Bismillah

694


۱۰رمضان المبارک۱۴۴۰ھ

سوانح حضرت امیرِ شریعتؒ (قسط۲۷)

سوانح حضرت امیرِ شریعتؒ  (قسط ۲۷)

(شمارہ 583)

۵۱)ایک مرتبہ ایک مقام پر شاہ صاحب کی تقریر کا اعلان تھا جلسہ میںہجوم کی وجہ سے تل دھرنے کو جگہ نہ تھی۔ لوگ چشم براہ تھے اور ان سے پہلے مولانا محمد علی جالندھری کی تقریر تھی۔مولانا جالندھری کی تقریر کے بعد اعلان کردیا( حضرت امیر شریعت نے) کہ اس تقریر کے بعد میں تقریر کرنا مناسب نہیں سمجھتا، جلسہ برخاست کرتا ہوں۔

 غرضیکہ شاہ جی میں حس عجب اور کبرنام کو نہ تھا، حضرت شاہ صاحب قدس سرہ فن تقریر میں اپنی مثال نہ رکھتے تھے مگر جب دوسرے شخص کی تقریر سنتے تو خوشی سے جھومتے اور چہرہ چاند کی چمکتا اور ماشاء اللہ ماشاء اللہ فرماتے اور ارشاد فرماتے: الحمدللہ! اب میری ضرورت نہیں رہی۔

 اسی طرح اگر تقریر میں کسی سے کوئی عمدہ بات نکل جاتی تو جب اسے اپنی تقریر میں بیان فرماتے تو یوں اظہار فرماتے کہ فلاں صاحب نے یوں فرمایا اور فرماتے: اگر بات دوسرے سے سن کر بیان کی جائے تو اس کا اظہار کیا جائے۔ کسی کی عمدہ بات اس کی طرف منسوب نہ کرنا بیان کی خیانت ہے۔( امروز:ص۵)

۵۲)ایک زمانے میں خان لیاقت علی خاں مرحوم حضرت شاہ صاحبؒ سے ملاقات کے خواہشمند تھے۔ اس وقت مرکزی جماعت کے صدر ماسٹر تاج الدین انصاری صاحب تھے اور صوبے کی جماعت کے صدر مولانا محمد علی جالندھری صاحب تھے ۔دونوں حضرات نے بہت کوشش کی کہ شاہ صاحب نواب زادہ صاحب سے ملاقات کرنا قبول فرمالیں لیکن بار بار یہی جواب دیا کہ صدر کو ملاقات کرنا چاہئے، دونوں صدروں میں سے کوئی ملاقات کرے۔

 اللہ اللہ ایسے وقت جماعتوں میں ہر رکن یا عہدہ دار دوسرے کو پچھاڑنے کی کوشش کرتا ہے مگر آپ ضابطہ پیش فرما کر پیچھے ہوجاتے اور فرمایاکرتے:میں کسی ایسی جماعت میں نہیں رہ سکتا جہاں کہنی مار کر دوسرے کو پیچھے کرنے کی عادت ہو۔

۵۳)انگریز دشمنی حضرت شاہ صاحبؒ کے رگ وریشہ میں سرایت کئے ہوئے تھی کبھی ارشاد فرماتے :

اس کرئہ ارض پر آج تک انگریز سے بڑھ کر عدواللہ، عدو الرسول،عدو القرآن اور عدوالمسلمین پیدا نہیں ہوا۔ اور یہ مصرعہ پڑھتے:

چہ گوئیمت زکمال فرنگ دشمن دیں

اسی سلسلے میں ایک دفعہ فرمایا: فرنگی یا غلامانِ فرنگ آپ سے کبھی خوش ہوجائیں تو یہ آپ کے ایمان کے قریب مرگ ہونے کا وقت ہوگا، ان کا ہمارے درپے آزاررہنا ہی ہمارے ایماندار ہونے کی ضمانت ہے۔

 ایمان کی شرط میں سے ایک اہم شرط یہ بھی ہے جس کشتی میں انگریز سوار ہوں سوراخ کیا جائے اور اس کی تبلیغ میری زندگی کا مقصد ہے۔

بیماری کے دوران جب کوئی بزرگ مزاج پرسی کو تشریف لاتے تو فرماتے :ساری زندگی یہی تمنا رہی کہ انگریز کے خلاف جہاد کرتے ہوئے یہ جان کام آئے، اس سے محروم ہوگئے اب دعاء کرو کہ ایمان پر خاتمہ ہوجائے۔( امروز:ص۵)

۵۴)آخری ایام میں حضرت شاہ صاحبؒ کا حکیم محمد حنیف اللہ صاحب کے مطب پر تشریف آوری کا روزانہ معمول تھا، کبھی ایسا ہوتا کہ راستے میں ضعف وناتوانی کا شکوہ کرتے اور فرماتے: پائوں جواب دے رہے ہیں، دشواری سے حکیم صاحب کے پاس پہنچتے حکیم صاحب کی جانب ہاتھ بڑھاتے حکیم صاحب! نبض دیکھئے ، حکیم صاحب فرماتے: ہاں شاہ جی آج کچھ زیادہ ضعف ہے، اتنے میں کوئی اہل ذوق وارد ہوتا شعر و سخن اور علم وادب کی محفل گرم ہوتی۔ ایسا معلوم ہوتا کہ جوانی کی تمام قوتیں عود کر آئیں ہیں اور شاہ جی بالکل صحت مند ہیں، اسی اثناء میں بڑی قوت کے ساتھ ہاتھ حکیم صاحب کے سامنے بڑھاتے اور کہتے:

حکیم صاحب اب نبض دیکھئے۔ حکیم صاحب کہتے :ماشاء اللہ اب تو نبض کی حالت بہت اچھی ہوگئی ۔شاہ جی فرماتے:حکیم صاحب میں فالج اور ذبابیطس کا مریض نہیں ہوں میری محفلیں اُجڑ گئی ہیں۔دیکھئیحکیم صاحب !

