Bismillah

694


۱۰رمضان المبارک۱۴۴۰ھ

امیر شریعت مولانا عطاء اللہ شاہ بخاریؒ کا مقام (قسط۱)

ہندوستان میں خطابت کے اَئمہ اربعہ اور امیر شریعت مولانا عطاء اللہ شاہ بخاریؒ کا مقام (قسط ۱)

تحریر: مولانا سید محمد یوسف بنوری ؒ (شمارہ 587)

ہندوستان کی اس سرزمین میں ایک ہی عصر میں ایسے چار خطیب جمع ہوگئے تھے جن میں سے ایک کی بھی نظیر عالم اسلام میں نہیں تھی اور ظاہر ہے کہ جب عالم اسلام میں نظیر نہ تھی تو غیراسلامی دنیا میں کہاں سے نظیر ملے گی؟جو ہر خطابت جس انشراح صدرکا محتاج ہے، اللہ تعالیٰ نے یہ حصہ غیر مسلموں کی نصیب ہی نہیں فرمایا۔ مسلمان کے سینہ میں جو فیضانِ الٰہی ہوتاہے، کافر کے سینہ میں اسکی گنجائش نہیں۔ مسلمان کا دل و دماغ جس جذبے سے سرشار ہوتا ہے، کافر اس نعمت سے محروم ہے ۔مسلمان کے دل میں عواطف و جذبات کا جو سمندر متلاطم ہوتا ہے، غیر اسلامی دل اس کا تصور بھی نہیں کر سکتا۔ اسلامی روح جس منبعِ قدس سے سیرابی حاصل کرتی ہے، کافر کی روح کی تشنہ لبی کو اس سے کیا نسبت!

پہلے خطیب مولانا ابو الکلام آزاد، دوسرے خطیب مولانا احمد سعید دہلوی، تیسرے خطیب مولانا شبیر احمد عثمانی اور چوتھے خطیب مولانا سید عطاء اللہ شاہ بخاری تھے۔ میرے خیال میں یہ ایک عصر کی خطابت کے ائمہ اربعہ تھے۔ ایک دفعہ ضلع سورت کے ایک گائوں میں حضرت مولانا العارف حسین احمد کے ساتھ رفاقت کی سعادت نصیب ہوئی ، تنہائی میں اس موضوع کا ذکر آگیا۔

اتفاق کی بات یہ جو میرا خیال تھا حضرتؒ نے بعینہ اسی طرح فرمایا ،بہر حال مجھے اپنی اصابت رائے پر خوشی ہوئی، پھر فرمایا کہ اب مولانا حفظ الرحمن صاحب بھی قریب قریب ان کے ہو رہے ہیں، اب میں مزید اضافہ کرنا چاہتا ہوں کہ حضرت مولانا قاری طیب صاحب بھی اس صف کے قریب آرہے ہیں۔ میرے ذہن میں ان چاروں خطیبوں کی خطابت کی خصوصیات ہیں جو نہایت دلچسپ ہیں اور دقیق بھی ہیں،افسوس کہ اس وقت ان کی تفصیلات کی نہ ہمت ہے نہ وقت ،لطف تو اس وقت آتا کہ پورا موازنہ ومقار نہ واقعات ہو سکتا۔ اب تو چند نا معلوم اشارے شاہ جیؒ سے متعلق عرض کرتا ہوں۔

خطابت اور خصوصاً عوام کو مسحور کرنے کا جہاں تک تعلق ہے، اس موضوع کی جتنی صلاحیتیں ہو سکتی ہیں قدرت نے بڑی فیاضی کے ساتھ حضرت شاہ جیؒ کو عطا فرمائی تھیں۔

 قدوقامت، شکل و صورت ، قوت و طاقت، شجاعت و جرأت ، فراست وتدبر، غیرت و حمیت، ذکات و شدت اِحساس، رقت عواطف و جذبات کا تلاطم ،بلندی آواز و خوش گلوئی، قرآن کریم کے ساتھی قلبی تعلق اور استحضار، منتخب ترین فارسی، اردو اشعار و ہر موضوع پر عمدہ ذخیرہ کا استحضار، دردناک اور فلک شگاف آواز کے ساتھ قرآن کریم کا پڑھنا، مخالفین کے مجمع پر قبضہ کرنا، عالم و جاہل، مرد وعورت ،مخالف و موافق، سب کایکساں طور پر متاثر ہونا، یہ ان کی وہ خصوصیات ہیں کہ ان میں کوئی ہمسری نہیں کر سکتا۔

