Bismillah

694


۱۰رمضان المبارک۱۴۴۰ھ

نقد وتبصرہ برکتاب ’’مجموعہ قوانین اسلام‘‘ (۱۰)

نقد وتبصرہ برکتاب ’’مجموعہ قوانین اسلام‘‘ (۱۰)

انتخاب مضامین

مفتی اعظم پاکستان حضرت مفتی ولی حسن ٹونکی نور اللہ مرقدہ (شمارہ 654)

بیمہ کے سلسلے میں ہندو پاک میں اجتماعی رائے حاصل کرنے کی باقاعدہ کوشش تویہی نظر آتی ہے جو مجلس تحقیقات شرعیہ ندوۃ العلماء لکھنو نے شروع کی ہے لیکن مصر وشام میں اس پر علمی بحثیں مدت سے جاری ہیں، وہاں بیمہ کے نظام کو سمجھانے کے لئے کئی کتابیں بھی لکھی جاچکی ہیں۔

مصر میں تین چار سال قبل مسائل جدیدہ پر غور وفکر کرنے کے لئے ایک مجلس ترتیب دی گئی جس میں استاذ ابو ذہرہ، استاذ حلاف اور دیگر علماء شریک ہوئے، اس کے پہلے جلسے میں جو مفتی اعظم فلسطین سید امین الحسینی کی زیر صدارت منعقد ہوا تھا، بیمہ کا مسئلہ پیش کیا گیا اس جلسہ کی پوری روئیداد مجلہ الوء الاسلام قاہرہ میں چھپی تھی، پھر شام کے مشہور فاضل مصطفی الزرقاء نے مجلہ حضارۃ الاسلام (دمشق) کے صفحات پر عقد التامین وموقف الشریعۃ کے عنوان سے بحث چھیڑی اور علماء کو دعوت دی کہ وہ اس مسئلے پر خامہ فرسائی کریں۔ چنانچہ استاذ ابو زہرہ نے استاذ الزرقاء کے جواب میں نہایت مدلل مقالہ سپرد قلم فرمایا۔

استاذ الزرقاء کے مضمون سے یہ بھی معلوم ہوا کہ علماء مصر وشام اس مسئلہ میں مختلف الخیال ہیں اگر چہ اکثریت کا یہی خیال ہے کہ بیمہ جائز ہے اورجب تک کہ بیمہ کے موجودہ نظام کو تبدیل نہ کیا جائے مسلمانوں کے لئے قابل قبول نہیں، مختلف الخیال حضرات کی آراء اور ان کے دلائل کا خلاصہ ذیل میں درج ہے۔

ایک مختصر سی تعداد کا خیال ہے کہ ہر قسم کا بیمہ جائز ہے یہ حضرات بیمہ کے موجودہ نظام کو بر قرار رکھتے ہوئے اس کی حلت اور جواز کے قائل ہیں۔ ان حضرات کے دلائل کا خاصہ یہ ہے:

(الف) بیمہ امداد باہمی کی ایک شکل ہے، تعاون اور امداد باہمی اسلامی حکم ہے۔

(ب) جس طرح بیع بالوفاء کو فقہاء نے گواراکرلیا اسی طرح اس کو بھی گواراکرلیا جائے۔

(ج) بیمہ کمپنی ضرورت مندوں کو جو قرض دیتی ہے اور اس پر جو سودلگاتی ہے یا بیمہ دار کو اصل مع منافع دیا جاتا ہے وہ شرعی ربا (سود) نہیں ہے۔

دوسرا گروہ جس کی قیادت استاذ الزرقاء کے ہاتھ میں ہے اس کا خیال ہے کہ غیر سودی بیمہ جائز ہے، بیمہ میں اگر کوئی قباحت ہے تو وہ سود ہے اس کو ختم کرنے کے بعد بیمہ کی ہمہ اقسام جائز ہیں۔

ان حضرات کے دلائل کا تجزیہ اس طرح کیا جاسکتا ہے:

(الف) عقدموالاۃ پر قیاس کہ اس میں ایک غیر شخص دیت وغیرہ کی ذمہ داری قبول کرلیتا ہے اور اس کے معاوضہ میں میراث کا حصہ دار ہوجاتا ہے اسی طرح بیمہ کو بھی کرلیا جائے۔

(ب) ’’ودیعۃ باجر‘‘ اورمسئلہ ’’ضمان خطر الطریق‘‘ میں بیمہ کی بعض صورتوں کو داخل کیا جاسکتا ہے۔

(ج) مالکیہ کے نزدیک اگر کوئی شخص کسی سے وعدہ کرے بدوں کسی عقد کے تو وہ وعدہ لازم ہوجاتا ہے اور نقصان کی صورت میں وعدہ کرنے والے پر معاوضہ نقصان ضروری ہوتا ہے۔

تیسرا گروہ جس کی قیادت استاذ ابوزہرہ کے ہاتھ میں ہے اس کا قائل ہے کہ بیمہ مطلقاً ناجائز ہے۔

خلاصہ دلائل یہ ہے:

