Bismillah

694


۱۰رمضان المبارک۱۴۴۰ھ

نقد وتبصرہ برکتاب ’’مجموعہ قوانین اسلام‘‘ (۱۱)

نقد وتبصرہ برکتاب ’’مجموعہ قوانین اسلام‘‘ (۱۱)

انتخاب مضامین

مفتی اعظم پاکستان حضرت مفتی ولی حسن ٹونکی نور اللہ مرقدہ (شمارہ 655)

کیونکہ اس نے عقد اجارہ کے ذیل میں دھوکہ دیا حالانکہ معاملہ کا تقاضا یہ تھا کہ مال کی حفاظت رہے۔

میں کہتا ہوںکہ اس مسئلہ میں یہ قید ضروری ہے کہ دھوکہ دینے والا نقصان سے واقف ہو اور دوسرا شخص اس سے واقف نہ ہو… اب ظاہر ہے کہ بیمہ کمپنی کا مقصد تاجروں کو دھوکہ دینا نہیں ہوتا اور نہ ان کو جہاز ک ڈوب جانے یا آگ لگنے وغیرہ کا علم ہوتا ہے، رہا عام خطرہ تو وہ تاجر اور بیمہ کمپنی کو ہوتا ہے کیونکہ تاجر بیمہ کراتے ہی اس وقت ہیں جب ان کو خطرہ ہو اور ہلاک شدہ مال کا معاوضہ لینے کی طمع ہو لہٰذا بیمہ کے مسئلہ کو اس پر قیاس نہیں کیا جاسکتا البتہ اگر مسلمان تاجر کوئی حربی شریک ہو اور وہ دارالحرب میں بیمہ کمپنی سے معاملہ طے کرے اور مال ہلاک ہو نے کی صورت میں معاوضہ کی رقم میں کچھ مسلمان تاجر کا بھی لگالے تو یہ رقم مسلمان کے لئے حلال ہے کیونکہ عقد فاسد دار الحرب میں رہنے والے دو شخصوں  کے درمیان ہوا ہے اور دارالحرب والوں کا مال ان کی رضا مندی سے مسلمان کو پہنچاہے لہٰذا اس کے لینے میں کوئی امر مانع نہیں ہے، کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ مسلمان تاجر دارالحرب میں ہوتا ہے اور وہاں ان کے سامنے یہ معاملہ طے کرتا ہے اور معاوضہ دارالاسلام میں لیتا ہے کبھی اس کے برعکس بھی صورت ہوتی ہے یعنی معاملہ داراالاسلام میں طے ہوا اور وصولی دارالحرب میں ہوئی، پہلی صورت میں معاوضہ لینا جائز ہے کیونکہ دارالحرب میں طے کیا ہوا معاملہ کالعدم سمجھا جائے گا اور یہ کہیں گے حربی کا مال اس کی خوشی سے لیا گیا ہے اس لئے جائز ہے، دوسری صورت میں عقد چونکہ دارالاسلام میں قرار پایا ہے اس لئے عقد پر فساد کا حکم لگایا جائے گا اورمعاوضہ لینا ناجائز متصور ہوگا۔

مقالات مفتی ولی حسن

کیونکہ اس نے عقد اجارہ کے ذیل میں دھوکہ دیا حالانکہ معاملہ کا تقاضا یہ تھا کہ مال کی حفاظت رہے۔

میں کہتا ہوںکہ اس مسئلہ میں یہ قید ضروری ہے کہ دھوکہ دینے والا نقصان سے واقف ہو اور دوسرا شخص اس سے واقف نہ ہو… اب ظاہر ہے کہ بیمہ کمپنی کا مقصد تاجروں کو دھوکہ دینا نہیں ہوتا اور نہ ان کو جہاز کے ڈوب جانے یا آگ لگنے وغیرہ کا علم ہوتا ہے۔ رہا عام خطرہ تو وہ تاجر اور بیمہ کمپنی کو ہوتا ہے کیونکہ تاجر بیمہ کراتے ہی اس وقت ہیں جب ان کو خطرہ ہو اور ہلاک شدہ مال کا معاوضہ لینے کی طمع ہو، لہٰذا بیمہ کے مسئلہ کو اس پر قیاس نہیں کیا جاسکتا البتہ اگر مسلمان تاجر کاکوئی حربی شریک ہو اور وہ دارالحرب میں بیمہ کمپنی سے معاملہ طے کرے اور مال ہلاک ہو نے کی صورت میں معاوضہ کی رقم میں کچھ مسلمان تاجر کا بھی لگالے تو یہ رقم مسلمان کے لئے حلال ہے کیونکہ عقد فاسد دار الحرب میں رہنے والے دوشخصوں کے درمیان ہوا ہے اور دارالحرب والوں کا مال ان کی رضا مندی سے مسلمان کو پہنچا ہے لہٰذا اس کے لینے میں کوئی امر مانع نہیں ہے، کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ مسلمان تاجر دارالحرب میں ہوتا ہے اور وہاں ان کے سامنے یہ معاملہ طے کرتا ہے اور معاوضہ دارالاسلام میں لیتا ہے کبھی اس کے برعکس بھی صورت ہوتی ہے یعنی معاملہ دارالاسلام میں طے ہوا اور وصولی دارالحرب میں ہوئی، پہلی صورت میں معاوضہ لینا جائز ہے کیونکہ دارالحرب میں طے کیا ہوا معاملہ کالعدم سمجھا جائے گا اور یہ کہیں گے کہ حربی کا مال اس کی خوشی سے لیا گیا ہے اس لئے جائز ہے، دوسری صورت میں عقد چونکہ دار الاسلام میں قرار پایا ہے اس لئے عقد پر فساد کا حکم لگایا جائے گا اورمعاوضہ لینا ناجائز متصور ہوگا۔