 مجمع کو رُلانا، تڑپانا، ہنسانا ان کی خطابت کا ادنیٰ کرشمہ تھا، مجمع سے اپنی بات منوانا، نناوے فیصد مخالفوں کو اپنا ہم خیال بنانا ان کے بائیں ہاتھ کا کھیل تھا، بعض اوقات تو بولنے سے پہلے ساحرانہ نگاہ ہی سے مجمع کو مسخر کر لیتے تھے ۔نگاہ کیا تھی غضب کی نگاہ تھی، آواز تھی یا بجلی کو ندتی تھی۔

اتنا کامیاب ترین خطیب کسی نے سنا ہوگا نہ دیکھا ہوگا، عقلی و فکری خصوصیات کی کامیاب ترین تمثیل اور اپنے موضوع و اطوار سے وہ نقشہ کھینچتے تھے کہ دنیا کا کوئی خطیب ان کی نقالی نہیں کر سکتا تھا۔

ہندوستان کی سرزمین میں یہ وہ واحد خطیب تھے جس نے اپنی خداداد ساحرانہ قوتِ خطابت سے دُنیا وسیاست کی وہ خدمت کی جو ایک پوری قوم نہیں کر سکتی، تنہا ان کی شخصیت نے وہ کام کیا جو ایک صدی میں ایک ادارے کو کرنا چاہیے تھا، یہ شخص کسی اور قوم میں ہوتا تو نہ معلوم اس کی کیا یادگاریں قائم ہوتیں۔ لیکن مسلمان قوم اپنی زندگی ختم کرچکی ہے۔ اس ختم شدہ دور میں یہ حیرت انگیز خطیب آئے، ورنہ تاریخ کے کسی بہترین دور میں پیدا ہوتے تو نقشہ ہی کچھ اور ہوتا۔

مولانا انور صاحب ؒ امیر شریعت ؒ کی نظر میں

قدرت نے فوق العادت زبان کی شیرینی، بیان کی روانی اور فوق العادت موثر تعبیر کی قوت عطا فرمائی، بعض اوقات ایک جملہ میں پوری پوری داستان ختم کردیتے تھے، ایک دفعہ جامع ڈابھیل تشریف لائے، اساتذئہ جامعہ مروتی اسٹیشن پر استقبال کے لیے گئے، لاری میں آرہے تھے، میں نے کہا:شاہ جی! آج تو حضرت شیخ پر ایک تقریر کردیجئے( یعنی حضرت مولانا انور شاہ صاحبؒ) فوراً فرمایا:’’بھائی یوسف! کیا کہوں! صحابہؓ کا قافلہ جارہا تھا، انورشاہ صاحبؒپیچھے رہ گئے۔‘‘بے اختیار میں نے کہا:’’حسبک اللہ یاعطاء اللہ!‘‘اوررفقاء نے جملہ نہیں سنا تھا، جب سنایا سب تڑپ گئے۔

غیر مسلموں کو تبلیغ اسلام

ایک دفعہ تو ساری ضلع سورت میں سکھوں اور ہندئوں کی ایک دعوت پر ایک تقریر منظور فرمائی، ایک تھیڑہال کا انتخاب ہوا، جامع ڈابھیل کے اساتذہ اور طلبہ بھی شریک تھے۔ حضرت مولانا شبیر احمد عثمانیؒ بھی تشریف رکھتے تھے، اس تقریر کی تاثیر وحلاوت ،فوق العادت خطابت کا کمال آج بھی آنکھوں کے سامنے ہے، اس کی شیرینی کام ودہن میں ہے، ہندوئوں اور سکھوںسے’’اللہ اکبر‘‘کے نعرے بلندکروائے تھے۔ اسلام کی حقانیت، اللہ کی عظمت اور توحید، گوشت خوری کے منافع، بت پرستی کی قباحت پر حیرت انگیز بیان تھا۔ حضرت شبیر احمد عثمانیؒ زاروقطار رو رہے تھے۔ میں نے کبھی ان کو اتنا روتے ہوئے نہیں دیکھا۔ تقریر کے بعد میں نے سنا، فرماتے تھے، میں نے بیسیوں تقریریں مولانا عطاء اللہ شاہ بخاری کی سنی ہیں،لیکن اتنی موثر تقریر آج تک نہیں سنی اور فرمایا کہ:آج عطاء اللہ شاہ نے حق تبلیغ ادا کردیا ہے، اپنے وقت کے سب سے بڑے عالم، متکلم، خطیب کی یہ داد کتنی قیمتی ہے۔

