Bismillah

694


۱۰رمضان المبارک۱۴۴۰ھ

نقد وتبصرہ برکتاب ’’مجموعہ قوانین اسلام‘‘ (۹)

نقد وتبصرہ برکتاب ’’مجموعہ قوانین اسلام‘‘ (۹)

انتخاب مضامین

مفتی اعظم پاکستان حضرت مفتی ولی حسن ٹونکی نور اللہ مرقدہ (شمارہ 653)

فقیہ ملت امام ابو حنیفہؒ غالباً ائمہ مجتہدین میں سب سے پہلے امام ہیں جنہوں نے ’’مسائل و واقعات‘‘…میں غور و فکر کرنے کے اجتماعی طریقے کو فروغ دیا،امام ممدوح نے اپنے شاگردوں میں سے چند نامور شخص انتخاب کئے جن میں سے اکثر خاص خاص فنون میں جو تکمیل فقہ کے لئے ضروری تھے استاد زمانہ تسلیم کئے جاتے تھے مثلاً یحییٰ بن ابی زائدہ، حفص بن غیاث، قاضی ابو یوسف ،دائود الطائی، حبان، مندل حدیث و آثار میں نہایت کمال رکھتے تھے، امام زفرقوت استنباط و استحسان میں مشہور تھے، قاسم بن معن اور امام محمد کو ادب اور عربیت میں کمال حاصل تھا۔ امام اعظمؒ نے ان حضرات کی شرکت میں ایک مجلس مرتب کی اور مسائل حاضرہ پر غور و فکر شروع کیا، امام طحاوی نے بسند متصل اسد بن فرات  سے روایت کیا ہے کہ امام ابو حنیفہؒ کے تلامذہ جنہوں نے فقہ کی تدوین کی اور اس عظیم کام میں امام صاحب کے شریک رہے چالیس تھے۔۵۰۰؁ھ میں جب بیع بالوفا کابخارا اور اس کے اطراف میں رواج شروع ہوا تو چونکہ یہ معاملہ کی ایک نئی صورت تھی، بیع صحیح، بیع فاسد اور رہن کا مجموعہ نظر آتی تھی اس لئے اس زمانہ کے علماء کا اس کے جواز و عدم جواز میں اختلاف ہوا،بعض نے اجازت دی بعض نے ممانعت کی، امام ابو الحسن ماتریدی کو اس زمانہ کے ایک مشہور عالم نے مشورہ دیا کہ اس مسئلہ میں اختلاف رونما ہوگیا ہے،آپ اس معاملے کو رہن سمجھتے ہیں میرا بھی یہی خیال ہے مگر لوگ پریشان ہیں۔آپ علماء امت کو جمع کریں اور اس مسئلہ میں غور و فکرکے بعد کسی نتیجہ پر پہنچ کر عوام کے سامنے ایک ’’متفقہ فتویٰ‘‘پیش کریں تاکہ ان کا اضطراب و ترد ددور ہوجائے۔ قاضی سماوہ نے جامع الفصو لین میں نقل کیاہے۔

 میں نے امام ابو الحسن ماتریدی سے عرض کیا کہ بیع بالوفاء کا رواج عام ہوگیا اور اس میں بڑی خرابی ہے آپ کا فتویٰ یہ ہے کہ یہ رہن کے حکم میں ہے میرا بھی یہی خیال ہے لہٰذا بہتر طریقہ یہ ہے کہ آپ علماء کبار کوجمع کریں اور ان کے اتفاق رائے سے متفقہ فیصلہ لوگوں کے سامنے ظاہر فرمادیں۔

قابل مبارک باد ہیں’’دارالعلوم ندوۃ العلماء‘‘ کے منتظمین کہ انہوں نے اس ملّی ضرورت کو محسوس کیا اور ایک مجلس بنام’’مجلس تحقیقات شرعیہ‘‘تشکیل کی جس کا مقصد یہی معلوم ہوتا ہے کہ مسائل جدیدہ میں علماء غور و فکر کریں اور متفقہ فیصلہ عوام کے سامنے پیش کریں، چنانچہ اس سلسلہ کی پہلی کڑی ’’بیمہ‘‘ کے بارے میں ایک تفصیلی سوالنامہ ہے، جس کو بڑی قابلیت سے مرتب کیا گیا ہے، اس سوالنامہ کا پورا متن ماہنامہ’’بینات‘‘ بابت ماہ شعبان ۸۴ھ؁ میں شائع ہوچکا ہے۔ اس سوالنامہ کا تفصیلی جواب دینے سے پہلے بیمہ کے آغاز و انجام پر ایک نظر ڈال لینا مناسب ہے۔

 بیمہ کا آغاز و انجام:

کہا جاتا ہے کہ بیمہ کی ابتداء اٹلی کے تاجران اسلحہ سے ہوئی، ان لوگوں نے یہ دیکھ کر کہ بعض تاجروں کا مال تجارت سمندر میں ضائع ہوجاتا ہے، جس کے نتیجہ میں وہ انتہائی تنگدستی کا شکار ہوجاتے ہیں، اس صورت حال کا حل یہ نکلا کہ اگر کسی شخص کا مال تجارت سمندر میں ضائع ہوجائے تو تمام تاجرمل کر اس کی معاونت کے طور پر اسے ہر ماہ یا ہر سال ایک معین رقم ادا کیا کریں۔ یہی تحریک ترقی کر کے جہازوں کے بیمہ تک پہنچی کہ ہرایک ممبر ایک مقررہ رقم ادا کرے تاکہ اس قسم کے حوادث و خطرات کے موقعہ پر نقصان کا کچھ نہ کچھ تدارک کیا جا سکے۔ یہ روایت بھی بیان کی جاتی ہے کہ سب سے پہلے اندلس کی مسلم حکومت کے دور میں بحر ی تجارت میں حصہ لینے والے مسلمانوں نے تجارتی بیمہ کی طرح ڈالی، ابتداء میں بیمہ کی شکل سادہ سی تھی بعد میں اس کی نئی نئی صورتیں نکلتی رہیں اور تجربے ہوتے رہے۔ ہالینڈ اس تجربہ میں پیش پیش رہا۔ موجود ہ دور میں ایک مقررہ قسط پر بیمہ کاری کا نظام سب سے زیادہ مقبول ہے جس کو’’سرمایہ کا رانہ نظام بیمہ کہاجاتا ہے ‘‘ اب دنیا کی حکومتیں بیمہ کو لازمی قرار دے رہی ہیں جس کو’’ ریاستی بیمہ‘‘ کے نام سے موسوم کیا جاتا ہے ،بیمہ کی ابتد۱ء ۱۴۰۰؁ء میںبتلائی جاتی ہے ،ابتداء ہوتے ہی اس کو بہت زیادہ فروغ حاصل ہوا اور اس کے مقدمات اس کثرت سے عدالتوں میں آنے لگے کہ ۱۴۳۵؁ء میں اس کے لئے خاص عدالتیں مقرر کی گئیں جو صرف بیمہ کے مقدمات سماعت کریں۔ بیمہ’’بحری‘‘ کے بہت عرصہ بعد بیمہ’’بری‘‘ شروع ہوا۔

سلطنت آل عثمان کے زمانہ میں جب حکومت ترکی کے تجارتی تعلقات یورپ کے ملکوں سے قائم ہوئے تو یورپین تاجروں کے توسط سے بیمہ اسلامی ملکوں میں داخل ہوا اور اس کے بارے میں علماء وقت سے استفسارات شروع ہوئے چنانچہ تیر ہویں صدی ہجری کے مشہور فقیہ علامہ ابن عابدین ردالمختار میں تحریر کرتے ہیں:

اور ہماری اس تقریر سے اس سوال کا جواب بھی ظاہر ہوگیا جس کے بارے میں آج کل کثرت سے سوالات کئے جارہے ہیں کہ اب طریقہ یہ ہوگیا ہے کہ تاجر جب کسی حربی سے کوئی بحری جہاز کرایہ پر لیتے ہیںتو اس کا کرایہ ادا کرنے کے ساتھ دارالحرب کے کسی باشندہ کو جو اپنے علاقہ میں مقیم رہتا ہے کہ کچھ رقم اس شرط پردیدیتے ہیں کہ جہاز میں لدے ہوئے مال کے آتش زدگی، غرقانی اور لوٹ مار ہوجانے کی صورت میں یہ شخص مال کا ضامن ہوگا اور اس رقم کو’’سوکرہ‘‘( بیمہ کی رقم کہاجاتاہے) اس کا ایجنٹ ہمارے ملک کے ساحلی شہروں میں شاہی اجازت نامہ کے بعد مستأمن بن کر رہتا ہے جو تاجروں سے بیمہ کی رقوم وصول کرتاہے اور مال کے ہلاک ہوجانے کی صورت میں تاجروں کا پورا پورا معاوضہ ادا کرتا ہے۔

 واضح ہو علامہ موصوف کے فتوے کو تو ہم بعد میں ذکرکریں گے لیکن عبارت مندرجہ بالا سے معلوم ہوا کہ بیمہ بحری کو اس زمانہ میں اچھا خاصا فروغ ہوچکا تھا، یورپی ملکوں سے جو جہاز کرایہ پر لئے جاتے تھے ان کا لازمی طورپر بیمہ کرایاجاتا تھا، بیمہ کمپنیوں کا عمل دخل ترکی حکومت میں جاری تھا، بیمہ کمپنیوں کے ایجنٹ ترکی کی بندرگاہوںپر باضابطہ سلطانی اجازت کے بعد مقیم تھے اور انہوں نے اپنے دفاتر قائم کرلئے تھے یہاں تک کہ علماء وقت کے پاس اس بارے میں کثرت سے سوالات آنے لگے، کتب فتویٰ میں ردالمحتار غالباً پہلی کتاب ہے جس میں بیمہ کے بارے میں تفصیل سے جواب دیا گیا ہو، بیمہ کی ابتداء جس جذبہ کے تحت ہوئی اور جس طرح وہ ارتقا کے مختلف ادوار سے گذرا وہ سب کے سامنے ہے لیکن اس کا انجام فاضل جلیل استاذ ابو زہرہ کے الفاظ میں قابل ملاحظہ ہے اگر چہ اس کی اصلیت تو تعاون محض تھی لیکن اس کا انجام بھی ہر اس ادارہ کا سا ہوا جو یہودیوں کے ہاتھ میں پڑا کہ یہودیوں نے اس نظام کو جس کی بنیاد تعاون علی البرو لتقویٰ پر تھی اسے ایک ایسے یہودی نظام میں تبدیل کردیا جس میںقمار(جوا) اور ربا( سود) دونوں پائے جاتے ہیں۔

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

Rangonoor Web Designing Copyrights Khabarnama Rangonoor