Bismillah

694


۱۰رمضان المبارک۱۴۴۰ھ

اسلام اور بیمہ (انشورنس)۔۳

اسلام اور بیمہ (انشورنس)۔۳

انتخاب مضامین

مفتی اعظم پاکستان حضرت مفتی ولی حسن ٹونکی نور اللہ مرقدہ (شمارہ 658)

چوتھا مقصد بیمہ کا بیان کیا جاتا ہے کہ اس کے ذریعہ پسماندگان کی مالی امداد بڑی حد تک ہوجاتی ہے، لوگ بیمہ اس لئے کراتے ہیں کہ ان کے مرنے کے بعد ان کی اولاد کسمپرسی کے عالم میں مبتلا نہ ہو، اس مقصد کے سلسلہ میں عرض ہے کہ اگر کسی جگہ اسلامی نظام معیشت کی ترویج صحیح معنی میں ہو تو کوئی باپ اپنے مرنے سے اس لئے خوف زدہ نہیں رہ سکتا کہ میرے مرنے کے بعد میری اولاد مصیبتوں کی شکار ہوگی، کیونکہ وہ جانتا ہے کہ اسلام کے دستور مملکت میں یہ دفعہ بھی شامل ہے۔

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ آنحضرتﷺ نے ارشاد فرمایا:میں مومنین سے ان کی جانوں سے بھی زیادہ قریب ہوں، لہٰذا جو شخص مال چھوڑ کر مرے تو وہ مال اس کے عصبات کا حق ہے اور جو شخص عاجز ودرماندہ قرابتدار اور چھوٹے چھوٹے بچوں کو چھوڑے تو مجھے اس کے لئے بلایا جائے۔‘‘

نہ صرف شخص متوفی کے پسماندگان کی مالی امداد اسلامی حکومت کے ذمہ ہے بلکہ اگر اس پر کسی کا قرض بھی ہوتو اس کو بار آخرت سے سبکدوش کرانا اور قرض خواہ کو اس کا حق دلوانا بھی حکومت کی ذمہ داری ہے چنانچہ سرور کائنات ﷺنے ارشاد فرمایا:

فمن مات وعلیہ دین ولم یترک وفاء فعلی قضائہ

ترجمہ:پس جس شخص نے انتقال کے بعد قرض چھوڑا اور اس کی ادائیگی کا کوئی سامان نہیں ہے تو میرے ذمہ اس کی ادائیگی ہے۔

 اس کے ساتھ ہی ساتھ عام ناداروں اور غریبوں کی کفالت بھی اسلامی حکومت کی ذمہ داریوں میں داخل ہے ، جناب رسول اللہﷺ نے بعض وقت قرض لے کرناداروں اور غریبوں کی دادرسی فرمائی ہے اور ان کو ننگا بھوکا نہیں رہنے دیا، حضرت بلال رضی اللہ عنہ عہد رسالت میں اس ادارہ کے نگراں تھے۔ ابو دائود اور بیہقی نے حضرت بلال رضی اللہ عنہ کی زبانی یہ روایت بیان کی ہے:

’’ اور میں ہی آپﷺکی بعثت سے لے کر وفات تک اس کا نگراں تھا، آپﷺ کے پاس اگر کوئی مسلمان ننگا بھوکا آجاتا تھا تو آپ ﷺمجھے حکم دیتے تھے پھر اس رقم سے اس کے لئے کپڑے اور کھانے کا انتظام کرتا تھا۔‘‘

 اور حضرت بلال رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو رسالت مآبﷺ کی طرف سے ہدایت تھی:

انفق بلال!ولا تخش من ذی العرش اقلالا

بلال!خوب خرچ کیا کرو اور اللہ تعالیٰ کی ذات پر بھروسہ کرتے رہو۔ تنگدستی سے نہ ڈرا کرو۔

 غلاموں کے اوپر خرچ کرنے میں اگر کسی آقا سے کوئی کوتاہی ہو جاتی تھی تو ان کے اخراجات بھی اس ادارہ کے ذمہ ہوتے تھے ،مروان بن قیس دوسی کے حالات میں مروی ہے کہ ان کے پاس دوغلام تھے، وہ ان کے اخراجات پورا کرنے میں ہمیشہ بخل سے کام لیتے تھے، ان دونوں نے بار گاہ رسالت میں شکایت کی ، شکایت سنتے ہی حضرت بلال  رضی اللہ عنہ کو حکم دیا گیا:

