Bismillah

694


۱۰رمضان المبارک۱۴۴۰ھ

اسلام اور بیمہ (انشورنس)

اسلام اور بیمہ (انشورنس)

انتخاب مضامین

مفتی اعظم پاکستان حضرت مفتی ولی حسن ٹونکی نور اللہ مرقدہ (شمارہ 656)

جس میں زیادتی شرط کرلی جاتی تھی، زیادتی میعاد کابدل ہوتی تھی اللہ تعالیٰ نے اس کو باطل قرار دیا اورحرام فرمایا۔‘‘

مغنی ابن قدامہ میں ہے کہ امام احمد بن حنبلؒ سے سوال کیاگیا کہ وہ کون سا ربا ہے جس کے انکارسے کفر لازم آتا ہے، امام موصوف نے جواب دیا :ہوالزیادۃ فی الدین و ہ قرض میں زیادتی ہے۔

 ربا کے بارے میں احادیث نبویہ کا حاصل یہی ہے کہ ربا صرف روپے کے لین دین تک محدود نہیں ہے بلکہ ربا کے سلسلہ میں بہت سی صورتیں داخل ہیں حتی کہ ان صورتوں کو بھی حرام کردیا گیا جن میں اُدھار نہیں ہے بلکہ نقد معاملہ ہے مثلاً ایک تولہ چاندی لے کر دوتولہ چاندی دیدے یا ایک من نقد گیہوں دے کر اس کے معاوضہ میں دومن گیہوں نقد لے لے۔

الغرض حدیث پاک نے ربا کے ریشے بھی اسلام کے معاشی نظام سے نکال کر پھینک دئیے تاکہ اسلامی معاشرہ اس نجاست سے بالکل صاف و پاک ہوجائے۔

فقہ حدیث کی شرح ہے جس طرح حدیث قرآن کریم کی، اس لئے کہ فقہاء کرام نے ان ہی صورتوں کی تفصیلات مرتب کی ہیں جو حدیث میں بیان کی گئی تھیں۔ اس لئے فقہ کی کتابوں میں سود کی مباحث کو دیکھ کربعض نام نہاد علماء اس غلط فہمی میں مبتلا ہوگئے ہیں کہ قرآن نے جس سود کو حرام کیا ہے وہ قرض والا سود نہیں ہے بلکہ خرید وفروخت کی چند نادر شکلوں میں سود پایاجاتا ہے جو ایام جاہلیت میں مروّج تھیں اور جن کا ذکرفقہ کی کتابوں میں کیا گیا ہے ،بعض نے تعاونواعلی البروالتقوی اور لایظلمون ولایظلمون اس قسم کی عمومی آیات سے استدلال کیا ہے معلوم ہوتا ہے کہ یہ حضرات ربا اور میسر( جوئے) کی آیات کو بالکل بھول گئے ہیں، دلائل خصوص کے ہوتے دلائل عموم سے سہارا لینا قابل تعجب ہے۔

بیمہ کس لئے

شروع میں آپ پڑھ چکے ہیں کہ بیمہ کی ابتداء نہایت سادہ تھی اور اس کا مقصد بھی صرف یہ تھا کہ نقصان زدہ تاجر کو مالی امداد دی جائے یا اس طرح کہہ لیجئے کہ ایک فرد کی مصیبت کے بارکو بہت سے افراد پر پھیلا دیا جائے اس طرح کہ ہر ایک کو ایک خفیف سی قربانی دینا پڑے لیکن اس قربانی کے عوض جملہ افراد کو مصیبت و آفت کے وقت تعاون حاصل ہو، تعاون علی البر کا یہ جذبہ بڑا قابل قدر ہے۔ قرآن کریم نے اس جذبہ کو متعدد آیات میں اُبھارا ہے اور حدیث نبوی میں اس کے فضائل بیان کئے گئے ہیں۔

بیمہ کرانے والے شخص کے پیش نظر دوسرا مقصدیہ ہوتا ہے کہ اس شخص کے انتقال کے بعد اس کے بیوی بچوں کو تکلیف اُٹھا نا نہ پڑے، اس مقصد کو بھی ہم اسلامی نقطہ نگاہ سے غلط نہیں کہہ سکتے بلکہ تعلیم نبوی اس کو صحیح اور بہتر قرار دے رہی ہے۔ سرورکائناتﷺ ایک صحابی سے خطاب کرتے ہوئے فرماتے ہیں:انک ان تدع ورثتک اغنیاء خیرمن ان تدعہم عالۃ یتکففون الناس۔ تمہارا اپنے ورثاء کو غنی چھوڑنا اس سے کہیں بہتر ہے کہ ان کو ایسا محتاج چھوڑو کہ وہ لوگوں سے سوال کرتے پھریں۔

