Bismillah

694


۱۰رمضان المبارک۱۴۴۰ھ

پوتا پوتی اور نواسا نواسی کی وراثت کا مسئلہ(۹)

عائلی قوانین شریعت کی روشنی میں بیٹا بیٹی کی موجودگی میں پوتا پوتی اور نواسا نواسی کی وراثت کا مسئلہ (۹)

انتخاب مضامین

مفتی اعظم پاکستان حضرت مفتی ولی حسن ٹونکی نور اللہ مرقدہ (شمارہ 646)

تو ولایت قائم ہو جاتی ہے، لیکن اس پیرا گراف کے ابتدائی حصہ میں کفائت کو سن اولاد کے مفاد میں داخل کرنے کی کوشش کرنا غیر شرعی ہے اور اس بنیاد پر نابالغ اولاد کی شادی کی اجازت کے لئے عدالتوں کی طرف رجوع کرنے کی ضرورت پیدا کرنابناء فاسد علی الفاسد ہے۔ سنئے ارشاد فرماتے ہیں: جہاں تک نابا لغو ں کی ضرورت کا تعلق نکاح کی جملہ مصلحتوں میں سے … ایک مرد وعورت میں موافقت ہے اور یہ مقصد کوئی شی اس قدر پورا نہیں کرتی جتنا کفوسے نکاح۔ یہ وجہ خود مصنف کی تصریح کے اعتبار سے غلط ہے وہ خود دفعہ ۵۹ ص ۲۷۱ پر لکھتے ہیں: دراصل کفائت اولیاء کے حق کی بنا پر ہے نہ عورت کے حق کی بناء پر، اس لئے اولیاء کو معقول وجہ کے سبب اعتراض کا حق دیا گیا ہے۔

 اسی طرح اپنی ان پندرہ اصلاحی تجاویز کے ذیل میں جورائج الوقت عائلی قوانین اصلاح و ترمیم کی غرض سے انہوں نے پیش کی ہیں تجویز نمبر( ۳) کے ذیل میں حنفی مذہب کے تحت بدون اذن ورضاء ولی باکرہ بالغہ کے جواز نکاح کی سفارش کے ذیل میں فرماتے ہیں:

البتہ مسلم معاشرہ کوانتشار سے محفوظ رکھنے کے لئے اولیاء کے اس حق کو تسلیم کیا گیا ہے کہ اگر کسی لڑکی نے ولی کی اجازت کے بغیر غیر کفو سے نکاح کرلیا ہو یا مثل سے کم پر نکاح کیا ہو جس سے اولیاء کوعار لاحق ہوتو ولی عدالت میں تنسیخ نکاح کادعویٰ دائر کر سکتا ہے …الخ

مؤلف کی ان تصریحات سے بھی ثابت ہے کہ کفاء ت صرف حقِ اولیاء ہے متناکحین کے مفاد یا عدم مفاد پر اس کا مطلق مدار نہیں…ایسی صورت میں وَلی( باپ، دادا) کے صغیرا لسن بچوں کی شادی کے حق کو اس امر کے تعین کرنے کی غرض سے عدالتوں کی اجازت پر موقوف رکھناکہ یہ نکاح نابالغ یا نابالغہ کے مفاد میں ہے یانہیں کسی طرح صحیح نہیں ہو سکتا جیسا کہ وہ دفعہ۴۳ کے ذیل میں ص ۲۱۶، ۲۱۷ پر فرماتے ہیں۔

 البتہ زمانہ حال میں اس کی تعیین کہ پیدا شدہ حاجت نابالغ اور نابالغہ کے مفاد میں ہے عدالتوں کو کرنا چاہئے ۔ باپ اور باپ نہ ہونے کی صورت میں دادا کو خاندانی حق کفاء ت اور نابالغ اولاد کے مفاد ا ت حقوق کی مراعات کے بارے میں باب اور دادا سے بڑھ کر کامل الشفقت عدالتیں ہرگز نہیں ہو سکتیں عدالتوں کو حدیث مرفوع السلطان ولی من لا ولی لہ کی نص صریح کے تحت بدرجہ مجبوری… کیا گیا ہے۔

 ہم نے اس پوری بحث و تنقیح کو خود مؤلف کے اختیار کردہ رہنما اصول اور انکی تصریحات میں محدودرکھا ہے ورنہ تو ہم مولف کے سامنے صرف امام ابو بکر الجصاص الرازی کی کتاب اَحکام القرآن کا ایک اقتباس پیش کرنے پراکتفا کرتے ہیں جویقینا باب پنجم ولایت نکاح کی تشریح میں انکے سامنے امام موصوف فرماتے ہیں: باپ کا اپنے کم سن لڑکے یا لڑکی کا نکاح کردینا: اس مسئلہ میں ہم سلف سے لیکر خلف تک فقہاء امصار( بلادِاسلامیہ) میں سے کسی کا بھی اختلاف نہیں پاتے۔ سب کے سب علماء فقہ ومجتہدین اس کے جواز کے قائل ہیں، بجز اس قول کے جو بشربن الولید نے ابن شبرمہ سے نقل کیا کہ باپ اپنی صغیر السن اولاد کا نکاح نہیں کر سکتا اور ( کہاجاتا ہے کہ) ابو بکر بن الاعصم کابھی یہی مسلک ہے

