Bismillah

694


۱۰رمضان المبارک۱۴۴۰ھ

امیرِ شریعتؒ… چند یادیں

امیرِ شریعتؒ… چند یادیں

انتخاب: محمد جواد (شمارہ 588)

امیر شریعت سید عطاء اللہ شاہ بخاری رحمہ اللہ تعالیٰ

امیر شریعت حضرت سیدعطاء اللہ شاہ بخاریؒ کا نام نامی، دل و ذہن اور زبان پر آتے ہی ایمان و یقین اور راسخ العقیدگی کا ایمان پرور احساس پیدا ہوتا ہے۔ امیر شریعت سید عطاء اللہ شاہ صاحب بخاریؒ نے برصغیر کی آزادی، تحفظ عقیدہ ختم نبوت ،اصلاح معاشرہ اور فروغ جذبہ جہاد کے لئے صبر آزما،باوقار ،دلیرانہ اور شاندار جدوجہد کی ،وہ ہماری دینی، ملی اور سیاسی تاریخ کا قابل فخر باب ہیں۔ وقت اور حالات کیسی بھی کروٹ لے لیں مستقبل کا مؤرخ شاہ جیؒ کی اس جدوجہد کا تذکرہ اور اعتراف کئے بغیر آگے نہیں بڑھ سکتا ۔ آپؒ نے اپنی اس طویل جدوجہد میں برصغیرکے کونے کونے ،قریہ قریہ اور بستی بستی کادورہ کیا۔ہر جگہ اور ہر مقام پر مسلمانوں کو قرآن اور حدیث کی بنیاد پر اپنے لحن دائودی میں دعاء کلمۃ الحق کا درس دیا۔ آپ کی خطابت کا حسن آپ کی خوبصورت شخصیت کا عکس جمیل لئے ہوئے تھا، آپ کو قدیم و جدید مدعیان نبوت سے سخت عداوت تھی،جدیدیت سے مرعوب طبقہ نے اسے مذہبی تنگ نظری قرار دیا مگر حق کے پیروکار کو یہ تعصب نہ تھا اور نہ ہے بلکہ یہ رسول اللہﷺ کی محبت کی انتہا ہے جو امیر شریعتؒ کے دل ودماغ میں کارفرما تھی،جب لائوڈاسپیکر ایجاد نہ ہوئے تھے تو بخاریؒ کی آواز بلندی سے رسول کریمﷺ کے مبارک اور محترم زمانہ کے ہاشمی یاد آتے تھے جن میں حضرت نبی کریمﷺ کے عم محترم حضرت عباس رضی اللہ عنہ کی آواز، جیسا کہ علمائے تفسیر نے لکھا ہے کہ تقریباً دومیل تک پہنچتی تھی   ؎

دارا و سکندر سے وہ مرد فقیر اچھا

ہو جس کی فقیری میں بوئے اسد اللہٰی

( اقبالؒ)

شاہ جیؒ کی تقریر بقول حضرت حکیم الامت مولانا اشرف علی تھانویؒ عطاء الہٰی ہوتی تھی، امام الہندابو لکلام آزادؒ نے فرمایا کہ شاہ جیؒ کے زور بیان پر برصغیر کا گوشہ گوشہ ان کا شکرگزار ہے، حضرت سید انور شاہ کشمیریؒ نے آپ کو امیر شریعت کے لازوال خطابت سے یاد فرمایا ،حضرت علامہ اقبالؒ نے آپ کو اسلام کی چلتی پھرتی تلوار سے یاد کیا۔ شیخ الاسلام سید حسین احمد مدنیؒ نے فرمایا کہ شاہ جیؒ کا دل صرف اسلام کے لئے دھڑکتا ہے۔ حضرت شیخ التفسیر مولانا احمد علی لاہوریؒ نے کہا کہ حضرت شاہ جیؒ سب سے بڑے اولیاء میں سے تھے۔ حضرت حکیم الاسلام قاری محمد طیبؒ نے آپ کی خدمات کو ہمیشہ کے لیے یادگار قرار دیا۔ مولانا محمد علی جوہرؒ نے مراد آباد کے اجلاس میں اعلان کیا: شاہ جی ؒ مقرر نہیں ساحر ہیں۔ مولانا شوکت علیؒ بولے تو فرمایا: کہ عطاء اللہ شاہ بولتے نہیں موتی رولتے ہیں۔ خواجہ حسن نظامیؒ نے دیکھا تو فرمایا کہ انہیں دیکھ کر تو قرون اولیٰ کے مسلمان یاد آتے ہیں۔ مولانا حسرت موہانی نے فرمایا کہ شاہ جیؒ بڑی خوبیوں کے مالک ہیں اور ممتاز مجاہد آزادی ختم نبوت آغاشورش کا شمیریؒ مرحوم نے شاہ جیؒ کو عہد صحابہ کی یادگار سے تشبیہ دے کر حقیقت بیان کردی۔