جواب کی طرف…

اب ہم اصل سوالنامہ کے جواب کی طرف رجوع کرتے ہیں، ہم اپنے جواب کو دوحصوں میں تقسیم کرتے ہیں، پہلے حصہ کا تعلق نظام بیمہ کی اصلاح سے ہے اس طرح کہ وہ شریعت اسلامیہ کے مطابق ہوجائے’ ’تعاون علی الخیر‘‘ کا یہ نظام جواب قمار(جوا) اور ربا کا مجموعہ نظر آتا ہے اپنی اصلی شکل میں ظاہر ہوکراُن لوگوں کے لئے قابل قبول ہو جو اپنے معاملات کو اسلام کی ہدایت اور روشنی سے درخشاں رکھنا چاہتے ہیں۔

بعض اسلامی ملکوں میں اب اس قسم کی فکر ہو رہی ہے کہ سودی نظام سے جس نے ہماری معاشی زندگی کوتباہ کر کے رکھ دیا ہے اور جس نے قوم کی اجتماعی دولت کو گھن کی طرح کھا لیا ہے گلو خلاصی کی کوئی صورت نکلے، اسی طرح بیمہ کی اصلاح اور اس کو صحیح خطوط پر لانے کا جذبہ بھی پایاجاتاہے یہ جذبہ بڑا قابل قدر ہے اور ضرورت ہے کہ ‘‘اقتصادیات‘‘ کے منتخب ماہرین اور ارباب بصیرت علماء ساتھ بیٹھ کر حلال اور حرام کی حدیں پیش نظر رکھ کر بیمہ کاری کا ایسا نظام دریافت کریں جس میں شریعت محمدیہ ﷺ سے سرموتجاوز نہ ہو۔ عام مسلمانوں سے بھی ہماری گذارش ہے کہ وہ اپنی حکومتوں پر جو اسلام کا نام لیتی ہیں زوردیں اور ان پر اجتماعی وزن ڈالیں کہ وہ ان کوسود اور قمار کی لعنت سے نجات دلائیں ان سے صاف صاف کہہ دیا جائے کہ اس یہودی نظام نے ہماری دنیا بھی خراب کر رکھی ہے اور آخرت بھی ۔ اس کے برعکس یہ طریق کار صحیح نہیں ہے کہ صرف ماہرین شریعت کی طرف رجوع کر کے ان سے کہاجائے کہ وہ بیمہ کو حلال کردیں یا ضرورت و مجبوری کے نام پر کوئی حیلہ نکالیں۔

ان علماء کا کردار بھی قابل مذمت ہے جو یورپ کے ماہر اقتصادی نظام کی چند خوبیاں یا خوشنما پہلوؤں کو دیکھ کر جواز اور حلت کا فتویٰ دینے میں نہایت جری ہیں۔ ان حضرات کو قرآن کریم کی آیت کریمہ ذیل پیش نظر رکھنا چاہئے:

ولاتقولوا لما تصف السنتکم الکذب ہذاحلال وہذاحرام لتفتروا علی اللّٰہ الکذب لا یفلحون

’’اور نہ کہو اپنی زبانوں کے جھوٹ بنالینے سے کہ یہ حلال ہے اوریہ حرام ہے تاکہ اللہ تعالیٰ پر جھوٹا بہتان باندھو، بلاشبہ وہ لوگ جو اللہ تعالیٰ پر بہتان باندھتے ہیں کبھی کامیاب نہیں ہوں گے۔‘‘

 مجوزین کے دلائل کا خلاصہ پڑھ چکے ہیں ، دلائل کی سطحیت بالکل ظاہر ہے مثلاً اس دلیل کو  آپ کیا کہیں گے بیمہ کا سود’’حلال‘‘ ہے کیونکہ قرض میں سود نہیں ہوتا، ان حضرات کو معلوم ہونا چاہئے کہ قرآن کریم کی آیت ربا سودی تجارت اور سودی قرض کے جاہلی نظام کو ختم کرنے کے لئے نازل ہوئی تھی۔ جاہلی نظام میں قرض اور تجارت دونوں کے ذریعہ سود لیا جاتا تھا۔ امام ابو بکر الجصاص ’’احکام القرآن ‘‘میں لکھتے ہیں:

’’ دوسری بات یہ ہے کہ یہ امر بالکل عیاں ہے کہ زمانہ جاہلیت کا سود قرض میعادی کی شکل میں لیا جاتا تھا۔

(جاری ہے)

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

Rangonoor Web Designing Copyrights Khabarnama Rangonoor