Bismillah

694


۱۰رمضان المبارک۱۴۴۰ھ

اسلام اور بیمہ (انشورنس)۔۲

اسلام اور بیمہ (انشورنس)۔۲

انتخاب مضامین

مفتی اعظم پاکستان حضرت مفتی ولی حسن ٹونکی نور اللہ مرقدہ (شمارہ 657)

غیر سودی بینک کا اجراء کوئی محض تخییلی چیز نہیں ہے بلکہ ایک حقیقت ہے جس کوبڑی آسانی سے بروئے کارلایا جاسکتا ہے۔ یورپی ذہنی غلامی نے دماغوں پر یہ عقیدہ مسلط کردیا ہے کہ سود کے بغیر معاشی نظام اور بینکنگ کا سارا کاروبار موجود نہیں ہے اور بایں ہمہ وہ ملک ترقی کی راہ پر گامزن ہیں بلکہ ان کی معاشی حالت سودی ملکوں سے زیادہ بہتر ہے۔ اگر کچھ اسلامی حکومتیں ہمت کرکے سود کے اس نظام سے نجات حاصل کرلیں تو بین الاقوامی طور پر بھی اس کا اثر ہو، بینک آف انگلینڈ قسم کے بین الاقوامی بینک ان ملکوں کو غیر سودی کاروبار کی سہولتیں مہیاکریں اور لوگوں کا یہ عذر کہ ہم سود کے بغیر بین الممالک تجارت کس طرح کر سکتے ہیں ،ختم ہوجائے۔

 ۳)دنیا حوادث کی آماجگاہ ہے یہ مقولہ پہلے بھی صادق تھا اور اب تو ایسی حقیقت بن چکا ہے جس سے انکار ناممکن ہے ،روزانہ حادثے ہوتے رہتے ہیں جن میں جانی اور مالی دونوں قسم کے نقصانات ہوتے ہیں ہم دیکھتے ہیں کہ کل تک ایک بھلا چنگا آدمی ہاتھ پیروں سے صحیح وسالم تھا آج اچانک کسی حادثہ کی زد میں آگیا اور اپاہج ہوکررہ گیا ، اس اپاہج انسان کے ساتھ اس کا خاندان بھی مصائب و حوادث کاشکار ہے، نہ پیٹ بھر نے کو روٹی ہے اور نہ تن ڈھاکنے کو کپڑا رہا۔ اسی طرح ایک بڑا صنعت کا رجوکل تک ایک بڑی انڈسٹری کا مالک تھا اچانکہ کارخانہ میں آگ لگ گئی مشینری اور سارا سامان جل کر راکھ ہوگیا اور وہ اب نان جویں کو بھی محتاج ہے ،پھر ہر روز بسوں، موٹروں کے حادثے ہماری زندگی کا روز مرہ بن چکے ہیں آخر ان نقصانات کی تلافی کس طرح ہو اور اس کا حل شریعت میں کیا ہے؟

اس کا حل یہی ہے کہ امداد باہمی اور تعاون علی الخیر کے جذبے کے تحت ایسے ادارے قائم کئے جائیں جو ارباب خیر اور مالداروں سے عطیات وصول کریں اور ان سے جمع شدہ رقوم کو تجارت اور انڈسٹری میں لگائیں، ان اداروں کا کام یہ ہو کہ وہ تحقیق حال کے بعد نقصان زدہ افراد اور خاندانوں کی مالی امداد کریں اس سلسلہ میں’’عام ادارے‘‘ بھی بنائے جا سکتے ہیں اور’’خاص‘‘ بھی، خاص کی یہ صورت ہو کہ تاجر اپنا الگ ادارہ بنائیں صنعت کاراپنا الگ ،اسلامی حکومت اگر اس سلسلہ میں جبر کرنا چاہے تو جبر بھی کر سکتی ہے کیونکہ حکومت کوزکوٰۃ کے علاوہ بھی بعض صورتوں میں رعایا سے جبری عطیات وصول کرنے کا حق ہے۔

 اگر اس سے وہ ٹیکس مراد ہیں جو جائز اور صحیح ہیں جیسے مشترک نہر کا کھودنا،پولیس کی تنخواہ یا فوج کا انتظام کرنے والوں کی تنخواہ جو سب پر ڈالی جائے یا قیدیوں کو کافروں سے چھڑانے کے لئے عطیات تو اتفاقاً ان کی کفالت کی جا سکتی ہے۔

 ’’ضر ر عام‘‘ ’’ضرر خاص‘‘ سے مقدم ہے یہ بھی تو اسلامی قانون کا اصول ہے، ان تعاونی اداروں کے علاوہ دوسرا اقدام یہ ہو کہ معاقل کے اسلامی نظام کوپھر سے اسلامی معاشرہ میں جاری کیا جائے۔