ایک زمانے میں مجھے حضرت امیر شریعت کے ساتھ کئی ماہ تک تبلیغی جلسوں میں شرکت و خدمت کی سعادت حاصل رہی جس کی تفصیل کسی اور وقت عرض کروں گا۔ ان ابتدائی کلمات کے بعد حضرت کی چند مشہورتقاریر کے اقتباسات جنہیں یقینا نوادرات کا درجہ حاصل ہے نیاز مندانہ و تشنگان بخاریؒ کے لئے پیش کرنے کی توفیق حاصل کررہا ہوں یہ سلسلہ ان شاء اللہ وقتاًفوقتاً جاری رہے گا۔ حضرت امیر شریعت نے فرمایا:

 عقیدہ

’’یہ ایک عربی لفظ ہے جسے یقین یاگرہ کہہ لیجئے، عقیدہ ایک دل کی گرہ ہے جسے بھی پڑجائے، دل کا خیال ہے جیسا بھی آجائے، یوں سمجھئے! آپ اپنے بچے کی شادی کرتے ہیں اس کی عورت کو اپنے گھر لاتے ہیں اب اگر وہ عورت آپ کے گھر آنے کے بعد یہ خیال شروع کردے شاید میں یہاں رہوں نہ ہوں؟تو فرمائیے وہ گھر آباد رہ سکتاہے، گھروہی آباد ہوتاہے جس گھر میں آنے والی عورت پہلے ہی دن یہ فیصلہ کرلے کہ اب تو میں اس گھر میں رہوں گی مجھے یہیں رہنا ہے بس اسی فیصلہ کا نام عقیدہ ہے، تو اس صورت میں عقیدہ بنیاد ہوگیا۔ حضرت مولانا سید محمد انور شاہ صاحبؒ نے ایک دفعہ فرمایا کہ جب آدمی کو کوڑھ لگ جائے پھر اس کو جتنی اعلیٰ سے اعلیٰ اور اچھی سے اچھی غذا دی جائے گی اس کا بدن گلتا جائے گا پھر مرض بڑھتا رہے گا کم نہیں ہوگا۔یہ طب کا ایک مسئلہ ہے کہ اس مرض کی صورت میں کبھی اصلاح نہ ہوگی ، ایسے ہی آدمی کا عقیدہ خراب ہوجائے تو سمجھ لیجئے کہ اس کی روح کو کوڑھ لگ گیا ہے۔ اب چاہے کتنے اچھے عمل کرتا رہے، اصلاح نہ ہو گی ،یونہی دوزخ کے قریب ہوتا جائے گا۔( ملتان کانفرس سے خطاب)

عظمت قرآن

تم تاریخ کو مانتے ہو اور مقدس کتاب کو ٹھکراتے ہو؟ شاعری اور غزلیں تمہارے ہاں مسلّم ہیں، بے ہودہ اور فضول دوہڑوں پر تمہارا اعتماد ہے، ایک قرآن ہے جسے تم ہر قدم نظر انداز کرتے ہو۔ آج اگر دنیا قرآن مجید کا انکار کر کے مسلمان رہ سکتی ہے تو میں قرآن کے مقابلہ میں غلط تاریخ کا انکار کرکے کیوں مسلمان نہیں رہ سکتا؟میرا بس چلے تو دنیا کی ان تمام کتابوں کو آگ لگا دوں جو قرآن پاک سے دور لے جارہی ہیں۔

 دنیا قرآن کو کیا سمجھتی ہے ؟میرے دل میں کئی مرتبہ یہ جذبات بکھرے ہیں کہ میرابس چلے تو کسی آل ورلڈ ریڈیواسٹیشن سے ساری دنیا کے انسانوں کو اللہ کا پاکیزہ کلام قرآن مجید سنائوں اور دنیا کو چیلنج کروں کہ قرآن کے مقابلہ میں ایسا پاکیزہ کلام لائو۔( تاریخی خطاب ملتا ن کانفرنس)

سیرت رسول اللہﷺ

اسلام ایک ایسا قانون فطرت ہے جس نے زندگی کو اس کی اصل اور اعلیٰ اقدار بخشی ہیں، دنیا کے کسی مذہب نے مصلیٰ اور تلوار اکٹھے نہیں کئے یہ شرف اسلام ہی کو حاصل ہے۔ ایک ایسے دین کے متعلق کہنا کہ وہ اصول سلطنت اور معاشرت انسانی کے نظم ونسق کی دفعات نہیں رکھتا بہت بڑی کوتاہی ہے اور یہی اصل کفر ہے۔ یہ کمال تو آمنہ کے لالﷺ ہی کو حاصل تھا کہ اس نے فرد سے لے کر جماعت کے جزوی اور اجتماعی قوانین مرتب و منضبط ہی نہیں کئے بلکہ دسترخوان سے لے کر تاج و تخت تک کے قوانین میں رہنمائی فرمائی۔ اس کرئہ ارض میں انسانی زندگی اپنی ہر سانس کے لئے اسوئہ حسنہ کی کتاب سے رہنمائی حاصل کر سکتی ہے۔( تقریر امرتسر ۱۹۴۶؁ء)

