Bismillah

694


۱۰رمضان المبارک۱۴۴۰ھ

نقد وتبصرہ برکتاب ’’مجموعہ قوانین اسلام‘‘ (۸)

نقد وتبصرہ برکتاب ’’مجموعہ قوانین اسلام‘‘ (۸)

انتخاب مضامین

مفتی اعظم پاکستان حضرت مفتی ولی حسن ٹونکی نور اللہ مرقدہ (شمارہ 652)

اور نیک نیت مؤلف سے توقع رکھتے ہیں کہ ہماری بتلائی ہوئی غلطیوں اور کوتاہیوں پر فیمابینہ و بین اللّٰہ غور فرما کر اور اگر کچھ تردد ہو تو ان علماء دین اور ارباب فقہ افتاء سے رجوع کر کے جن پر وہ اعتماد کر سکتے ہیں’’ ضمیمہ‘‘ کے طور پر ان اغلاط کی تصحیح چھپوادیں گے ہم نے اس ’’تبصرہ‘‘ کی زائد کاپیاں اُٹھوالی ہیں جتنی انہیں مطلوب ہوں طلب فرمائیں۔

 مؤلف اور تالیف کے متعلق بحیثیت مجموعی ہماری رائے

ان چند اختلافات اور شکوہ و شکایت کے باوجود ہم مؤلف اور تالیف کے بارے میں مجموعی طو ر پر اپنی رائے کا اظہار حسب ذیل الفاظ میں کرتے ہیں:

مؤلف

۱)اللہ جلّ شانہ کے فضل و کرم سے مؤلف کا ذہن بالکل پاک و صاف اور تجددپسندی یاتجدد پرستی کے’’زہریلے جراثیم‘‘ سے بالکل محفوظ ہے، انداز نگارش نہ صرف قرآن و حدیث اور اجماع کے بارے میں بلکہ ائمہ مجتہدین اور فقہاء امت کے حق میں بھی انتہائی عقید تمندانہ اور مخلصانہ ہے، معاندانہ یا جارحانہ مطلق نہیں ہے۔

۲) مؤلف تصنیف و تالیف خصوصاً ترتیب و تدوینِ قانون میں مہارت تامہ رکھتے ہیں۔

 ۳)جو اہم کا م قدیم و جدید علوم کے محققین اور قانون کے ماہرین کے باہمی اشتراک عمل سے کرنے کا تھا وہ کام تنہا مؤلف نے ایک حد تک نہایت خوش اسلوبی کے ساتھ انجام دیا ہے۔

 تالیف

۱)اردوزبان میں احکام شرعیہ کو عدالتوں میں استعمال کرنے کی غرض سے قانونی دفعات میں ڈھالنے کی یہ ایک کامیاب کوشش ہے۔

 ۲)ادارہ تحقیقات اسلامی کی اس چہارسالہ مدت میں شائع کردہ تالیفات و مقالات میں’’ مجموعہ قوانین اسلام‘‘ سب سے زیادہ مغتنم اور دینی نقطہ نظر سے قابل تحمل تالیف ہے۔

۳)یہ ترتیب کہ اول قانون اس کے بعد تشریحِ قانون بھی بے حد مفید اور منصفانہ ہے، ہم مؤلف سے توقع رکھتے ہیں کہ اس جلد اور اس کے بعد کی دوسری جلد کی اغلاط کی تصحیح کم ازکم ہمارے ہی حوالہ سے سہی ضرور فرمائیں گے اور بقیہ زیر تالیف جلدوں میں سختی کے ساتھ اپنے رہنما اصول پر قائم رہیں گے اور رائج الوقت قوانین سے صرف نظر کتاب وسنت اور اجماع کے تحت قانون اسلامی کا مقدس فرض انجام دیں گے، اللہ جلّ جلالہ کی تو فیق ان کے ساتھ ہو۔

 اسلام اور بیمہ( انشورنس)

ہمارا عقیدہ ہے کہ اسلام نوع انسانی کے لئے وہ آخری پیغام حیات ہے جو قیامت تک آنے والی نسلوں کی زندگی کے تمام شعبوں میں رہنمائی کے لیے ہر زمانہ اور ہر ماحول میں کافی وافی ہے، اب خدائی ہدایت تشریع الہٰی کا مستند ماخذ صرف اسلام ہے۔ آئندہ کوئی مزید ہدایت اور تشریع آنے والی نہیں ہے جس کی طرف انسان کو رجوع کرنے کی ضرورت ہو، اسی ہدایت ربانی میں ہماری مادی، روحانی ،شخصی، اجتماعی، اقتصادی، معاشی، سیاسی، غرض ہر ضرورت کا سامان موجود ہے۔