(۱) بیمہ اصل وضع میں یا تو قمار ہے جبکہ مدت مقررہ کے اختتام کے قبل ہی بیمہ دار کی موت واقع ہوجائے یا ربا ہے جبکہ کل اقساط کی ادائیگی کے بعد بیمہ دار بیمہ شدہ رقم مع منافع حاصل کرے۔ قمار اور ربا دونوں حرام ہیں۔

(۲) بیمہ میں صفقان فی صفقۃ پایا جاتا ہے، اس کی مخالفت نص حدیث سے ثابت ہے اور اس کی ممانعت پر ائمہ اربعہ کا اتفاق واجماع ہے۔

(۳) بیمہ سے نظام میراث درہم برہم ہوجاتا ہے کیونکہ بیمہ دار کے نامزد کردہ شخص کو بیمہ کی رقم دی جاتی ہے ہر شرعی وارث مال متروکہ کا حقدار ہے۔

(۴) عقد صرف ہے جس میںمجلس میں قبضہ ضروری ہوتا ہے اور یہاں پر شرط مفقود ہے۔

(۵) عقیدہ تقدیر پر ایمان کا تقاضا ہے کہ پیش آنے والے حوادث اللہ تعالیٰ کے سپرد کردیئے جائیں اور یہاں بیمہ کرانے والے اس عقیدہ سے فرار کرتے ہیں کیونکہ وہ پہلے سے حوادث وموت کی پیش بندیاں کرتے ہوئے نظر آتے ہیں۔

بیمہ کے بارے میں علامہ ابن عابدین کا فتویٰ:

اب ہم علامہ ابن عابدین الشامیؒ کے فتوے کی تلخیص درج کرتے ہیں ،واضح ہو کہ یہ مسئلہ مستامن کے باب میں ذکر کیا گیا ہے اس سوال کا جواب یہ ہے کہ ان تاجروں کو ہلاک شدہ مال کا معاوضہ لینا جائز ہے کیونکہ التزام مالایلزم کی صورت ہے، اگر کہا جائے کہ امانت رکھنے والا امانت کی حفاظت پر اجرت وصول کرلے اورمال ضائع ہوجائے تو وہ ضامن ہوتا ہے۔ اس کا جواب یہ ہے کہ بیمہ کے مسئلہ کو اس پر قیاس نہیں کیا جاسکتا کیونکہ یہاں مال بیمہ کمپنی کی تحویل میں نہیں ہوتا بلکہ بحری جہاز کے مالک یا اس کے ملازموں کے ہاتھ میں ہوتا ہے اور اگر یہ صورت ہو کہ بیمہ کمپنی کا جہاز بھی ہوتب بھی ہلاک شدہ مال کا معاوضہ لینا جائزنہیں ہوگاکیونکہ اس صورت میںکمپنی اجیر مشترک سمجھی جائے گی جس نے حفاظت مال اور مال لے جانے دونوں کی اجرت لی ہے اور ظاہر ہے کہ اجیر مشترک ناگہانی آفات سے مال تلف ہو جانے کی صورت میں ضامن نہیں ہوتا۔

اگر یہ کہا جائے کہ باب الکفالۃ میں ایک مسئلہ بیان کیا جاتا ہے کہ ایک شخص نے دوسرے شخص سے کہا کہ اس راستہ پر سفر کرو راستہ قابل اطمینان ہے شخص مذکور نے راستہ پر سفر کیا، سفرمیں مال ضائع ہوگیا تو اطمینان دلانے والا شخص ضامن نہیں ہوگا برخلاف اس کے اگر اس نے ضمانت کے الفاظ بولے اور کہا کہ تیرا مال چھینے جانے کی صورت میںمیں ضامن ہوں، راستہ میں مال چھین لیا گیا تو ضمانت دینے والا نقصان کا معاوضہ دے گا، شارح یعنی صاحب درمختار نے دونوں مسئلوں میں فرق اس طرح کیا ہے کہ دوسرے مسئلہ میں ضمانت کے الفاظ صراحتاً پائے جاتے ہیں کیونکہ انا ضامن (میں ضامن ہوں) لفظوںمیں موجود ہے اور پہلے مسئلہ میں اس طرح نہیں ہے جامع الفصولین میں وجہ فرق اس طرح بیان کیا ہے:

قاعدہ کلیہ یہ ہے کہ غرر میں آنے والا، غرر دینے والے سے ضمان اس وقت لے گا جبکہ غرر کسی عقد معاوضہ کے ضمن میں پایا جائے یا دھوکہ دینے والا دھوکہ دئیے ہوئے شخص کے حق میں صفتِ سلامتی کا ضامن ہو مثلاً ایک شخص کسی چکی والے کے پاس گیہوں پسانے کے لئے لایا چکی والے نے اس سے کہا کہ اس برتن میں ڈالو اتفاق سے برتن میں سوراخ تھا اورچکی والا اس سے واقف بھی تھا تب بھی اس نے گیہوں برتن میں ڈالنے کے لئے کہہ دیا، گیہوں سب ضائع ہوگئے، چکی کا مالک نقصان کا ضامن ہوگا۔

(جاری ہے)

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

Rangonoor Web Designing Copyrights Khabarnama Rangonoor