 اسی طرح آنحضرتﷺ نے ازواج مطہرات سے خطاب کرتے ہوئے ارشاد فرمایا تھا:

ان امرکن مما یھمنی من بعدی

تمہارے معاملہ نے مجھ کو فکر میں ڈال رکھا ہے کہ تمہاری گذر میرے بعد کیونکر ہوگی( یعنی میں نے کوئی میراث نہیں چھوڑی ہے اور تم نے دنیا پر آخرت کو ترجیح دی ہے)

اپنے دنیا سے چلے جانے کے بعد بیوی بچوں کی فکر ایک فطری داعیہ ہے اس لئے اسلام نے اس کو ختم نہیں کیا بلکہ اس کی ہمت افزائی کی ہے، اسلام کی خصوصیت ہے کہ وہ فطری اور جبلی و داعی کو ختم نہیں کرتا بلکہ ان کے لئے مناسب اور جائز راہیں تجویز کرتا ہے۔

بیمہ کا شرعی حل

طالب بیمہ کے حسب ذیل مقاصد بیان کئے جاتے ہیں:

۱۔اس کا سرمایہ محفوظ رہے

۲۔اضافہ مال بذریعہ سود یا تجارت

۳۔حوادث کی صورت میں مالی معاونت ، موجودہ زمانہ میں حادثوں کی تعداد میں بے پناہ اضافہ ہوگیا ہے، آئے دن ہولناک قسم کے حوادث ہوتے رہتے ہیں جن میں جانی اور مالی دونوں قسم کے حوادث سے بے اندازہ نقصان ہوتا ہے

۴۔پسماندگان کی مالی امداد

اب ان کا ترتیب و ارحل درج ہے:

 (او۲) ان دونوں باتوں کا حل یہی ہے کہ ’’غیر سودی بینک‘‘ جاری کئے جائیں جن کی بنیاد شرکت اور مضاربت پر قائم کی جائے اس طرح سرمایہ کی حفاظت بھی ہوگی اورمال میں بھی جائز طریقوں سے اضافہ ہوتا رہے گا۔ اسلام کے معاشی نظام کا جس شخص نے مطالعہ کیا ہوگا وہ ضرور اس نتیجہ پر پہنچے گا کہ اسلام ’’ارتکاز دولت‘‘ کاحامی نہیں کہ روپیہ ایک جگہ جمع کردیا جائے اور بدوں تجارت اس سے منافع حاصل کیا جائے، روپیہ حاصل کرنا اسلام کے نقطہ نظر سے صحیح نہیں ہے، سرمایہ میں جو لوگ اضافہ کرتے ہیں ان کے لئے تجارت کی شاہراہ کھلی ہوئی ہے۔ تجارت سے سرمایہ دارکا بھی فائدہ ہے کہ تجارت کو فروغ ہو گا سرمایہ تجوریوں سے نکل کر منڈیوں اور بازاروں میںپھرے گا، صنعت اور انڈسٹری کی کثرت ہوگی ،مزدوروں اور ملازمت پیشہ لوگوں کو کام ملے گا… واضح رہے کہ اسلام اپنے معاشی نظام کی بنیاد زکوٰۃ پر رکھتا ہے، بر خلاف سرمایہ دارانہ نظام کے کہ وہاں سود ریڑھ کی ہڈی کا حکم رکھتا ہے۔ قرآن کریم نے اسلام کے معاشی نظام کو مختصر سے مختصر لفظوں میں اس طرح سمجھایا ہے:

کی لا یکون دولۃ بین الاغنیاء

تاکہ نہ آئے لینے دینے میں صرف دولتمندوں کے تم میں سے۔

 آیت کریمہ کا حاصل یہ ہے کہ مصارف( اس سے پہلے مصارف بتلائے گئے ہیں) اس لئے بتلائے ہیں کہ ہمیشہ یتیموں، محتاجوں، بے کسوں اور عام مسلمانوں کی خبر گیری ہوتی رہے اور عام اسلامی ضروریات سرانجام پا سکیں، یہ اموال محض چند دولتمندوں کے اُلٹ پھیر میں پڑ کر ان کی مخصوص جاگیر بن کرنہ رہ جائیں جس سے صرف سرمایہ دار اپنی تجوریوں کو بھرتے رہیں اور غریب فاقوں سے مریں۔

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

Rangonoor Web Designing Copyrights Khabarnama Rangonoor