Bismillah

694


۱۰رمضان المبارک۱۴۴۰ھ

سیدعطاء اللہ شاہ بخاریؒ

سیدعطاء اللہ شاہ بخاریؒ

ڈاکٹر محمدعمر فاروق (شمارہ 590)

برطانوی سلطنت کی وسعت کے پیش نظر کہاجاتاتھاکہ اُس کی سلطنت میں سورج غروب نہیںہوتالیکن چشمِ فلک نے یہ انوکھانظارہ حیرت واِستعجاب کی نظروںسے دیکھاکہ حریت مآب دیوانوں کی قربانیوں کی بدولت فرنگی استعمارکوکہ جس کی زمین پر سورج غروب نہیں ہوتا تھا ،ہندوستان آزاد کرناپڑا اَوربرطانیہ آج اپنے ہی ملک میں سورج کی ایک ایک کرن کو ترستاہے۔ ۱۸۵۷ء کی جنگ آزادی کو کچلنے کے بعدبرطانوی استعمارہندوستان کے تخت پربلاشرکتِ غیر براجمان ہوااَور اُس نے تحریک آزادی میں شریک علما،مجاہدین ،طلبا اورعام شہریوں کو لاکھوں کی تعداد میں موت کے گھاٹ اُتارا۔

سیّد عطاء اللہ شاہ بخاری رحمتہ اللہ علیہ اُنہی عزم وہمت کے پالے مجاہدین آزادی کے باغیرت جانشین تھے ۔ جنہوں نے ہندوستان کی دھرتی پر اَنگریزکے تسلط کو مستردکرتے ہوئے اِنِ الحکم الا للہ کا نعرئہ رستاخیز بلندکیااوراِس پُرعزیمت راہ میںہر صعوبت و آزمائش کو جھیلنے کا عزمِ نو کیا۔ حیرت ہوتی ہے کہ سیّد عطاء اللہ شاہ بخاریؒجیسے نہتے اوربے وسیلہ مجاہدین آخر کس مٹی سے بنے تھے! کہ وہ انگریزی استبداد کے مصائب وآلام ،دارورَسن اورظلم و سفاکی کا مردانہ وارمقابلہ کرتے اوراُس کے نتیجے میںاَپنی ناتواں جانوں پر ظلم کا ہروَارسہتے ،مگرآزادی وطن کی خاطرکسی بھی کڑی آزمائش کو لبیک کہنے سے بازنہ آتے تھے قومی غیرت اوردینی حمیت ہی قوموںکو سراُٹھاکر جینے کا شعوردِیاکرتی ہے۔ واقعہ جلیانوالہ باغ(۱۹۱۹ء )سید عطا ء اللہ شاہ بخاری کی سیاسی زندگی کا نقطہء آغازثابت ہوا۔سفاک جنرل ڈائرنے جب سینکڑوں بے گناہ ہندوستانیوںکے سینے گولیوں سے چھلنے کردیے تو سید عطاء اللہ شاہ بخاری کے دل میں حکومت برطانیہ کے متعلق نفرت کے شدید جذبات پیداہوگئے ۔تحریک خلافت کے دوران سید عطاء اللہ شاہ بخاری نے اپنی بے مثال ساحرانہ خطابت کے ذریعے ہندوستان بھر میں برطانوی حکومت کے خلاف بغاوت کی آگ بھڑکادی ۔صرف ضلع گجرات میںہی انہوںنے تنِ تنہا پانچ سوخلافت کمیٹیاں قائم کرکے پورے ضلع کو آتشِ جوالہ بناکررَکھ دیاتھا۔۱۸۵۷ ء کے معرکہ کے بعد تحریک خلافت ہی وہ ملک گیر اِحتجاجی سلسلہ تھا،جس نے تمام ہندوستانیوں کوبلاتفریقِ مذہب ایک لڑی میں پرودِیا اوراُن کے رگ وپے سے غیرملکی حکمرانوں کا رُ عب ودَبدبہ نکال کررَکھ دیاتھا۔جس کے لیے دیگر رہنماؤںکے شانہ بشانہ بنیادی کردارسیّد عطاء اللہ شاہ بخاری کا تھاجو ہماری ملّی تاریخ کا ایک ایساروشن باب ہے کہ جس پر ہم بجاطورپر فخر کرسکتے ہیں۔

