Bismillah

694


۱۰رمضان المبارک۱۴۴۰ھ

پوتا پوتی اور نواسا نواسی کی وراثت کا مسئلہ(۱۰)

عائلی قوانین شریعت کی روشنی میں بیٹا بیٹی کی موجودگی میں پوتا پوتی اور نواسا نواسی کی وراثت کا مسئلہ (۱۰)

انتخاب مضامین

مفتی اعظم پاکستان حضرت مفتی ولی حسن ٹونکی نور اللہ مرقدہ (شمارہ 647)

اس پیراگراف کے دوجزوہیں ایک اصول ہے اور دوسرے نظائر ہم ہر دو پر الگ الگ بحث کرتے ہیں

۱) مولف کایہ کہنا کسی طرح صحیح نہیں ہے کہ نابالغوں کی شادیاں کرنا امر مباح ہے، سنت نہیں ہے اس لئے مقتدر اعلیٰ یا ملک کا قانون ساز ادارہ اسکو موقوف، معطل یا مقید کر سکتا ہے۔ بلکہ حقیقت یہ ہے کہ جس طرح فرض، واجب، سنت اور مستحب جہاتِ حکم ہیں۔ یعنی کتاب و سنت وغیرہ اَدلۂ شرعیہ سے ثابت احکام کی نوعیتیں ہیں۔اسی طرح مباح بھی ایک جہت حکم ہے اور علم اصول فقہ کا متفق علیہ ہے کہ جس طرح ادلہ شرعیہ: کتاب و سنت و اجماع وقیاس سے اصل احکام شرعیہ… ثابت ہے اسی طرح یہ جہات بھی انہی ادلہ شرعیہ سے ثابت ہیں مثلا جیسے نکاح کی مشروعیت کتاب و سنت و اجماع سے ثابت ہے اسی طرح اس کے ارکان۔ایجاب وقبول کارکن ہونا۔ شروط۔ مثلا اہلیت نکاح۔ شہود( گواہانِ نکاح) وغیرہ کارکن یا شرط ہو نا بھی انہی ادلہ شرعیہ سے ثابت ہے جیساکہ مؤلف تفصیل سے بحث وتنقیح کر رہے ہیں اور جس حکم شرعی کی اباحت قرآن و حدیث سے ثابت ہو مباح الشرع کہلاتا ہے ایسے مباح امر شرعی پر کسی قانون ساز ادارہ یا مقتدر اعلیٰ( اولی الامر) کو پابندی عائد کرنے کا حق نہیں ہے۔ راقم السطور نے اس مسئلہ پرماہنامہ بینات کے صفحات میں بڑی تفصیل سے…روشنی ڈالی ہے( ملاحظہ فرمائیے ماہنامہ بینات بابت ماہ( صفر ۸۳؁ھ ج ۲ شمارہ ۲) اورسلسلہ میں جناب مولف اور ان کے ہمنوا حضرات کے شبہات کا سیر حاصل جواب دیا ہے۔ اس جواب کا حاصل یہ ہے کہ افعال و امور مباحہ تین قسم کے ہیں:

۱۔ایسے افعال جن کے متعلق شریعت نے کسی قسم کا حکم نہیں دیانہ ان کے کرنے کے بارے میں اور نہ کرنے کے بارے میں ایسے افعال کو مباح الاصل کہا جاتا ہے اور اس حالت کو اباحت اصلیہ کہتے ہیں مثلا سڑک پر اس طرف نہ چلو، ہفتہ میں دو دن قصاب گوشت فروکت نہ کریں، فلاں ملک کا بنا ہوا کپڑا پہنو یانہ پہنو۔

 ۲۔وہ افعال جن کے بارے میںشریعت نے خود بتلادیا کہ تم کواختیار ہے ان کو کرویا نہ کرو ایسے افعال کو مباحِ شرعی کہا جاتا ہے اور اس حالت کو’’اِباحت شرعیہ‘‘ کہتے ہیں۔

۳۔ ایسے افعال جن کے کرنے کے بارے میں تو قرآن و حدیث میں کوئی صریح حکم موجود نہیں ہے لیکن ادلہ شرعیہ میں سے کوئی دلیل اس کی اباحت پردلالت کرتی ہے۔

 حکومت کو صرف پہلی قسم کے افعال میں تصرف کرنے کا حق حاصل ہے وہ اس قسم کے قوانین بنا سکتی ہے کہ دائیں طرف چلو ،بائیں طرف چلو، فلاں ملک کا کپڑا پہنو فلاں ملک کا کپڑا نہ پہنو وغیرہ۔ لیکن دوسری اور تیسری قسم کے مباحات میں اسے تصرف کرنے کا قطعاً حق حاصل نہیں ہے کیونکہ اس سے حکم شرعی میں تبدیلی لازم آئے گی اور اس کا حق اللہ تعالیٰ کے سوا کسی کو نہیں۔ (بینات بابت ماہ صفر ۸۳ھ؁

