Bismillah

694


۱۰رمضان المبارک۱۴۴۰ھ

پوتا پوتی اور نواسا نواسی کی وراثت کا مسئلہ(۸)

عائلی قوانین شریعت کی روشنی میں بیٹا بیٹی کی موجودگی میں پوتا پوتی اور نواسا نواسی کی وراثت کا مسئلہ (۸)

انتخاب مضامین

مفتی اعظم پاکستان حضرت مفتی ولی حسن ٹونکی نور اللہ مرقدہ (شمارہ 645)

علاوہ ازیں پانچ جلیل القدر صحابہ کرام کا نام خود مصنف شمار کرارہے ہیں جنہوں نے خود اپنایا اپنی نابالغ اولاد کا نکاح نابالغ لڑکی سے کیا یا ایسے نکاح کو جائز رکھا ہے، علاوہ اس کہ چاروں صحابہ عشرہ مبشرہ میں سے ہیں مجمع صحابہ میں سے کسی ایک بھی متنفس کا ان کے اس اقدام پر نکیرنہ کرنا اجماع صحابہ کی کھلی دلیل ہے اس لئے کہ تاریخ سیرت صحابہ شاہد ہے کہ انہوں نے کبھی کسی بڑے سے بڑے صحابی  کے شرعاً ناجائز فعل پر سکوت نہیں کیا اور فوراً ٹوکا ہے اس کے بعد مؤلف خود’’ جو از نکاح صغیر‘‘کی دلیل سورۃ طلاق کی مذکورہ ذیل آیت پیش کرتے ہیں:

واللائی یئسن من المحیض من نسائکم ان ارتبتم فعدتہن ثلاثۃ اشہرواللائی لم یحضن

اور جو تمہاری بیویوں میں سے حیض سے مایوس ہوچکی ہوں تو اگر تم کو( ان کی عدت کے بارے میں) شبہ ہو تو( سن لو) ان کی عدت تین مہینے ہے اور ایسے ہی جن کو ابھی حیض نہیں آیا ہے

 اس آیت قرآنی میں ان مطلقہ عورت کی عدت کی مدت کا ذکر کیاگیا ہے جن کو( بوجہ کبر سنی) حیض آنا بند ہوگیا ہو یاجن عورتوں کو( بوجہ صغرسنی) حیض نہ آتا ہو، عدت کا شرعی سبب نکاح ہے( ص ۳۳ سے ص ۴۴ تک)اگر صغیرہ کا نکاح جائز نہ ہو تا تو عدت بعد طلاق کیونکر واجب ہوتی ؟

اس آیت کریمہ میں واللا ئی لم یحضن سے مراد جمہور مفسرین عہد صحابہ سے لے کرآج تک اس پر متفق ہیں کہ اس سے مراد’’صغیر السن نابالغ لڑکیاں ہیں‘‘ عمر احمد عثمانی کے سوا دنیا کے کسی مفسر اور مترجم قرآن نے اس کے علاوہ نہ کوئی تفسیر کی ہے نہ ترجمہ، خاص کر جبکہ عربیت کا مسلمہ قاعدہ ہے کہ حرف لم فعل مضارع پر داخل ہو کر اس کو ماضی بنادیتا ہے ،ایک میزان الصرف کا پڑھنے والا طالب علم بھی لم یخصن کا ترجمہ یوں کرے گا ’’جن کو حیض نہیں آیا زمانہ گذشتہ میں‘‘قرآن کریم میں کھلی ہوئی تحریف کرتے ہیں جو یہ کہتے ہیں کہ اس سے مراد’’وہ ذوات الحیض( حیض والی) عورتیںہیں جن کو کسی عارض مرض وغیرہ کی وجہ سے حیض نہ آیا ہو، یہی وجہ ہے کہ خودمؤلف اس دلیل کے خلاف ایک لفظ نہیں لکھ سکے لہٰذا آیت کریمہ جواز نکاح صغار ( کمسنی کی شادی کے شرعاً جواز میں) نص صریح اور قطعی حجت ہے۔

 باقی رہی آیت کریمہ حتی اذا بلغواالنکاح اس آیت کو ممانعت نکاح صغار( کمسنی کے شادی کی ممانعت) یاتعیین عمر نکاح سے دور کابھی تعلق نہیں، ہم پوری آیت کریمہ نقل کرتے ہیں تاکہ اس استدلال کی حقیقت کھل جائے ارشاد ہے:

ترجمہ’’اور مت پکڑادو بے عقلوں کو اپنے وہ اموال جن کو بنایا ہے اللہ نے تمہارے لئے قیام (و بقائ) کا ذریعہ اور ان کو اس میں سے ( اچھی طرح) کھلائو پہنائو اور کہو ان سے( سمجھائو ان کو) معقول بات اور سدھارتے رہو( تربیت کرتے رہو) یتیموں کو یہاں تک کہ جب پہنچیںنکاح کی عمر کو تو اگر تم ان میں ہوشیاری ( اور سمجھ بوجھ) محسوس کرو تو ان کے مال ان کے حوالے کردو۔