۳ ستمبر۱۹۳۹ء کو جنگ عظیم دوم کا آغازہواتو ہندوستان کی تما م سیاسی جماعتیں انگریز سے تعاون یااُس کی مخالفت کرنے کے بارے میں اُس وقت تک کسی فیصلہ پر پہنچ نہ پائی تھیں،لیکن سید عطا ء اللہ شاہ بخاری نے اِس جنگ کو سامراجی جنگ قرار دیتے ہوئے اِس کے خلاف پہلی آواز بلندکی۔ سید عطا ء اللہ شاہ بخاری کی قیادت میں تحریک فوجی بھرتی بائیکاٹ کے اجراکا اعلان ہوا اور کارکن ڈیفنس آف انڈیا ایکٹ کی دھجیاں اُڑاتے ہوئے جیلوں کو آبادکرنے لگے ۔ اپریل ۱۹۳۹ء کو پشاورمیں آل انڈیاپولٹیکل احرارکانفرنس منعقدکی گئی۔جس میںچودھری افضل حق مرحوم نے جنگ عظیم دوم کے چھڑنے کی پیشگوئی کی تھی اوراَنگریزپر کاری ضرب لگانے کے لیے اپنی مستقبل کی پالیسی کا اعلان کیا تھا۔اِسی کانفرنس میں طے شدہ لائح عمل کے مطابق ہی جنگ شروع ہونے کے صرف ایک ہفتہ بعد مجلس احراراسلام کی مجلس عاملہ نے برطانوی استعمارکو فوجی بھرتی نہ دینے کی تاریخی قرارداد منظورکی تھی۔اِس قرارداد کی روشنی میں سید عطا ء اللہ شاہ بخاری اوراُن کے رفقائے کارنے ہندوستان کے ہرمقام کے دورے کرنے کے علاوہ پنجاب کے فوجی بھرتی کے حامل اہم اضلاع سرگودھا ،گجرات ،جہلم ،اٹک ،میانوالی ،راولپنڈی وغیرہ میں اپنی تقاریر میں فوجی بھرتی نہ دینے کا درس دیا۔جس کے نتیجے میں دورہ کے اختتام پر اَنگریز اَوراُس کے کاسہ لیس سرسکندرحیات کی یونینیسٹ حکومت نے بوکھلاکر سیدعطا ء اللہ شاہ بخاری کو گرفتارکرکے اُن پر رِعایاکوحکومت کے خلاف بغاوت پر اُکسانے کا کیس دائرکردیا۔جس کی سزاپھانسی سے کم نہ تھی اوریہی انگریز اوراُس کے ایجنٹوںکا مقصودتھالیکن حکومتی مشینری کی تمام تر پشت پناہی کے باوجودعدالت میں سی آئی ڈی کے سرکاری رپورٹر لدھارام کی صاف گوئی نے سید عطا ء اللہ شاہ بخاری کے حق میں پانساپلٹ دیا اوروہ ۷جون ۱۹۴۰ء کوباعزت بری ہوگئے ۔ سیّد عطا ء اللہ شاہ بخاریؒنے انگریزی استبدادکے تناورشجر کی جڑوں کو کاٹنے والی ہر تحریک میں ہراول دستہ کاکرداراَداکیا۔اُنہوں نے اپنی اِس بے نظیر صلاحیت کے ذریعہ ہندوستان کے لاکھوں افراد کے قلوب واَذہان سے انگریزی حاکمیت کا خوف کھرچ ڈالا اوراُنہیں آزادی کے مفہوم ومعنیٰ سے آشناکرکے عملاً تحریک آزادی میںشمولیت پر آمادہ کیا۔

وہ فرمایاکرتے تھے: میں ایک فقیرہوں۔اپنے نانا صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت پر کٹ مرناچاہتاہوںاوراَگر کچھ چاہتاہوں تو اِس ملک سے انگریز کا انخلا۔میری دوہی خواہشیں ہیں:میری زندگی میں یہ ملک آزادہوجائے یاپھرمیں تختہء دارپر لٹکادیاجاؤں۔میں اُن علمائے حق کا پرچم لیے پھرتاہوںجوء میں فرنگیوں کی تیغِ بے نیام کا شکارہوئے تھے ۔ربِ ذوالجلال کی قسم ! مجھے اِس کی کچھ پروانہیں کہ لوگ میرے بارے میں کیاسوچتے ہیں؟لوگوں نے پہلے ہی کب کسی سرفروش کے بارے میں راست بازی سے سوچاہے؟ وہ شروع سے تماشائی ہیںاورتماشادیکھنے کے عادی۔میں اِس سرزمین میں مجدداَلف ثانی کا سپاہی ہوں۔شاہ ولی اللہ اورخاندانِ ولی اللّٰہی کامبلّغ ہوں۔ اللہ تعالیٰ نے سید عطا ء اللہ شاہ بخاری کی قربانیوں کا صلہ اُن کودنیا میں بھی دیاکہ انہوں نے انگریز کو ملک چھوڑتے دیکھااورہندوستان ء کوفرنگی کے پنجۂ استبدادسے آزاد ہو گیا۔ اگر ہندوستان آزادنہ ہوتاتو عالم اسلام کی غلامی کا دورجانے کتناطویل ہوجاتا! سیّد عطا ء اللہ شاہ بخاری جن کٹھن حالات میں انگریزی استعمارسے نبردآزماہوئے ۔اُن جانگسل حالات کے تصورسے ہی دل بیٹھ جاتاہے۔

عہدِ حاضرمیںدنیابھرکے مسلمان جن پُر آشوب حالات میں مبتلاہیں اورجس طرح امریکی استعمار کی چیرہ دستیوں کے نرغے میں آئے ہوئے ہیں، اِسے دیکھتے ہوئے سیدعطا ء اللہ شاہ بخاری جیسے مردِ مجاہد کی یادتڑپاکررکھ دیتی ہے کہ جنہوں نے موجودہ حالات سے کئی گنابدتر حالات میں بھی برٹش امپیریلزم کا جی داروں کی طرح مقابلہ کرکے اُسے ہندوستان سے چلتاکیا۔آج سے چھیاسٹھ برس قبل سید عطا ء اللہ شاہ بخاریؒ نے اپنے فرزند حضرت مولانا سیّد اَبوذربخاری رحمۃ اللہ علیہ کو جونصیحت فرمائی تھی ،اُسے آج بھی پیش نظررکھتے ہوئے پاکستان اورعالم اسلام کے استحکام ،تعمیر وترقی اوراپنی قوم کی تربیت کی بنیادیں استوارکی جا سکتی ہیں ۔

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

Rangonoor Web Designing Copyrights Khabarnama Rangonoor