دنیا کی جو چیز قرآن پاک سے الگ کرے اسے آگ لگا کر راکھ کر دو، میری تمنا ہے کہ میںریڈیو کے ذریعہ تمام دنیا کو قرآن سنائوں۔(ملتان کی عظیم الشان کانفرنس میں تقریر)

اسلام تین چیزوں کا احاطہ اور مجموعہ ہے۔ اعتقادات، عبادات اور معاملات، اسلام میں سب سے پہلا درجہ اعتقادات کا ہے۔اللہ کا پیغمبر حسب ونسب اور خاندان کے اعتبار سے بلند ہوتا ہے حضورﷺ فرماتے ہیں’’عبدالمطلب کی اولاد میں سے ہوں اور سچانبی ہوں۔‘‘

دو ہی خواہشیں

میں ان سوروں کا ریوڑ چرانے کے لئے بھی تیار ہوں جو برٹش امپر یلزم کو ویران کردیں، میں کچھ نہیں چاہتا ایک فقیر ہوں اپنے آقاﷺ کی سنت پر مرمٹنا چاہتا ہوں اور اگر چاہتا ہوں تو صرف اس ملک سے انگریز کا انخلا۔

 دوہی خواہش ہیں میری زندگی میں یہ ملک آزاد ہوجائے یا پھر میں تختہ دار پر لٹکا دیا جائوں۔

 اولیائے ملتان

یہی ملتان جس نے اپنی آنکھوں کے سامنے مختلف حکمرانوں کے عروج و زوال کا زمانہ دیکھا ہے اس کی سلطنتیں ختم ہوگئیں، مضبوط مستحکم قلعے غائب ہوگئے، محلات کا نام و نشان باقی نہ رہا لیکن مزارات حضرت بہائوالحق زکریاؒ اور شاہ رکن عالمؒ کے قبے آپ کو کیوں نظر آرہے ہیں یہ اس لئے کہ ان کے نیچے جو بنیادیں ہیں وہ مضبوط ہیں، اگر کمال ہے تو صرف مکین کا( حضرت بہائو الحق زکریاؒ ملتانی کے اجتماع کے موقع پر تقریر)

۱۹۲۷؁ء میں مہاشہ راجی پال نے رسول اللہﷺکی شان میں گستاخی کی جس سے پورے برصغیر کے مسلمانوں پر قیامت ٹوٹ پڑی، برصغیر ایک شعلہ جوالہ کی طرح بھڑک اُٹھا۔ عدالت عالیہ کے جسٹس دلیپ سنگھ نے مہاشہ راج پال کو قانون کے اصلاحی سقم پر رہا کردیا،حالات نے خطرناک صورت اختیار کرلی، لاہور میں حضرت امیر شریعتؒ کے احتجاجی جلسہ کا اعلان ہوگیا حکومت نے شہر میں ۱۴۴ کا نفاذ کر کے جلسہ کو بند کرنا چاہا مگر حضرت امیر شریعتؒ نے معینہ وقت پر جلسہ کیا اور اس وقت لاہور کے ڈپٹی کمشنر مسڑار گلوی کو مخاطب ہو کر کہا:’’ارگلوی اوکھے گھرنیوندراپایا ای‘‘اسی جلسہ میں حضرت مفتی اعظم کفایت اللہ صاحبؒ، مولانا احمد سعیدؒ بھی شریک تھے جلسہ ایک احاطہ میں کیا گیا احاطہ کے دروازہ پر مسلح پولیس کا پہرہ تھا اور حضرت امیر شریعتؒ نے تقریر کرتے ہوئے فرمایا:

’’آج لوگ حضرت ختم رسل محمدﷺ کی عزت و ناموس کو برقرار رکھنے کے لیے جمع ہوئے ہیں آج جنس انسان کو عزت بخشنے والے کی عزت خطرے میں ہے جس کی دی ہوئی عزت پر تمام موجودات کو ناز ہے۔‘‘

ایک مسلمان جو غیرت ایمانی سے معمور تھا اُٹھا اور راجپال کو واصل جہنم کر کے تخت دار پر جھول گیا جس ناموس کا تحفظ قانون نہ کرسکا اس کے تحفظ کے لیے مشیت ایزدی نے غازی علم دین شہید کو منتخب کرلیا (لاہور میں خطاب ۱۹۲۷ء)

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

Rangonoor Web Designing Copyrights Khabarnama Rangonoor