 قرآن کریم نے اس ہدایت ربانی کے اصول و کلیات کی طرف رہنمائی کی اور جناب رسول اللہﷺ نے اپنے قول و عمل اور تقریر( بیان سلوکی) سے ان اصول وکلیات کی تفصیلات اورجزئیات بیان فرمائیں۔ پھر چونکہ یہ آخری ہدایت ہے اس لئے امت محمدیہ کو اللہ تعالیٰ نے اجتہاد کے شرف سے نوازا، ائمہ مجتہدین نے اپنی مقدور بھرکوششیں اور عمریں قرآن کریم و حدیث نبوی کے سمجھنے اور ان ہر دو ماخذوں سے احکام اور ان کی علل و غایات استنباط کرنے میں اور غیر منصوص مسائل  کے احکام ان سے اخذ کرنے میں صرف کیں، بالآ خران برگزیدہ نفوس کی سعی و کوشش سے ایک عظیم ذخیرہ احکام و قوانین ظہور پذیر ہوگیا جس کو’’فقہ اسلامی‘‘ کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔

فقہ اسلامی میں ہمارے اس زمانہ کی بیشتر ضروریات کاحل موجود ہے لیکن جدید تمدن اور صنعتی انقلاب نے اس زمانہ میں نت نئے مسائل پیدا کردئیے ہیں، معاملات، معاشیات اور اقتصادیات کے سلسلہ میں سکیڑوں ایسے مسائل پیدا ہوگئے ہیں جو حل طلب ہیں اور علماء امت کو دعوت فکر دے رہے ہیں کہ وہ’’فقہ اسلامی کی روشنی میں ان کا حل پیش کریں‘‘اصل میں یہ کام اسلامی حکومتوں کا تھا کہ وہ اپنے وسیع تر ذرائع و وسائل استعمال کر کے عالم اسلام کے منتخب اور مستند علماء کو جمع کرتیں اور ان کے ساتھ نئے معاملات و مسائل کے جاننے والے ماہرین موجودہوتے ، پھر یہ سب حضرات قرآن کریم ،حدیث نبوی اور فقہ اسلامی کی روشنی میں ان جدید مسائل کے صحیح حل اور جوابات دیتے ، اسی طرح منصوص احکام کی علتوں کو ٹھیک ٹھیک سمجھ کر ان تمام جدید معاملات میں ان کوجاری کرتے جن میں وہ علتیں فی الواقع پائی جاتی ہیں۔

 لیکن تاریخ کا یہ بھی ایک عجیب المیہ ہے کہ موجودہ مسلم حکومتوں پر ایسے افراد مسلط ہیں جو اپنے وسائل و ذرائع کو اسلام کے احیاء اور اس کی نشاۃ ثانیہ پر صرف کرنے کے بجائے اسلام کی ’’تجدید‘‘پر خرچ کر رہے ہیں، ان تمام ترکوششوں کا حاصل یہی ہے کہ عام مسلمانوں کو اسلام کی حقیقی تعلیمات و احکام سے برگشتہ کر کے الحاد اور ذہنی آوارگی کے حوالہ کردیا جائے اگر کسی حکومت کے زیر انصر ام کوئی ایک آدھ ادارہ ’’تحقیقات اسلامی‘‘ کے نام سے نظر بھی آتا ہے تو وہ بھی صرف اس غرض کے لئے ہے کہ ’’جدید اسلام‘‘ کی داغ بیل ڈال کر صحیح اسلام کے نقوش مسلمانوں کے دلوں سے مٹا دئیے جائیں۔ اس قسم کے اداروں کا مافی الضمیر سمجھنے کے لئے اتنا ہی کافی ہے کہ ان کو غذا استشراق کے طعام خانوں سے ملتی ہے جن کا مقصد وحید یہی ہے کہ جو اسلام تلوار کے زور سے فتح نہیں ہو سکا اس کو تشکیک کی راہوں پر ڈال کر ختم کردیا جائے۔ دوسرے درجہ میں علماء امت کا فریضہ تھا کہ وہ ان پیش آنے والے مسائل کا حل پیش کرتے۔ اجتماعی طور پر نئے مسائل میں غور وفکر کرنا اسلام کی منشاء کے عین مطابق ہے اور سلف میں اس کی متعدد نظیر یں موجود ہیں۔

 امام ابو بکر الرازی الجصاص اپنی بے نظیر کتاب ’’احکام القرآن‘‘ میں آیت کریمہ لعلمہ الذین یستنبطونہ منھم اور انزلنا الیک الذکر  لتبین للناس مانزل الیھم کے تحت احکام شرعیہ میں غور و فکر کرنے کی اس طرح دعوت دیتے ہیں:

فحثنا علی التفکر فیہ وحرضنا علی الاستنباط والتدبیر وامرنا بالاعتبار لنتسابق الی ادراک احکامہ وننال درجۃ المستنبطین والعلماء والناظرین

اللہ تعالیٰ نے ہم کو غور و فکر کرنے پر آمادہ کیا ہے اور احکام معلوم کرنے اور ان میں قیاس سے کام لینے کا حکم دیا ہے تاکہ ہم اس کے احکام معلوم کرنے کی طرف پیش قدمی کریں اور احکام معلوم کرنے والے اور غور و فکر کرنے والے علما ء میں شامل ہوجائیں۔

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

Rangonoor Web Designing Copyrights Khabarnama Rangonoor