 کہ ان دونوں کے نفقہ کا انتظام کریں۔

 ایک صورت یہ بھی ہوتی ہے کہ ایک شخص کے پاس مال وغیرہ سب کچھ ہے لیکن اس کے بچے چھوٹے چھوٹے ہیں ڈرتا ہے کہ میرے مرنے کے بعد مال متروکہ کو صحیح طریقہ پر خرچ نہیں کیا جائے گا۔ مال کی نگرانی اور اس کی حفاظت میں دشواریاں ہوںگی اس لئے اپنے مال کو بیمہ کمپنی کے سپرد کردیتا ہے تاکہ مال نقصان سے محفوظ رہے اور بچوں کی ضرورت( تعلیم شادی وغیرہ) کے موقعہ پر ان کے مصارف پورے ہوتے رہیں۔ اس صورت کا حل’’وصایہ‘‘ کے نظم میں موجود ہے یعنی اس شخص کو چاہئے کہ کسی کو اپنا وصی مقرر کر جائے۔ ’’وصی‘‘ کے باضابطہ فرائض ہیں اور ا ن کے لئے مسئول ہے جس کو فقہ کی کتابوں میں تفصیل سے بیان کیا گیا ہے، اجمالی فرائض کا نقشہ ہدایہ میں اس طرح دیا گیا ہے:

 میت کے کفن کی خریداری اور اس کی تجہیز و تکفین، چھوٹے نابالغ بچوں کے خوردونوش اور کپڑوں کا انتظام، امانت اور غصب کئے ہوئے اموال کی اور بیع فاسد سے خریدے ہوئے مال کی واپسی ، مال و جائیداد کی حفاظت قرضوں کی ادائیگی ،وصیت کے نفاذ کے انتظامات، مرنے والے کے کسی حق کے لئے نالش کرنا،ہبہ قبول کرنا، جن چیزوں کے خراب ہونے کا ڈر ہو ان کو فروخت کرنا، گمشدہ اموال کی واپسی کی کوشش کرنا۔

’’وصایہ‘‘ کے نظم پر عہد رسالت اور دور صحابہ میں برابر عمل ہوتارہا، چنانچہ جعفر بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کی شہادت کے بعد جناب رسول اللہﷺ نے حضرت جعفر رضی اللہ عنہ کے دونوں صاحبزادوں محمد اور عبداللہ رضی اللہ عنہماکی ’’وصایت‘‘ کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے فرمایا:

انا ولیھم فی الدنیا والآخرۃ

 میں دنیا اور آخرت دونوں میں ان کا سرپرست ہوں۔

اور صاحب ’’سمط الجواہر الفاخر‘‘ نے ایسے متعدد یتیم بچوں کے نام گنائے ہیں جن کے آپ ﷺوصی تھے جن میں سے تین کو یہاں ذکر کیا جاتا ہے۔

 ۱)محمد بن عبداللہ بن جحش:ان کے والد غزوہ احد میں شہید ہوگئے تھے۔ شہادت سے قبل آنحضرتﷺ کو وصی مقرر فرمادیا تھا آپﷺ نے ان کے لئے خیبر میں زمین خریدی جس سے ان کے اخراجات پورے ہوتے تھے اور مدینہ منورہ کے سوق الرقیق میں ایک گھر بطور عطیہ دیا جس میں ان کی رہائش تھی۔

۲)اُم زینب بنت بنیط:ان کے والد سعد بن زرارہ رضی اللہ عنہ نے آپ ﷺکو وصی مقرر کیا تھا۔

 ۳)قبیلہ بنی لیث بن بکر کی ایک بچی :اس کے بھی آپﷺوصی تھے۔

 حضرت زبیر بن العوام رضی اللہ عنہ بار’’وصایت‘‘ کے اُٹھانے میں بڑے مشہور تھے چنانچہ ان کو سات جلیل القدر صحابہ حضرت عثمان، عبدالرحمن بن عوف ، مقداد بن اسود، ابن مسعود، زبیر بن بکار مطیع بن الاسود، ابو العاص بن الربیع رضی اللہ عنہم نے وصی مقرر کیا تھا۔ ابو عبداللہ السنوی نے سات کے بجائے ستر کا ذکر کیا ہے

چنانچہ کہا ہے:’’ ستر صحابہ نے ان کو اپنے اموال واولاد کا نگراں مقرر کیا تھا حضرت زبیررضی اللہ عنہ ان پر اپنا مال بھی خرچ کردیا کرتے تھے۔‘‘

 اگر کسی نے اپنا وصی مقرر نہ کیا ہو تو اس کے اموال کی حفاظت اور اولاد کی صیانت کے لئے حاکم کو حق دیا گیا ہے کہ وہ وصی مقرر کر دے ورنہ ’’بیت المال‘‘ میں ان کے اموال جمع کرے اور حسب ضرورت خرچ کرتا رہے۔

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

Rangonoor Web Designing Copyrights Khabarnama Rangonoor