Bismillah

694


۱۰رمضان المبارک۱۴۴۰ھ

زکوٰۃ عبادت ہے، ٹیکس نہیں!

زکوٰۃ عبادت ہے، ٹیکس نہیں!

انتخاب مضامین

مفتی اعظم پاکستان حضرت مفتی ولی حسن ٹونکی نور اللہ مرقدہ (شمارہ 659)

نماز کے بعد اسلام کا دوسرا اہم رکن زکوٰۃ ہے، قرآن کریم میں تقریباًبیاسی آیات میں اس کو نماز کے ساتھ ذکر کیا گیا ہے، نزول قرآن سے لے کر آج تک امت مسلمہ نے اس کو ایک اہم عبادت سمجھا ہے اور رکنِ اسلام جانا، تاریخ اسلام کے کسی بھی دور میں اس کو ٹیکس یا تاوان نہیں سمجھا گیا بلکہ قرآنِ کریم نے صراحت کے ساتھ بیان کیا کہ زکوٰۃ کو ٹیکس یا غرامت( تاوان) سمجھنا منافقین کاشیوہ ہے، اس کے برخلاف مومنین مخلصین اس کو عبادت، قربت اور اللہ سے نزدیکی کا ذریعہ سمجھتے ہیں، سورئہ توبہ کی مندرجہ ذیل دو آیتیں پڑھئے:

ترجمہ:بعض دیہاتی( بدوی) ایسے ہیں کہ( جو اللہ کی راہ میں) خرچ کئے ہوئے مال کو تاوان( ٹیکس) سمجھتے ہیں اور تم پر زمانہ کی آنے والی گردشوں کا انتظار کرتے ہیں( وہ یاد رکھیں) انہیں پر زمانہ کی بدترین گردش آئے گی اللہ تعالیٰ سننے والا اور جاننے والا ہے اور بعض ان میں سے ایسے بھی ہیں جو اللہ اور آخرت پر ایمان لاتے ہیں اور خرچ کئے ہوئے مال کو اللہ تعالیٰ سے نزدیکی اور رسول کی دعاء لینے کا ذریعہ سمجھتے ہیں سنو! بلاشبہ وہ ان کے لئے قربت( عبادت) ہے عنقریب اللہ تعالیٰ ان کو اپنی بے پایاں رحمت میں داخل کرے گا بلاشبہ اللہ تعالیٰ بہت معاف کرنے والا ،مہربان ہے۔‘‘

یہاں بدوی( دیہاتی عربوں) سے مراد وہ صحرائی عرب ہیں جو مدینہ طیبہ کے گرد آباد تھے، یہ لوگ مدینہ منورہ میں اسلام کی مضبوط اور منظم طاقت کو دیکھ کر پہلے تو مرعوب ہوئے پھر اسلام اور کفر کی لڑائیوں کے درمیان ایک مدت تک موقع شناسی کی روش پر چلتے رہے آخر کار جب اسلام کو غلبہ اور کفر کی طاقت مغلوب ہوئی تو یہ لوگ بادل ناخواستہ اسلام کے حلقہ بگوش ہوگئے لیکن ان میں کم لوگ ایسے تھے جنہوں نے قلب و نظر کی ہم آہنگی کے ساتھ اسلام قبول کیا تھا، بلاشبہ ان میں ایسے لوگ بھی ضرور تھے جو کا مل تسلیم و رضا کے ساتھ اسلام میں داخل ہوئے تھے جن کو اللہ تعالیٰ نے دوسری آیت میں ذکر کیا ہے لیکن بیشتر بدویوں کے لئے قبول اسلام کی حیثیت تسلیم و رضا اور ایمان و اعتقاد کی نہیں بلکہ مصلحت اور دور اندیشی کی تھی، یہ لوگ چاہتے تھے کہ اسلام میں داخل ہونے کے فوائد و ثمرات سے متمتع ہوتے رہیں لیکن اسلام نماز، روزے اور زکوٰۃ وغیرہ کی جو پابندیاں عائد کرتا ہے ان سے راہِ فرار تلاش کریں، اسلام کا ’’انفاقی نظام‘‘یعنی زکوٰۃ اور اسلامی حکومت کی طرف سے اس کی باقاعدہ تحصیل ان کو سب سے زیادہ شاق تھی اس لئے ان سے جب زکوٰۃ لی جاتی تھی تو اس کو ٹیکس اور تاوان سمجھ کر بڑی خوشی سے ادا کرتے تھے ۔یہ لوگ نفاق اور مصلحت کوشی کو مطمحِ نظر بنائے ہوئے تھے اس لئے ان کے قلوب عبادت، قرب الہٰی اور رسول اللہﷺ کی دعاء کی لذتوں سے نا آشنا تھے ،بایں وجہ اسلام اور مسلمانوں پر زمانہ کی گردشوں کا انتظار کرتے رہتے تھے کہ ان پرکوئی براوقت آن پڑے اور ہم اس نظام سے گلو خاصی حاصل کریں، عہد صدیقی کے ابتدائی دور میں’’ارتداد‘‘ اور’’ منع زکوٰۃ‘‘ کا جو فتنہ برپا ہوا تھا ان میں یہی بدوی اعراب پیش تھے، زکوٰۃ کو ٹیکس اور تاوان سمجھ کر ادا کرنا آخر کار منع زکوٰۃ اور ارتداد پر منتج ہوا، جس پر حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ نے اپنا تاریخی جملہ ارشاد فرمایا:

بخدا میں ان لوگوں سے ضرورقتال کروںگا جو نماز اور زکوٰۃ میں فرق کرتے ہیں( جس طرح نماز حقِ بدن ہے اسی طرح) زکوٰۃ حقِ مال ہے، بخدا اگر یہ لوگ ایک رسی جس کو رسول اللہﷺ کو ادا کرتے تھے مجھے نہیں دیں گے تو میں اس کے نہ دینے پر ان سے قتال کروں گا۔

غرض آیت کریمہ نے نہایت ہی واشگاف الفاظ میں اعلان کردیا ہے کہ زکوٰۃ کو عبادت وہی لوگ سمجھتے ہیںجن کے قلوب ایمان باللہ اور ایمان بالآخرۃ کے جذبہ سے سرشار ہوتے ہیں اور وہ لوگ جن کے قلوب اس پاکیزہ ایمانی جذبہ سے یکسر خالی ہوتے ہیں وہ زکوٰۃ کو ٹیکس ،تاوان اور جرمانہ سمجھ کر ادا کرتے ہیں۔

اس کے بعد ایک اور آیت اس حقیقت کو سمجھنے کے لئے پیش نظر رکھیں، ارشاد ربانی ہے:

ترجمہ:ان کے دئیے ہوئے مال قبول نہ ہونے کی کوئی وجہ اس کے سوا نہیں کہ انہوں نے اللہ اور رسول کے ساتھ کفر کیا ہے، نماز کے لئے آتے ہیں تو کسمساتے ہوئے اور مال خرچ کرتے ہیں تو بادل ناخواستہ۔(سورہ توبہ)

آیتِ کریمہ میں منافقین کے نفقات جن میں زکوٰۃ بھی داخل ہے قبول نہ ہونے کی وجہ یہ بتلائی گئی کہ ظاہری طور پر تو وہ ایمان لے آئے ہیں مگر باطن ان کا کفرو حجود سے نہ صرف داغدار بلکہ پوری طرح سیاہ ہے ، پھر نماز جو ایمان کی علامتِ واضحہ ہے اس کو انتہائی کسل اور ناگواری سے ادا کرتے ہیں اور زکوٰۃ کی ادائیگی بادل ناخواستہ کرتے ہیں۔

آیت کریمہ سے واضح ہوا کہ زکوٰۃ قطعاً ٹیکس نہیں بلکہ عبادت ہے ورنہ اس کی قبولیت کے لئے ایمان کی شرط کیوں ضروری ہوتی اور اس پر رضائے الہٰی کیونکر مرتب ہو سکتی۔