نظیر:ـ

حضرت عمرؓ نے ایک مرتبہ اپنے عہد خلافت میں یہ قانون بنادیا تھا کہ مہر کی مقدار چار سو درہم سے زیادہ نہ ہو اس پر ایک بڑھیا نے بھر ے مجمع میںکھڑے ہو کر ان کو ٹوک دیا آخر حضرت عمرؓ کو اپنی غلطی تسلیم کرنی پڑی۔

اس واقعہ کی تفصیل حسب ذیل ہے۔ سعید بن منصور نے اپنی سنن میں روایت کیا ہے کہ ایک بار حضرت عمرؓ نے لوگوں کو اس امر کی ممانعت کردی کہ عورتوں کا مہرچار سو سے زائد مقرر نہ کریں اس پر قریش کی ایک عورت نے کھڑے ہو کر اعتراض کیا اور کہا کہ: کیا آپ نے نہیں سنا جو اللہ تعالیٰ نے نازل فرمایا ہے:’’ وآتیتم احداھن قنطارا‘‘( یعنی اور تم نے دیدیا ہوں ان عورتوں میں سے کسی کو بہت سامال ، اس آیت کریمہ سے معلوم ہوتا ہے کہ مہرمیں بہت زیادہ مال بھی دیا جا سکتا ہے) حضرت عمرؓ نے فرمایا:اے اللہ تومجھ کو معاف کردے، عمر سے تو سب ہی زیادہ سمجھدار ہیں پھر منبر پر چڑھ کر فرمایا کہ لوگو! میں نے تم کو چار سودرہم سے زیادہ مہر کے مقرر کرنے سے ممانعت کردی تھی اب جو شخص اپنے مال میں سے جتنا مہر دینا چاہے دے سکتا ہے۔ حافظ ابن کثیر فرماتے ہیں اس روایت کی اسناد قوی ہے( فتح القدیر ج ۱ص ۴۰۷)

جناب مولف غور فرمائیں کہ حضرت فاروق اعظمؓ خلیفہ راشد تھے۔ جناب رسول کریمﷺ نے ان کی اور صدیق اکبرؓ کی اقتداء کا خاص طور پر حکم بھی دیا ہے علاوہ ازیں شریعت کی نظر … میں مہر کی زیادتی کچھ پسندیدہ چیز بھی نہیں ہے تاہم حضرت فاروق اعظمؓ کی تحدید( حد مقرر کرنا) درست نہیں سمجھ گئی کیونکہ مہر کی زیادتی مباحات کی دوسری قسم میں داخل ہے اور قرآنی آیت اس پر دلالت کر رہی تھی ۔

مؤلف کے نظائر پر بحث:

حضرت حذیفہ اور حضرت عمرؓ کے واقعہ کوبھی مولف نے غلط رنگ میں پیش کرنے کی کوشش کی ہے، واقعہ یہ تھاکہ حضرت حذیفہؓ نے شام میں ایک یہودی عورت سے نکاح کرلیا تھا حضرت عمرؓ کو اس واقعہ کی اطلاع وئی تو ان کو لکھ بھیجا کہ اس عورت سے مفارقت اختیار کرلیں اس پر حضرت حذیفہؓ نے حضرت عمرؓ کو لکھا کہ:اتزعم انھا حرام فاخلی سبیلھا( کیا آپ اس عورت سے نکاح حرام سمجھتے ہیں جو میں اسے چھوڑ دو؟) حضرت عمرؓ نے جواب میں تحریر فرمایا:لا ازعم انھا حرام ولکن اخاف ان تو اقعو المومسات منھن( میں اس(یہودی) عورت کے نکاح کو حرام نہیں سمجھتا لیکن مجھے اندیشہ ہے کہ کہیں( ناوافقیت کی بناء پر) پیشہ ور اور بدکارعورتیں تمہارے نکاح میں آجائیں)

(احکام القرآن ص ۳۹۲ ج۱۔ الدر المنشور ص ۲۵۶ ج ۱)

اس واقعہ کی بناء میں کہیں اس کاذکر نہیں کہ حضرت فاروقؓ نے اس قسم کا کوئی قانون بنایا تھا کہ کتابیات سے نکاح نہ کیا جائے صرف حضرت حذیفہؓ بن الیمان صاحب سر رسول اللہﷺ کو ان کے مرتبہ و مقام رفیع کے لحاظ سے ایک مشورہ دیا تھا کہ وہ اجنبی ملک میں ازراہ ناواقفیت سے عائلی فتنہ میں نہ گرفتار ہوجائیں۔

(جاری ہے)

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

Rangonoor Web Designing Copyrights Khabarnama Rangonoor