ہے۔(امروز: ص۵)

۴۴)ایک دفعہ ایک معتقد زمیندار نے شاہ جی کی خدمت میں ایک قطعہ اراضی کی پیشکش کی مگر آپ نے حسبِ عادت گفتگو کا رخ بدل دیا۔

 کچھ عرصہ بعد ان زمیندار صاحب کی مولانا محمد علی صاحب جالندھری سے ملاقات ہوئی ۔مولانانے شاہ صاحب کو اراضی دے دینے کے متعلق ان سے گفتگو کی اور جب ملتان آئے تو اپنا کارنامہ سمجھ کر حضرت شاہ صاحب کوواقعہ بیان کیا تو شاہ جی نے ارشاد فرمایا:

تم نے ان سے کیوں کہا۔ آپ کا کہنا میرا کہناہے گویا میں مانگ رہا ہوں، بھائی لوگ کہا ہی کرتے ہیں اگر میں چاہتا تو ہر شہر میں میرا مکان اور ہر ضلع میں میری زمین ہوتی ۔

۴۵)ایک دفعہ ایک جلسہ میں شرکت کے لئے حضرت امیر شریعت شاہ جیؒ مولانا محمد علی صاحب جالندھریؒ کے ساتھ گئے، منتظمین نے مولانا جالندھری سے مشورہ کیا کہ حضرت کی خدمت میں سفر خرچ کتنا پیش کیا جائے۔ شاہ صاحب نے اپنی فراست سے سمجھ لیا کہ مولانا جالندھری نے کوئی رائے دی ہے۔ آپ نے ناراض ہو کر فرمایا:

محمد علی! آخری عمر میں مجھے بے ایمان کر کے مارا۔ تم نے مقدار رقم کی رائے دی حالانکہ میں نے تمام زندگی اس کا خیال بھی نہیں کیا۔ آمدورفت کا کرایہ گھر سے لے کر چلتا ہوں اور خواہش بھی نہیں رکھتا کہ کوئی ضرور دے گا۔ اگر اللہ تعالیٰ نے کسی کے ذریعہ سے دیاتومیں نے دیکھا بھی نہیں کہ کسی نے کیا دیا۔( امروز: ص۵)

۴۶)ایک مرتبہ ایک جلسہ کے منتظمین کو شک ہوا کہ جس کے سپرد شاہ صاحب کا سفر خرچ ادا کرنا تھا اس نے پورا نہیں دیا بلکہ خیانت کی ہے، اب انہوں نے تحقیق کی یہ صورت نکالی۔ عرض کیا کہ جو سفر خرچ پیش کیا گیا ہے اس میں ایک نوٹ تیل لگا ہوا ہے لائیے ہم اسے بدل دیں ۔

شاہ جی نے مسکرا کر فرمایا:

اللہ تعالیٰ نے کسی کی پردہ دری کی اجازت نہیں دی۔( امروز: ص۵)

۴۷)ایک صاحب کو معلوم تھا کہ شاہ جی سفر خرچ کی رقم نہ دیکھتے ہیں نہ گنتے ہیں، اس وقت چاندی کے روپے عام تھے۔ منتظم جلسہ نے جتنے روپے کھوٹے تھے وہ سفر خرچ کے طور پر دے دئیے جب اسٹیشن پر جا کر ٹکٹ خریدنے لگے تو معلوم ہوا کہ سب کھوٹے ہیں۔

آئندہ سال پھر انہی صاحب نے جلسہ کی دعوت دی۔ دعوت قبول فرمائی۔ ایک واقف راز نے عرض کیا کہ یہ وہی صاحب ہیں جنہوں نے کھوٹے روپے دئیے تھے۔ شاہ جی نے فرمایا :

اگر دین کے کام کے لئے اس واسطے نہ گیا کہ وہاں سے روپے کھوٹے ملے تھے تو میری اور اس کی ذہنیت میں کیا فرق رہا۔( امروز: ص۵)

۴۸)شاہ جی نے جس وقت انتقال فرمایا ہے اس وقت کرائے کے مکان کا ماہانہ کرایہ چالیس روپے تھا۔ ایک زمانے میں وہی مکان بارہ ہزار روپے میں ملتا تھا۔ مکان کے مالک حاجی عبدالرحمن صاحب ملتانی آپ کے پیر بھائی، جماعتی دوست اور شیدائی تھے۔ حضرت شاہ صاحب کے پاس دوہزار روپے کم تھے۔ نہ کسی سے قرض لیا نہ حاجی صاحب سے ادھار کے متعلق فرمایا۔