شاہ صاحبؒ مولانا انور شاہ صاحبؒ کی نظر میں

 امام العصر حضرت مولانا انور شاہ صاحبؒ کو آپ سے بے انتہا محبت تھی اور دعا کیا کرتے تھے اور فرمایا کرتے تھے کہ ایسا خطیب کبھی نہیں دیکھا جو روتوں کو ہنساتا ہے اور ہنستوں کو رُلاتا ہے اور فرماتے تھے کہ:مرزا غلام قادیانی کے خلاف ان کی ایک تقریر وہ کام کرتی ہے جو ہماری پوری تصنیف نہیں کر سکتی۔ کسی مجلس میں انہیں دیکھتے تو باوجود اس کے متانت و وقار کا پہاڑ تھا، محظوظ ہوتے جس کی انتہا نہیں۔

لاہور کاتاریخی اجلاس جس میں آپ امیرِ شریعت بنائے گئے

مئی ۱۹۳۰ء کا جو تاریخی اجلاس’’انجمن خدام الدین لاہور‘‘ کا ہورہا تھا جس کاسماں آج بھی میری آنکھوں کے سامنے ہے، اس وقت امام شیخ ؒ کا اسم گرامی مولانا ظفر علی خاں نے امارت کے لیے پیش کیا۔ حضرت شیخ نے کھڑے ہوکر تقریر فرمائی اور اپنی کمزوری کی وجہ سے معذرت پیش کی اور سید عطاء اللہ شاہ بخاریؒ کی امارت کی نہ صرف تجویز کی بلکہ امیر بنا کر فرمایا:

میں بھی اس مقصد کے لیے ان کے ہاتھ پر بیعت کرتا ہوں، آپ حضرات بھی ان سے بیعت کریں اور اپنے دونوں ہاتھ مبارک سید بخاری کے ہاتھ میں دے دئیے۔

وہ منظر بھی عجیب تھا کہ مولانا عطاء اللہ شاہ بخاری رورہے تھے اور کہتے ہیں کہ خدا کے لیے مجھے معاف فرمائیں ، میں اس کا اہل نہیں اور حضرت شیخ اصرار فرمارہے ہیں۔ اس وقت سب سے پہلے مولانا عبدالعزیز گوجرانوالہ نے پہلی بیعت فرمائی، پھر مولانا ظفر علی خاں مرحوم نے بیعت کی ،راقم الحروف بھی اسی مجمع میںشریک تھا ور غالباً تیسرا نمبر بیعت کرنے والوں میں میرا تھ۔

 اس وقت شاہ جیؒ’’امیر شریعت‘‘بنائے گئے اور ان کی شخصیت میں مقبولیت اور جاذبیت کا دور شروع ہوا، جواس سے پہلے کبھی نہ تھا اور اس کے بعد اخلاص کے ساتھ خدمت کی توفیق ان کو ملی، وہ ان کی زندگی کا تاریخی دور ہے۔

میں سمجھتا ہوں کہ حضرت سید عطاء اللہ شاہ بخاریؒ کی یہ عام مقبولیت اور مجاہدانہ سرگرمیاں، منصفانہ خدمات اور حیرت انگیز تاثیر اور بے پناہ محبوبیت حضرت مولانا انور شاہ ؒ کی کرامت تھی۔ اپنے ہاتھ مبارک جو ان کے ہاتھوں میں رکھ دئیے تھے اس کی وجہ تھی اور حضرت مولانا انور شاہ صاحبؒ کو جو قادیانی فرقہ سے بغض و عناد تھا اس نے عطاء اللہ کی صورت اختیار کر لی تھی۔

 دراصل شاہ جیؒ کا وجود حضرت مولانا انور شاہ کشمیریؒ کی کرامت تھا، جس کی وجہ سے علماء، صلحاء، عرفاء و اتقیاء، وقت کے بڑے بڑے اہل فضل و کمال مولانا عطاء اللہ ؒ کے جاں نثار، محب، والہانہ معتقدبن گئے تھے۔

’’ذلک فضل اللہ یؤتیہ من یشاء واللہ ذوالفضل العظیم‘‘

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

Rangonoor Web Designing Copyrights Khabarnama Rangonoor