Bismillah

694


۱۰رمضان المبارک۱۴۴۰ھ

نقد وتبصرہ برکتاب ’’مجموعہ قوانین اسلام‘‘ (۲)

نقد وتبصرہ برکتاب ’’مجموعہ قوانین اسلام‘‘ (۲)

انتخاب مضامین

مفتی اعظم پاکستان حضرت مفتی ولی حسن ٹونکی نور اللہ مرقدہ (شمارہ 649)

آپ ذرا مسلمانوں کی تاریخ پر نظرڈالئے کہ جب تک مسلمانوں کے یہاں نکاح میں آسانیاں تھیں ان میں بدکاری اور بے حیائی عام نہ تھی اور جب سے ان کے یہاں نکاح میں اسلام کی سادگی کی جگہ تکلفات اور خود ساختہ قیود ورسوم نے لے لی اور نکاح ایک عام آدمی کے لیے گراں سے گراں تر ہوگیا تو ہرطرف حیازسوزمناظر نظر آنے لگے اور فواحش کے ارتکاب کی کثرت ہوگئی۔

رہا یہ امر کہ حکومت ایک مباح مستحب فعل کو واجب اور اس کی خلاف ورزی کو قابل تعزیر جرم بنا سکتی ہے تو یہ غلط ہے ،شریعت مطہرہ میں اس کی قطعا گنجائش نہیں۔ جناب مولف مندرجہ ذیل آیات پر ذرا غور فرمائیں

 ام شر عوامن الدین مالم یاذن بہ اللہ

’’ کیا انہوں نے دین میں وہ قانون بنایا ہے جس کی اللہ نے اجازت نہیں دی۔‘‘

 یا ایھا الذین آمنوا لا تقدموا بین یدی اللہ ورسولہ و اتقواللہ ۔ ان اللہ سمیع علیم ( الحجرات پ ۲۶ ع۴)

 اے ایمان والو! اللہ اور اس کے رسول سے تم آگے مت بڑھو اور اللہ سے ڈرتے رہو بیشک اللہ تعالیٰ سننے والا اور جاننے والا ہے۔

یا ایھاالذین آمنوا لا تحرموا طیبات ما احل اللہ لکم ولا تعتدوا۔ ان اللہ لا یحب المعتدین (المائد پ ۷ع۱)

’’ اے ایمان والو! اللہ تعالیٰ نے جوپاکیزہ چیزیں تمہارے لئے حلال کی ہیں ان چیزوں کو حرام مت کرو اور حد سے آگے مت نکلو بلاشبہ اللہ تعالیٰ حد سے نکلنے والوں کو پسند نہیں کرتا۔‘‘

 رہا مصالح کا عذر تو اس کے بارے میں علمائے امت کا فیصلہ یہ ہے:

اذا کان فعل الامام مبنیاعلی المصلحۃ فیما یتعلق بالامور العامۃ لم ینفذ امرہ شرعا الا اذا وافقہ فان خالفہ لم ینفذ( الا شباہ و النظائر)

’’جبکہ حکمراں کا فعل عام امور میں کسی مصلحت پر مبنی ہو تو وہ اس وقت تک نافذ نہیں ہوگا جب تک کہ شریعت کے موافق نہ ہو اور جوشریعت کے خلاف ہوگا وہ نافذ نہیں ہوگا۔‘‘

 علاوہ ازین شرعاً تمام اَرکان و شرائط صحت نکاح موجود اور موانع مرتفع ہونے کی صورت میں نکاح قطعاً جائز اور جنسی اِنتفاع قطعاً حلال ہے اس جائز اور حلال نکاح کو قابل سزا جرم قرار دینا یقینا تحریم حلال کے مرادف ہے اور تحریم حلال و تحلیل حرام شرک اور کفر کا خاص شعار ہے۔ قرآن عظیم فرماتا ہے:

 انما النسیء زیادۃ فی الکفر یضل بہ الذین کفروا یحلونہ عاما ویحرمونہ عاما

’’ اس کے سوا نہیں کہ نسی( مہینوں کو آگے پیچھے کرنا) کفر کی زیادتی کا موجب ہے اس سے وہی لوگ گمراہ ہوتے ہیں جو کافر ہیں وہ( کفار) کسی سال کو حلال کردیتے ہیں اور کسی سال کو حرام کردیتے ہیں۔‘‘