شاد عظیم آبادی کیا کہہ گئے ہیں :

کانٹوں میں گھرا ہوا ہے

چاروں طرف سے پھول

پھر بھی کھلا ہی پڑتا ہے

کیا خوش مزاج ہے

( امروز:ص ۵)

۵۵)ایک بار ڈیرہ غازی خان کے دیہاتی علاقہ میں شاہ صاحبؒ رسوم کی اصلاح پر تقریر فرمارہے تھے، ایک گھنٹہ کی تقریر کے بعد پوچھا: کیوں بھئی کچھ سمجھے بھی ہو؟لوگوں نے کہا: کچھ نہیں سمجھے، دوسرا کوئی ہوتا تو بدمزہ ہوجاتا اور مزید تقریر کرنے کو اس کا کبھی دل نہ چاہتا۔ مگر شاہ صاحبؒ نے پورے جوش سے فرمایا کہ میں تو تمہیں سمجھانے آیا ہوں چنانچہ انہوں نے پہلے سے بھی دوگنے جوش کے ساتھ دوبارہ تقریر شروع کی اور گھنٹہ ڈیڑھ گھنٹہ پھر انہیں سمجھایا اور پھر پوچھا کہ اب کچھ سمجھے؟لوگوں نے پھر نفی میں جواب دیا پھر شاہ صاحب نے تگنے جوش کے ساتھ فرمایا: میرا کام تو کوشش کرنا ہے دلوں کی گھنڈیاں تو وہی کھول سکتا ہے اور قرآن پاک کی وہ مشہور آیت تلاوت فرمائی جو موسیٰ علیہ السلام نے فرعون کے پاس جانے سے پہلے تلاوت فرمائی تھی:

رب اشرح لی صدری ویسرلی امری واحلل عقدۃ من لسانی یفقھواقولی

اے اللہ! میرے سینے کو کھول دے اور میرے کام کو آسان کردے اور میری زبان کی گرہ کو کھول دے تاکہ یہ لوگ میری بات سمجھ سکیں۔

اور اس کے بعد پھر پورے جوش وخروش کے ساتھ گھنٹے دو گھنٹے اسی مسئلہ پر تقریر فرمائی اور اس شرح وبسط سے کام لیا کہ لوگ اچھی طرح بات کو سمجھ گئے اور آخر میں جب پوچھا کہ اب کچھ سمجھے تو لوگوں نے اپنی زبان میں کہا:

ہاں مینڈاسائیں اب سمجھ گئے ہیں۔

شاہ صاحب نے اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کیا ۔ جس نے ان کے کام میں سہولت پیدا فرمادی تھی اور فرمایا:

میں تو تہیہ کر چکا تھا کہ یہ بات آپ کو اب سمجھا کر ہی یہاں سے جائوں گا۔خواہ مجھے اس سلسلہ میں مہینہ بھر بھی رہنا پڑتا۔( امروز:ص۷)

۵۶)ایک زمانہ میں سارا چنیوٹ شہر تہیہ کر چکا تھا کہ شاہؒ جی کی تقریر نہ ہوسکے۔ لیکن آپ وقت مقررہ پر جلسہ گاہ میں تشریف لائے اور خطبہ مسنونہ کے بعد تقریر شروع کی تو ہر طرف سے اعتراضات کی بوچھاڑ ہوگئی، آپ نے ایک بہادر مجاہد کی طرح ان اعتراضات کے جواب دئیے اور فرداً فرداً ہر معترض کو خاموش کردیا اور پھروہ زور دار تقریرفرمائی کہ تقریر کے اختتام پر سب لوگوں سے اپنی ہمنوائی منوالی۔ اثنائے تقریر میں علامہ طالوت پر نظر پڑگئی تو فرمایا کہ مجھے کون سے سرخاب کے پر لگے ہوئے ہیں یہ صرف خواجۂ دوجہاں ﷺ کی غلامی کا امتیاز ہے کہ آپ لوگ میری باتیں سن رہے ہیں اور میں سنا رہا ہوں ورنہ میں کیا اور میری حیثیت کیا، میں بھی مولوی فاضل پاس کر کے آج کسی اسکول میں ملازم ہوتا اور بچوں کے ساتھ سرکھپانے میں مشغول رہتا اور پھر انتہائی سوز وگدازکی لے میں یہ شعر پڑھا

ماو مجنوں ہم سفر بودیم دردیوان عشق

او بصحر ارفت ومن درکو چہارسواشدیم

( امروز: ص۷)

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

Rangonoor Web Designing Copyrights Khabarnama Rangonoor