 حاجی صاحب کے انتقال کے بعد ایک دن فرمایا کہ دوہزار کی کمی کے سبب بارہ ہزار روپے میں نہ خریدسکا ،اب اس کی قیمت پچاس ساٹھ ہزارروپے ہے۔ مولانا محمد علی جالندھری نے عرض کیا:مجھ سے فرمایا ہوتا میں قرض دے دیتا۔ مسکرا کر فرمایا:

 تم جماعت کے حساب سے دیتے،میں جماعت سے ایک پیسہ بھی قرض لینا پسند نہیں کرتا۔

 مولانا جالندھری نے عرض کیا :

میں اپنے پاس سے دے دیتا۔ فرمایا:

اللہ تعالیٰ کو منظور نہ تھا۔

 اسی طرح ایک دفعہ ایک ٹکڑا اراضی ملتا تھا اور بہت موقعہ کا تھا۔ مولانا جالندھری نے بہت اصرار کیا فرمایا: میرے پاس قیمت نہیں ہے۔ مولانا نے قرض دینے پر اصرار کیا مگر قبول نہ فرمایا۔( امروز: ص۵)

۴۹)شاہ صاحب کا ۱۹۴۶؁ء کے انتخابات میں غیر جانبدار رہنے پر اصرار تھا مگر سب سے زیادہ حصہ لینے پر مولانا محمد علی جالندھری مصر تھے، جب میٹنگ ہوئی اور اس میں مولانا جالندھری نے شاہ جی کی رائے کے خلاف تقریر کی تو مسکراکر تعجب سے فرمایا:

اچھا خیر فیصلہ انتخاب لڑنے کا ہوگیا۔

 مولانا محمد علی جالندھری کے حلقہ میں تقریر کرنے تشریف لے گئے، مغرب کے وقت سخت بخار ہوگیا۔ پانچ یا چھ میل جا کر تقریر کرنا تھی اور وہیں قیام تھا سخت سردی تھی۔ آدھ میل جا کر کار خراب ہوگئی آدمی صرف دو تھے۔ ریگستانی راستہ تھا، پانچ میل تک کار کو دھکیل کر لائے خوداترتے مل کر ساتھ کار کو دھکا لگاتے سیاہ کمبل اوڑھے ہوئے قلندرانہ انداز میں نعرہ لگاتے:

لعنت برپدرفرنگ

ان تمام مصائب و شدائد کے باوجود مولانا جالندھری سے کوئی شکوہ و شکایت نہ کی۔( امروز:ص۵)

۵۰)ہری پور ہزارہ میں آل انڈیا کانفرنس کے موقع پر مرکزی صد ر کا چنائو تھا، شاہ جی نے حافظ علی بہادر خاں آف بمبئی کا نام پیش فرمایا۔مولانا محمد علی جالندھری نے جناب شیخ حسام الدین صاحب کانام پیش کیا۔ شاہ جی نے فرمایا:

بھائی محمد علی! ہم نے جماعتی انتخاب میں رسہ کشی نہیں کی تم اپنی تجویز واپس لے لو، میری خواہش ہے کہ حافظ صاحب کو صدر منتخب کرلیں۔

 مولانا جالندھری نے عرض کیا کہ اس رسم کو باقی رکھنا کہ صدر کا انتخاب متفقہ ہوا ور آپ کی مراد اس طرح بھی پوری ہو سکتی ہے کہ آپ اپنی تجویز واپس لے لیں ورنہ ووٹنگ کرلیں۔ تین دفعہ مولانا جالندھری سے فرمایا کہ میری درخواست قبول کرلیں۔ مولانا جالندھری نے ہر دفعہ جواب دیاکہ یا آپ اپنی تجویز واپس لے لیں یا ووٹنگ کرالیں ۔چوتھی دفعہ مسکرا کر فرمایا:

میں اپنی تجویز واپس لیتا ہوں۔

غرضیکہ جب جماعت میں کوئی ایسی بات پیش ہوتی جس میں آ پ کی رائے خلاف ہوتی تو ایک دودفعہ دلائل سے سمجھا کر خاموش ہوجاتے۔ اپنی رائے منوانے پر اصرار نہ فرماتے۔ جب ان کی رائے کے خلاف احباب فیصلہ کرلیتے تو کبھی شکوہ نہ فرماتے۔( امروز: ص۵)

 

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

Rangonoor Web Designing Copyrights Khabarnama Rangonoor