 لہذا ہم قرآنی الفاظ میں مؤلف اور انکی وساطت سے عائلی قوانین کے واضعین و مصنفین کو چیلنج کرتے ہیں کہ و ہ اس نکاح کے ناجائز ہونے کی دلیل پیش کریں:

قل ھلم شھداء کم الذین یشھدون ان اللہ حرم ھذا

’’اے( نبی) کہہ دولائو تم اپنے گواہ جو گواہی دیں کہ اللہ نے اس کو حرام کیا ہے۔‘‘

 یاد رکھئے صرف رجسڑیشن نہ ہونے کی وجہ سے نکاح کو قابل سزا جرم قرار دینے کا لازمی نتیجہ یہ ہے کہ حکومت نہ اس نکاح کو تسلیم کرے گی اور نہ اس نکاح سے پیدا ہونے والی اولاد کے نسب کو تسلیم کرے گی اور نہ والدین کی وفات پر اس اولاد کو ان کا وارث تسلیم کرے گی استغفراللہ۔

 ایک ذراسی مداخلت فی الدین کتنی مداخلتوں کا موجب بنتی ہے اور آپ کی ’’معاشرتی مصالح‘‘ کی رعایت اور ان کے تحت عائلی قوانین کے واضعین کا یہ اِقدام کتنے دوررس اور مہلک تنائج کاموجب بن رہا ہے۔ اسی قسم کی حکم کی ناعاقبت اندیشوں اور انکے مہلک نتائج کے اندیشہ کی بنا ء پر علماء دین نے دومعاشرتی مصالح کی بنا ء پر یہ پابندی لگادی ہے کہ وہ کتاب وسنت کے مخالف نہ ہونی چاہئیں۔ خود مولف اپنے رہنما اصول میں قوسین( بریکٹ ) کے درمیان یہ فرما چکے ہیں(۱) جو کتاب و سنت کے احکام کے مغائر نہ ہو (۲) دوسری جگہ لکھتے ہیں:جو کتاب وسنت کے احکام کے مطابق ہو‘‘

ہمیں مؤلف سے شکوہ یہی ہے کہ ان دوتین مسائل میں وہ حکومت سے مرعوب ہو کر خود اپنے ’’رہنما اصول‘‘ کو پس پشت ڈال دیتے ہیں اسی لئے ہم نے رجسڑی کی پابندی کے سلسلہ میں کہا تھا:

’’ عائلی قانون نکاح کے رجسڑ نہ کرنے پر سزا کا تو ذکر ہے لیکن یہ واضح نہیں کیا گیا کہ ایسے نکاح جو رجسڑڈ نہیں کئے جائیں گے وہ عائلی قوانین کے واضعین کے نزدیک جائز نکاح ہوں گے یا نہیں‘‘(بینات رمضان ۱۳۸۳؁ئ)

 جناب مولف کو بھی اس امر کا احساس ہے چنانچہ اپنی تجویز کا ذکر کرتے ہوئے فرماتے ہیں:

’’نیز بلارجسٹری نکاح کی قانونی نوعیت کو واضح کردیاجائے جو بہت سی غلط فہمیوں کو دور کرنے کا باعث ہوگا‘‘ ( مجموعہ ص ۱۳۳)

 نکاح کی رجسٹری کے سلسلہ میں اسلامی نقطۂ نگاہ سے صحیح موقف یہی تھا کہ حکومت اپنے ذرائع نشر و اشاعت کے ذریعہ لوگوں کو نکاح کی رجسٹری کرانے کی ترغیب دیتی اور اس کے فوائد شمار کراتی، رجسٹری نہ کرانے پر سزا نہیں دیجاتی، صرف غیر رجسٹر شدہ نکاحوں کے ثبوت میں وقت اور پریشانی لوگون کے لئے کافی تھی۔

(۶) صفحہ ۱۳۵ سے لیکر ص ۱۴۳ تک مؤلف نے تعددازواج پر بحث کی ہے۔

بحث میں مولف کوئی خاص چیز پیش نہ کر سکے وہی پرانے دلائل جو عائلی قوانین کے حامیوں کی طرف سے پیش کئے جاتے ہیں مولف کابھی سرمایہ ہیں، سید رشید رضا اورمفتی محمد عبدہ کے اقوال و آراء ان کی بحث و تنقیح کا خلاصہ ہیں۔

(جاری ہے)

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

Rangonoor Web Designing Copyrights Khabarnama Rangonoor