Bismillah

694


۱۰رمضان المبارک۱۴۴۰ھ

نقد وتبصرہ برکتاب ’’مجموعہ قوانین اسلام‘‘ (۶)

نقد وتبصرہ برکتاب ’’مجموعہ قوانین اسلام‘‘ (۶)

انتخاب مضامین

مفتی اعظم پاکستان حضرت مفتی ولی حسن ٹونکی نور اللہ مرقدہ (شمارہ 650)

بھلا قرآن کریم، حدیث نبوی اور اجماع امت کے ہوتے ہوئے ان حضرات کے دلائل کیا وزن رکھتے ہیں! وہی مصالح کا عذر اور ارباب اقتدار اور قانون ساز اداروں کو اس نوع کے اختیارات دینے کا اعادہ کیا گیا ہے، ہم نے عائلی قوانین کی اس دفعہ پر مفصل بحث کے بعد کہا تھا:

اب یہاں حکومت جو تعددِ ازواج پر پابندی عائد کررہی ہے اس کی حقیقت صرف اسی قدر نہیں ہے کہ ایک امر مباح پر  بر بنائے مصالح پابندی عائد کی جارہی ہے جیسا کہ اس قانون کے حامیوں کی طرف سے کہا جارہا ہے بلکہ اس پابندی کے تہ میں یورپ کا نظریہ ’’یک زوجگی‘‘ کا ر فرما ہے اور اسی سے متاثر ہو کر یہ قانون بنایا جا رہا ہے۔ کفار و مشرکین کے نظریات کو قبول کرنا اور اسلام کے ایک منصوص حکم کو تبدیل کرنا اور قرآن کریم کی ایک صریح اجازت و اباحت کو قابل تعزیر جرم قرار دینا کتنی بڑی جسارت ہے۔( بینات بابت ماہِ صفر ۸۳ھ؁)

(۷) کتاب کے چھٹے باب میں مولف نے خیار بلوغ کی دفعات ذکر کی ہیں دفعہ پانچ میں لکھتے ہیں:

نابالغ لڑکے یا لڑکی کو اس کے ولی کے کئے ہوئے نکاح کو فسخ یا ردکرنے کے لئے خیارِ بلوغ کے استعمال کا حق حاصل ہے خواہ وہ نکاح اس کے باپ دادا یا کسی بھی ولی کا کیا ہوا ہو۔ (ص ۲۳۱)

 اس دفعہ کے بعد مولف نے تفصیلی بحث کی ہے اور ائمہ اربعہ کے مختلف نقطہ ہائے نظر کو بڑی تفصیل سے پیش کیا ہے آخر میں ائمہ مجتہدین اور فقہاء کرام کے موقف کی تغلیط کرتے ہوئے فرماتے ہیں:

 لیکن اس تفریق اور تقیید کے لئے ازروئے قرآن یا سنت نبوی یا آثار صحابہ میں کوئی صریح نص موجود نہیں ہے( ص ۲۳۷)

امت کا متفقہ فیصلہ ہے کہ باپ کا کیا ہوا نکاح قابل فسخ نہیں ہے اور اس میں لڑکی کو خیار حاصل نہیں ہوگا، ائمہ اربعہ کا متفقہ مسلک ہے اور یاد رکھئے ائمہ اربعہ کا جب کسی مسئلہ پر اتفاق ہوجاتا ہے تو اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ جمہور صحابہ اور جمہور تابعین میں اس مسئلہ میں کوئی اختلاف نہیں ہے اور امت کا تعامل و توارث اس پربرابر چلا آرہا ہے۔

ائمہ اربعہؒ کے اتفاق و اجماع کی پوری اہمیت غالبا مولف کے ذہن میں نہیں ہے امام مالک کے اتفاق کرنے کامطلب یہ ہے کہ ’’فقہا ء سبعہ مدینہ کا فتوی اس پر ہے اور اہل مدینہ کا عمل بھی اسی پرہے، امام شافعی اور امام احمد بن حنبلؒ کے اتفاق کرنے کامطلب یہ ہے کہ احادیث وآثار اس مسئلہ میں پوری طرح موجود ہیں اور ان میں کوئی تعارض بھی نہیں ہے، امام اعظم ابو حنیفہؒ کا اتفاق اس امر کا ثبوت ہے کہ تفقہ اور کلیات دین کا یہی متقضا ہے۔ غرض ائمہ اربعہ کے اتفاق کرنے کی صورت میں ادلہ اربعہ اور دلیل و نظر کے سارے وجوہ جمع ہوجاتے ہیں پھر اس مسئلہ میں حضرت عائشہ صدیقہؓ کے نکاح کا واقعہ بیِّن دلیل ہے کہ آپ نے حضرت عائشہ کو بلوغ کے بعد کوئی اختیار نہیں دیا جب کہ آپ نے اپنے چچا حضرت حمزہ کی صاحبزادی کا نکاح کرنے کے بعد فرمایا کہ اس کو بلوغ کے بعد اختیار ہوگا اسی طرح آپ نے حضرت بریرہؓ کو آزاد ہونے کے بعد خیار عتق دیا تو اگر نابالغی میں باپ کے کئے ہوئے نکاح میں اختیار ہوتا تو رسول اللہﷺ ضرور اختیار کا اعلان فرماتے ،یادرکھئے رسول اللہﷺ کا کسی امر پر مشاہدہ کے بعد سکوت فرمانا بھی سنت اور حجت شرعیہ ہے۔ لہذا یہ کہنا کہ ازروئے قرآن و سنت کوئی نص صریح موجود نہیں قطعا غلط۔ غرض فقہاء نے جو تفریق کی ہے اس کی وجوہ صحیحہ قرآن و حدیث اور آثارِ صحابہ میں موجود ہیں۔