پھر تطہیر قلب اور تزکیہ باطن کو ادائیگی زکوٰۃ کا نتیجہ بتلایا جارہا ہے ، ارشاد ہے:

 ترجمہ:اے نبی! تم ان کے اموال میں سے صدقہ لے کر انہیں پاک کرو اور ان کے دلوں کو صاف ستھرا بنائو اور ان کے حق میں دعائے رحمت کرو کیونکہ تمہاری دعاء ان کے لئے وجہ تسکین ہوگی، اللہ تعالیٰ سب کچھ سنتا اور جانتا ہے۔‘‘

کسی عبادت ہی کی یہ شان ہو سکتی ہے کہ اس پر تطہیر و تزکیہ اور دعائے پیغمبرﷺ مرتب ہو، تاوان اور ٹیکس پر امور مذکورہ مرتب نہیں ہو سکتے۔

 قرآن کریم کی مندرجہ بالا آیات کے علاوہ احادیث نبوی بھی زکوٰۃ کے ٹیکس ہونے کی صراحتاًتردید کررہی ہیں مثلاً ایک حدیث میں ارشاد فرماتے ہیں:

جب تم زکوٰۃ ادا کیا کرو تو اس طرح دعاء کرنا کبھی نہ بھولو اے اللہ! تو اس کو باعث اجرو ثواب بنا اور اس کو ٹیکس اور تاوان نہ بنا۔

حدیث میں زکوٰۃ ادا کرنے والے کو دعاء کی تلقین کی جارہی ہے کہ تم زکوٰۃ دیتے وقت اس طرح ادا کیا کرو، اس کا مقصد یہ ہے کہ زکوٰۃ کی ادائیگی کے وقت جذبہ عبادت و قربت الہٰی بیدار رہنا چاہئے ،ٹیکس اور تاوان کے تصور کا شائبہ تک اس میں نہ ہونا چاہئے۔

ایک حدیث میں قربِ قیامت کی مندرجہ ذیل علامات بیان کی گئی ہیں:

 ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ پیغمبرﷺ نے ارشاد فرمایا:جب مال غنیمت کو دولت قرار دیا جائے اور جب امانت کے مال کو غنیمت شمار کرلیا جائے اور جب زکوٰۃ کوتاوان اورغرامت سمجھ لیا جائے اور جب علم کو دین کے لئے نہیں بلکہ دنیا حاصل کرنے کے لئے سیکھا جائے اور جب مرد عورت کی اطاعت کرے اور بیٹا ماں کی نافرمانی کرے اور اس کو رنج پہنچائے اور جب آدمی دوست کو اپنا ہم نشین بنائے اور باپ کو دورکرے اور جب مسجد میں زور زور سے باتیں کی جائیں اور شور مچایا جائے اور جب قوم کی سرداری قوم کا ایک فاسق آدمی کرے اور جب قوم کے امور کا سربراہ قوم کا کمینہ اور ذلیل ترین شخص ہو اور جب آدمی کی تعظیم اس کی برائیوں سے بچنے کے لئے کی جائے ، گانے والی عورتیں معاشرہ میں کثرت سے پیدا ہوجائیں، آلاتِ موسیقی عام ہوجائیں اور جب اعلانیہ شرابیں پی جائیں اور جب امت کے پچھلے لوگ اگلے لوگوں کو برا کہنے لگیں اور ان پر لعنت کرنے لگیں تو اس وقت تم قیامت کی نشانیوں کے وقوع میں آنے کا انتظار کرو یعنی تیز و تندسرخ آندھی، زلزلے، زمین کا دھنس جانا، صورتوں کا بگڑ جانا، پتھروں کا برسنا اور ان پے درپے نشانیوں کا جو قیامت سے پہلے اس طرح ظہور میں آئیں گی جیسے وہ موتیوں کی ایک لڑی ہے جس سے پے درپے موتی گررہے ہیں۔

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

Rangonoor Web Designing Copyrights Khabarnama Rangonoor