 معاقل، معقلہ کی جمع ہے’’خون بہا‘‘کو کہتے ہیں عقل کے معنی روکنے اور منع کرنے کے ہیں اور دیت کے طریقہ کار سے لوگوں کی جانیں مفت میں چلی جانے سے محفوظ ہوجاتی ہیں اس لئے خون بہا کو عقل کہتے ہیں اور عاقلہ اس جماعت کو کہتے ہیں جو قاتل کی طرف سے اجتماعی طور پر’’خون بہا‘‘ ادا کرتی ہے، ہجرت کے بعد جب رسول اللہﷺ نے انصار اور مہاجرین کے درمیان’’بھائی چارہ‘‘ قائم کرایا تو ایک دستاویز بھی تحریر فرمائی جس میں دونوں کو ایک جماعت قرار دے کر حوادث اور نقصانات کی ذمہ داری ایک دوسرے پر ڈالی۔

محدث کبیر ابن ابی شیبہ نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کیا ہے: جناب رسول اللہﷺ نے انصار اور مہاجرین کے لئے ایک تحریر لکھوائی جس میں یہ تھا کہ انصار اور مہاجرین ایک دوسرے کی دیت ادا کریں گے اور اگر کوئی قید ہوجائے تو اس کا فدیہ ادا کریں گے۔ قاعدہ قانون اور اصلاح باہمی کے طریق پر قبائل سسٹم میں قبیلہ عاقلہ سمجھا جاتا تھا حضرت عمررضی اللہ عنہ نے جب دواوین کو ترتیب دیا تو اہل دیوان عاقلہ قرار پائے،پیشوں کی بنیاد پر بھی ایک پیشہ والوں یعنی برادری کو عاقلہ قرار دیا جا سکتاہے۔

اسی بنا پر مشائخ نے فرمایا ہے کہ اگر آج کل تناصر( اعانت باہمی) پیشوں کے طریق پر رائج ہوتا ہو تو ایک پیشہ میں منسلک افراد(برادری) عاقلہ قرار دئیے جائیں گے۔

 عاقلہ پر ذمہ داریاں ڈالنے کی غرض و غایت اور اس کی حکمت امام سرخسیؒاس طرح بیان کرتے ہیں: عاقلہ پر ذمہ داریاں ڈالنا عقلی طور پر یوں سمجھئے قاتل جب فعل قتل کا ارتکاب کرتا ہے تو اس اقدام میں خارجی قوت و طاقت کو بڑا دخل ہوتا ہے وہ سمجھتا ہے کہ قتل کی پاداش میں جب میں پکڑا جائوں گا تو میرے حمایتی (قبیلہ یا برادری) میری مدد کو پہنچیں گے، اب حمایت و نصرت کے چند اسباب ہوتے ہیں:کبھی یہ اہل دیوان کی یکجہتی پر مبنی ہوتی ہے، کبھی قبیلوں اور خاندان والوں کی بنیاد پر ہوتی ہے، کبھی محلے اور پیشوں کی بنا پر ہوتی ہے چونکہ قاتل ضرورت کے وقت ان ہی سے قوت و طاقت حاصل کرتا ہے، اس لئے خون بہا بھی ان ہی پر لگایا جائے گا تاکہ یہ لوگ اپنے میں سے نا سمجھ اور بیوقوف لوگوں کو اس قسم کی حماقتوں سے روکیں۔ خون بہا کا مال بھی کافی مقدار میں ہوتا ہے اس لئے سب پر ڈالنے سے وصولی میں بھی آسانی ہوجاتی ہے ہر ایک شخص ادا بھی اس خیال سے کردیتا ہے کہ کل اگر مجھ سے بھی اس قسم کا فعل سرزد ہوگیا تو یہی لوگ میرا خون بہا ادا کریں گے اسی طرح اگر کسی مقام پر کوئی مقتول پایا جائے اور قاتل کا پتہ نہ چل سکے تو وہاں کی آبادی ازروئے شرع اجتماعی طور پر اس کا خون بہا ادا کرتی ہے۔ لہٰذا ان مسائل کی روشنی میں ایسا طریقہ کار اختیار کیا جا سکتا ہے کہ حوادثات کی صورت میں ہر پیشہ ورعاقلہ (برادری یا یونین) خون بہا ادا کرے مثلاً بسوں اور ٹرکوں کے مالک ایک عاقلہ قرار دئیے جائیںم کسی کی بس سے کوئی جانی یا مالی نقصان ہوجائے تو ان کی انجمن ادائیگی نقصان کی ذمہ دار ہو۔ اس سلسلہ کو دوسرے پیشوں اور حرفوں تک بھی پھیلایا جا سکتا ہے اور ان کے قواعدو ضوابط بتائے جا سکتے ہیں، عاقلہ پر ذمہ داری ڈالنا یقینا ان حوادث میں کمی کا باعث بھی بن سکتا ہے جبکہ حوادث میں بے پناہ اضافہ ہوچکا ہے اور دن بدن ہو رہا ہے اور اب تو انشورنس کے نظام کی وجہ سے یہ عالم ہوگیا ہے کہ لوگ خود اپنی موٹروں ، ٹرکوں کو حادثہ کا شکار بنانے کی کوشش کرتے ہیں تاکہ اس طریقہ سے بیمہ کمپنی سے معقول رقم وصول کی جائے۔رہی قانونی گرفت تو اس سے بچنے کی راہیں تو ملک کے نرم قوانین اور پھر وکلاء کی موشگافیوں نے بڑی حد تک کر رکھی ہیں۔

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

Rangonoor Web Designing Copyrights Khabarnama Rangonoor