 پوری آیت کو پڑھ کر اہل علم تو کیا ہرار دوخواں آدمی بھی یقین کرے گا کہ آیت کریمہ کا تعلق ولایت اموال سے ہے نہ کہ ولایت نکاح و ازواج سے ،کہ یتیموں کے اولیاء کا مال ان کے حوالے اس وقت کریں جب وہ بالغ ہوجائیں اور روپے پیسے کی اہمیت کو سمجھنے لگیں تاکہ وہ کمسنی اور ناسمجھی کی بناء پر روپیہ ضائع نہ کردیں یہ قومی سرمایہ کا ضیاع ہے، چنانچہ صرف بالغ ہوجانے پر ہی مال حوالہ کردینے کا حکم نہیں ہے اس کے بعدفان انستم منھم رشداً رشداً کی بھی شرط لگادی گئی ہے کہ برابر تربیت کرتے اور تجربہ کرتے رہو بالغ ہونے پر اگر دیکھو کہ اتنی ہوشیاری آگئی ہے کہ مال کو ضائع نہیں کریں گے تب حوالہ کردو ورنہ بالغ ہونے پر بھی حوالہ نہ کر و اور ہوشیاری پیداہوجانے کا انتظا کرو۔ چنانچہ حجر علی الیتیم سب کے ہاں مسلم ہے، خود مؤلف کی حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی پیش کردہ حدیث اس امر کی دلیل ہے کہ نکاح سے مراد بلوغ جسمانی ہے نہ کہ عقلمند ہونا۔

بہرحال یہ آیت کریمہ صرف ولایت اموال یتامیٰ سے متعلق ہے اور ولایت نکاح کواس پر قیاس کرنا حسب ذیل وجوہ سے قیاس مع الفارق ہے۔

 ۱)یتیموں کے اموال سے صرف یتیموں کے حق کے متعلق اولیاء کا کوئی بھی حق یتیموں کے اموال سے متعلق نہیں چنانچہ اولیاء یتامیٰ کو ان کے اموال میں وہی تصرفات کرنے کی اجازت ہے جو یتیموں کے مفاد میں ہواس کے برعکس کسی بالغ یا نابالغ لڑکے یا لڑکی کے نکاح سے براہ راست اہل خاندان( عصبات ) کا حق متعلق ہے اورا تنا قوی حق ہے کہ اگر بالغ لڑکا یا لڑکی اپنے اہل خاندان کی مرضی کے بغیر آپس میں نکاح کربھی لیں تو اگر اس نکاح سے خاندان کو عار لاحق ہوتا ہو اور خاندانی ناموس پر حرف آتا ہو تو وہ عدالت سے حق کفائت کی بنیاد پر اس نکاح کو فسخ کراسکتے ہیں اگر چہ وہ نکاح لڑکایا لڑکی کے صد فی صد مفاد میں ہو اور عدالت کو حق کفائت کی بنیاد پر ایسا نکاح فسخ کرنا پڑے گااس لئے خاندانوں کویہ حق اللہ تعالیٰ نے براہ راست دیا ہے ارشاد ہے:

یاایھاالناس انا خلقنا کم من ذکر و انثی و جلعنا کم شعوبا و قبائل لتعارفوا( الحجرات ع۲)

اے لوگو بے شک ہم نے تم کو بنایا( پیدا کیا) ایک مرد( باپ) اور ایک عورت( ماں) سے اور بنائیںتمہاری ذاتیں اور قبیلے( یعنی ذاتوں اورقبیلوں میںتقسیم کردیا) کہ تم آپس میں ایک دوسرے کو پہچانو۔

اس کنبہ قبیلہ کی پہچان کا موقعہ اور خاندانی عزت و آبرو کی حفاظت کا وقت یہی اولاد کی شادیوں کا مرحلہ ہے اسی لئے نکاح کے وقت کفائت متناکحین کے مفاد سے قوی تر موثر کی حیثیت سے سامنے آتی ہے اورعدالت نکاح کو فسخ کردیتی ہے۔ خود مصنف عدالت سے کمسنی کی شادی کی اجازت دینے کی سفارش اسی بنیاد پرکرتے ہیں فرماتے ہیں:

اور کفوہر وقت دستیاب نہیں ہوتا اگر ولی بالغ ہونے کا انتظار کرے تو کفو کے ہاتھ سے نکل جانے کا اندیشہ ہے کہ وقت پر اس لئے نکاح کی حاجت نابالغی میں بھی پیدا ہو سکتی ہے اور جب حاجت پیدا ہوجاتی ہے

(جاری ہے)

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

Rangonoor Web Designing Copyrights Khabarnama Rangonoor