 اس قول کے باطل ہونے پر علاوہ اس آیت کے جو ہم نے اس سے قبل نقل کی ہے مندرجہ ذیل آیت بھی دلالت کرتی ہے:

 واللائی یئسن من المحیض من نسائکم ان ارتبتم فعدتھن ثلاثۃاشھر واللائی لم یحضن

اس آیت کریمہ میں اللہ تعالیٰ نے نابالغ لڑکی کی طلاق پر صحت کا حکم لگایا ہے اور طلاق اسی وقت صحیح ہوتی ہے جب کہ نکاح صحیح اور نافذ ہو لہٰذا آیت کریمہ سے ثابت ہوگیا کہ نابالغ لڑکی کا نکاح صحیح ہے، پھر صحیح حدیث میں آیا ہے کہ رسول اللہﷺ نے حضرت عائشہ صدیقہؓ سے اس وقت نکاح کیا جبکہ وہ چھ سال کی تھیں یہ نکاح ان کے والد ماجد حضرت ابو بکرؓ نے کیا تھا( احکام القرآن للجصاص  ص ۶۴ ج۲)

کتاب و سنت اور اجماع صحابہ و اجماع امت کے تحت باپ کا اپنی کمسن اولادکا کیا ہوا نکاح قطعا صحیح اور نافذ ہے اگر تھوڑی دیر کے لئے امام مالک کی’’مصالح مرسلہ‘‘ کی آڑ میں’’سماجی مصلحت اور معاشرتی ضرورت ‘‘ کو ہم احکام شرعیہ میں مؤثر مان بھی لیں تو مولف کی تصریح کے مطابق چونکہ یہ مصلحت کتاب و سنت اور اجماع کے منافی ہے اس لئے خود ان کی تصریحات کے مطابق اسکااعتبار ہرگز نہیں کیا جا سکتا اس لئے مولف کو لایخافون لامۃلائم کے حکم ربانی کے تحت کھل کر اس مسئلہ میں مروجہ عائلی قوانین کے خلاف کہنا چاہئے کہ:

’’باپ کے اپنی کم سن اولاد کی شادی کرنے کو خلاف قانون اورقابل سزا جرم قرار دینا شرعا بالکل درست نہیں ہے اور کھلی ہوئی مداخلت فی الدین ہے‘‘

وہ یادرکھیں :افضل الجہاد کلمۃ حق عندسلطان جائز۔ جب انہوں نے مجموعہ قوانین اسلام مرتب کرنے کابیڑا اٹھایا ہے تو یہ جہاد بھی انہیں کرنا ہو گا اور اگر اتنی جرأت اور ہمت نہیں ہے تو اس خارزار میں قدم نہ رکھیں، اللہ نے نہایت معقول اور باعزت ذریعہ معاش عطا فرمایا ہے۔ اس پر اکتفاء کریں مداہنت فی الدین کے مواخذہ سے بچے رہیں گے، اللہ تعالیٰ اس جہاد فی الدین میں ان کو ثابت قدمی اور جرأت و ہمت عطا فرمائیں۔

(ب) اسی کم سنی کی شادی کے سلسلے مؤلف کایہ کہنا بھی صحیح نہیں کہ:

’’دوسری بات جو اس سلسلہ میں ذہن نشین رکھنی چاہئے یہ ہے کہ نابالغوں کی شادیاں کرنا کوئی امر تاکیدی نہیں ہے بلکہ ایک امر مباح ہے، مقتدراعلیٰ یا ملک کا قانون ساز ادارہ معاشرے کے مفاد میں اسکو موقوف ، معطل یامقید کرسکتا ہے… (چند سطر کے بعد)مثال کے طور پر قحط کے سبب عہد فاروقی میں کچھ عرصہ کے لئے چور کے ہاتھ کاٹنے کی سزا کو موقوف کردیاگیاتھا اسی طرح ایک طلاق کو…تین طلاق کا قائم مقام کردیا گیا تھا یا حضرت فاروق اعظمؓ نے مولفۃ القلوب کوزکوٰۃ دینے سے منع کردیا تھا یا اس خوف کی بناء پر کہ کہیں مسلمان اہل کتاب کی آبروباختہ عورتوں میں نہ پھنس جائیں حضرت حذیفہ بن الیمان کو یہود یہ عورت کو نکاح میں رکھنے سے منع کردیا تھا۔‘‘

(جاری ہے)

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

Rangonoor Web Designing Copyrights Khabarnama Rangonoor