۸۔دفعہ ۲۷ میں مولف نے مہر کی مقدار ذکر کی ہے پھر اس کی شرح میں کہا ہے:

ظاہر روایات کے مطابق حنفی اور شافعی علماء کے نزدیک مہر کی کم از کم مقدار دس درہم ہے( ص ۲۸۰)

’’ظاہری روایات‘‘ اس انداز بیان سے معلوم ہوتا ہے کہ مولف فقہ حنفی کی اصطلاح’’ظاہر الرویۃ‘‘ کامطلب نہیں سمجھے پھر امام شافعیؒ کو امام ابو حنیفہؒ کے ساتھ اس مسئلہ میں ذکر کردینا اس مسئلہ کی تفصیلات سے بے خبری کی دلیل ہے اس لئے کہ امام شافعیؒ مہر کی مقدار اقل کے معین کرنے کے قائل نہیں ہیں، ان کے نزدیک دس درہم سے کم بھی مہر مقرر ہو سکتا ہے۔ خود امام شافعیؒ اپنی تالیف’’الام‘‘ میں فرماتے ہیں: اس سے معلوم ہوتا ہے کہ مہر میں کوئی توقیت نہیں ہے کم اور زیادہ مہر ہو سکتا ہے جس پر مال کا اطلاق ہو سکے، خواہ وہ کتنا ہی کم ہو، مہر ہو سکتا ہے( الام ص ۵۲ ج۵)

۹۔ص ۱۳۰ پر مؤلف نے موانع نکاح سے بحث کی ہے ، یہ بحث تشنہ ہے اس میں مزید تفصیل کی ضرورت تھی۔

عربیت اور فقہ کی تفصیلی معلومات نہ ہونیکی وجہ سے اغلاط:

مولف نے ’’مجموعہ قوانین‘‘ میںعربی نہ جاننے کی وجہ سے بھی متعدد غلطیاں کی ہیں جن میں سے چند درج ذیل ہیں:

 ۱۔صفحہ ۸۵،۸۶ پر مولف نے جو کچھ لکھا ہے وہ سب کا سب الکا سانی کی کتاب البدائع والصنائع کی بحث کا لفظی ترجمہ ہے لیکن آخر میںحوالہ نہیں دیا۔ خیر مگر اسی بحث میں علامہ موصوف قرآنی آیت فکاتبوھم ان علمتم فیھم خیرا لائے ہیں مولف اس کامطلب اس طرح واضح کرتے ہیں:

فکاتبو ھم ان علمتم فیھم خیرا میں غلاموں کے ساتھ ان کو ’’ٹھیکہ پر اٹھانے‘‘ کا معاہدہ’’خیر‘‘ کے علم ہونے پر ہی موقوف نہیں ہے( ص ۸۶)

عقد کتابت یا مکاتبت میں غلاموں کو ٹھیکہ پر نہیں اٹھایا جاتا بلکہ اس’’عقد‘‘ کی صورت یہ ہوتی تھی کہ غلام کا مالک اپنے غلام سے طے کرلیا کرتا تھا کہ تم کسی بھی طرح اس قدر رقم یکمشت یا بالاقساط لا کر مجھے دیدو اس کے بعد تم آزاد ہو اس صورت میں آقا کو مکاتِب غلام کو مکاتَب کہاجاتا تھا اس کے متعلق احکام کتب فقہ میں مذکورہیں،صاحب بدائع آیت کریمہ سے استدلال کر رہے ہیں کہ آیت میں علمتم فیھم خیرا کی شرط’’اتفاقی‘‘ ہے’’احترازی‘‘نہیں ہے، غلام میں خیر ہو یا نہ آقا کو اس سے عقد کتابت کرنا جائز ہے۔(جاری ہے)

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

Rangonoor Web Designing Copyrights Khabarnama Rangonoor