Bismillah

694


۱۰رمضان المبارک۱۴۴۰ھ

حضرت مولانا سید عطاء اللہ شاہ بخاری علیہ الرحمۃ

حضرت  مولانا سید عطاء اللہ شاہ بخاری علیہ الرحمۃ

حافظ محمد اکبر شاہ صاحب بخاری (شمارہ 589)

امیر شریعت سیدعطاء اللہ شاہ بخاریؒ یوم جمعہ بوقت سحر ۱۴ ربیع الاول ۱۳۰۱ھ کو پٹنہ صوبہ بہار( بھارت) میں پیدا ہوئے ،آپ کے والد صاحب کا نام حافظ ضیاء الدین اور دادا کا نام سیدنورالدین احمد تھا،آپ کا سلسلہ نسب چھتیسویں پشت میں حضرت سیدنا امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے جاملتا ہے، ابتدائی تعلیم آپ نے اپنے نانا سے حاصل کی اور قرآن کریم بھی ان ہی سے حفظ کیا، قرأت قاری سید عمر عاصم عرب سے سیکھی،پٹنہ سے پنجاب منتقل ہوئے تو راجووال میں قاضی عطا محمدصاحب کے مدرسہ میں پڑھتے رہے، اس کے بعد ۱۹۱۴ء میں امر تسر آگئے اور وہاں مولانا نوراحمد امر تسریؒ سے قرآن پاک کی تفسیر پڑھی ،فقہ اور اصول فقہ کی تعلیم حضرت مولانا غلام مصطفیٰ قاسمی سے حاصل کی اور حدیث کی تعلیم حضرت مولانا مفتی محمد حسن صاحب امرتسریؒ بانی جامعہ اشرفیہ لاہور سے حاصل کی۔ آپ سب سے پہلے حضرت پیر سید مہر علی شاہ صاحب گرلڑہ شریف والوں سے بیعت ہوئے ۔پیر صاحبؒ نے قرآن ووظائف پڑھنے کی تلقین فرمائی، حضرت پیر صاحبؒ کی مرض الوفات کے موقعہ پر جب آپ حاضر خدمت ہوئے اور عرض کیا: حضرت! کوئی نصیحت فرمائیے، اس وقت پیر صاحبؒ عالم جذب میں تھے فرمایا:’’اتباع شریعت‘‘

ان کے وصال کے بعد آپ حضرت مولانا شاہ عبدالرحیم رائپوری قدس سرہ کے خلیفہ اور جانشین حضرت مولانا شاہ عبدالقادررائپوریؒ سے دوبارہ بیعت ہوئے اور خلافت سے مشرف ہوئے، حضرت رائپوری آپ سے بہت محبت فرماتے تھے۔ جب شاہ جی کے انتقال کی خبر حضرت رائپوریؒ کوپہنچی تو بے اختیار روپڑے اوررونے میں آواز تک نکل گئی۔ مولانا قاری محمد طیب صاحب قاسمی مدظلہ کے الفاظ میں:

’’جس کا شیخ اپنے مرید کی وفات پر پھوٹ پھوٹ کرروئے اس کی محبوبیت کی کیا انتہا ہو سکتی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ شیفتگی مرید کی اعلیٰ قابلیت کا نشان ہوتی ہے اس لئے ماننا پڑے گا کہ حضرت امیر شریعت سید عطاء اللہ شاہ بخاریؒ بے مثال صاحب لسان خطیب ہی نہ تھے بلکہ ایک بے نظیر صاحب دل عارف بھی تھے۔‘‘

آپ ہندوستان کے شعلہ بیان مقرر، عظیم مجاہد اور تحریک آزادی کے نامور کارکن تھے۔

 ہندوستان و پاکستان کا کوئی شہر ہو جہاں آپ نے اپنی سحر آفرین خطابت اور ہنگامہ خیز تقریر سے سوتے ہوئے جذبات کا جگا نہ دیا ہو، پہلی جنگ عظیم کے بعد جب انگریزوں نے ہندوستان میں رولٹ ایکٹ نافذ کیا تو ملک میں غم و غصہ کی لہردوڑ گئی اور اسی غم وغصہ کا نتیجہ جلیا نوالہ باغ کے حادثہ کی شکل میں رونماہوا۔ ان حالات نے آپ کو سیاست کے میدان میں لاکھڑا کیا، تحریک عدم تعاون نے جب شدت اختیار کی تو آپ نے برصغیر کو کے کونہ کونہ میں اپنی سحر انگیز خطابت کے موتی بکھیردیئے۔ اس طرح آپ مذہبی واعظ سے سیاسی مقرر بن گئے۔ پھر حضرت مولانا دائود غزنویؒ کی تحریک پر خلافت کی تحریک میں شامل ہوگئے اور مولانا ابوالکلام آزاد کے رسالہ ’’الہلال‘‘ اور مولانا ظفر علی خان کی کتاب’’ستارہ صبح‘‘ کے مطالعہ نے شاہ جی کے دل پر گہرا اثر کیا اور دیکھتے ہی دیکھتے شاہ جی ملک و ملت کے ایک عظیم خطیب اور قائد بن گئے۔ شاہ جی نے چالیس برس تک تنہا شرک و بدعات، رسومات اورتمام سماجی برائیوں کے خلاف مسلسل جہاد کیا، انگریزوں کو ناک چنے چبوائے اور مرزائیت کو شکست فاش دی، ان کے علاوہ دریدہ دہن آریہ سماجیوں کو ہمیشہ کے لئے خاموش کردیا۔ فرنگی کے خلاف شاہ جی کی زبان سے الفاظ نہیں شعلے برستے تھے،ان کی آنکھیں گہری سرخ ہوتیں اور سننے والے ہر لب پر صدائے تحسین اور ہر آنکھ میں آنسو ہوتے، ان کی تقریر نہ ہوتی تھی بلکہ ساحرانہ فن کاری کا مخلصانہ گہوارہ ہوتی تھی ،حلقہ احرار کی تاریخ اگر مرتب کی جائے تو اس کی مجموعی قربانی کا نام’’سیدعطاء اللہ شاہ بخاریؒ‘‘ ہوگا۔

بہرحال آپ بلند مرتبہ اجتہادی شان اور مقبولیت عوام کے اونچے اونچے معیار کے باوجود عجزو انکساری کا دامن سنبھالے درویشانہ زندگی بسر کرتے رہے اور دنیا کی کوئی نقرئی دلفریب کاری انہیں متاثر نہ کر سکی۔

 آزادی وطن کے حصول اور ختم نبوت کی حفاظت کے لئے جوشاہرائہ کار انہوں نے متعین کرلی تھی آخری سانس تک اسے نبھاتے رہے اور بالآخر یہ مرد حق ۹ ربیع الاول ۱۳۸۱ھ مطابق ۲۱ اگست ۱۹۶۱ء کو اپنے خالق حقیقی سے جا ملا۔

 اولاد میں چار فرزنداور ایک دختر یادگار چھوڑیں۔

رحمہ اللّٰہ رحمۃ واسعہ

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

Rangonoor Web Designing Copyrights Khabarnama Rangonoor