Bismillah

694


۱۰رمضان المبارک۱۴۴۰ھ

زکوٰۃ عبادت ہے، ٹیکس نہیں!۔۲

زکوٰۃ عبادت ہے، ٹیکس نہیں!۔۲

انتخاب مضامین

مفتی اعظم پاکستان حضرت مفتی ولی حسن ٹونکی نور اللہ مرقدہ (شمارہ 660)

ہم نے پوری حدیث اس لئے نقل کردی کہ ہم ذرا اپنے معاشرہ کو بھی اس حدیث کے آئینہ میں بہ نگاہِ عبرت دیکھ لیں اور سبق حاصل کریں ورنہ ہمارا مقصد حدیثِ نبوی کے صرف اس فقرہ کو پیش کرنا تھا کہ زکوٰۃ ٹیکس قرار پائے گی ، زکوٰۃ کو ٹیکس یا تاوان سمجھنے کو فسادِ زمانہ کی علامت قرار دینا صاف بتلا رہا ہے کہ اس دور میں زکوٰۃ کی اصل روح نکل جائے گی ، زکوٰۃ کی اصل روح اس کا عبادت اور قربت ہونا ہے اور جب یہ روح نکل جائے گی تو زکوٰۃ کی حقیقت یقینا ایک ٹیکس اور تاوان ہی کی رہ جائے گی اور حسبِ تصریح حدیث ایسا دور انسانیت کا بدترین دور ہوگا۔

ان دو حدیثوں کے علاوہ ان حدیثوں پر بھی غور کیجئے جن میں زکوٰۃ کو اصل ایمان اور بنائے اسلام کہا گیا ہے مثلاً حدیث جبرئیل ہیـ:

ترجمہ:(جبرئیل نے) سوال کیا کہ اسلام کیا ہے تو فرمایا کہ اسلام یہ ہے کہ تم اللہ کی عبادت کرو اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ بنائو اور نماز قائم کرو اور زکوٰۃ فرض اداکرو اور رمضان کے روزے رکھو۔

نادان سے نادان آدمی بھی جان سکتا ہے کہ جن امور کو اسلام کا رکن اور اس کی بنیاد اور خلاصہ قرار یا گیا ہے ان کے عبادت ہونے میں کیا شبہ ہو سکتا ہے پھر زکوٰۃ کو جن امور کے ساتھ ملا کر یہاں ذکر کیا گیا ہے یعنی توحید، نماز اور روزہ یہ سب کے سب عبادت ہیں تو زکوٰۃ جوان کے عین وسط میں تیسرے نمبر پر واقع ہے اس کے عبادت ہونے میں کس عقلمند کو تردد ہوسکتا ہے اور اس حدیث پاک میں یہ عجیب نکتہ بھی خاص طور پر قابلِ لحاظ ہے کہ نماز اور روزے کے ساتھ فرضیت کی تصریح نہیں کی باوجود یہ کہ فرض سب ہی ہیں مگر زکوٰۃ کے ساتھ المفروضہ کی تصریح فرمادی گئی ہے جس کے معنی یہ ہوئے کہ نماز اور روزے کی طرح زکوٰۃ کے بارے میں اہل اسلام کو یہ عقیدہ بدرجہ اولیٰ رکھنا ہوگا کہ وہ فرائض الہٰیہ اور عباداتِ خداوندی میں سے ہے پھر یہاں اس پر غور کیجئے کہ ان عبادات سے اسلام کی تفسیر کی گئی ہے اس لئے ان کے عبادات مفروضہ ہونے کا منکر خود اسلام کا منکر کہلائے گا و ان صام و صلی وزعم انہ مسلم

زکوٰۃ نہ صرف اسلام کے مفہوم میں داخل ہے بلکہ پیغمبرﷺ صحابہ سے دوسری عبادات کے ساتھ اس کی ادائیگی پر بیعت بھی لیتے تھے صحابی جلیل حضرت جریر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:

میں نے جناب رسول اللہﷺ سے بیعت کی نماز کے قائم کرنے پر اور زکوٰۃ ادا کرنے پر اور ہر مسلمان کے ساتھ خیر خواہی کرنے پر۔

 کون دانشمند یہ باور کر سکتا ہے کہ آنحضرتﷺ عباد ت پر نہیںمعاذ اللہ ٹیکس ادا کرنے پر لوگوں سے بیعت لیا کرتے تھے؟پھر زکوٰۃ کے بغیر اسلام قابلِ قبول نہیں ہے۔

 عبداللہ بن عمررضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسو ل اللہﷺ نے فرمایا: مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں لوگوں سے قتال کروں یہاں تک کہ وہ شہادت دیدیں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں ہے اور محمدﷺ اللہ کے رسول ہیں اور نماز قائم کریں اور زکوٰۃ کو ادا کریں جب انہوں نے ایسا کرلیا تو ان کی جانیں اور اموال محفوظ ہوگئے سوائے اسلام کے حق کے اور ان کے دلوں کا حساب اللہ کے سپرد ہے۔

یہ حدیث واضح طور پر بتلا رہی ہے کہ تو حید و رسالت، نماز اور زکوٰۃ اسلام کے وہ تین بنیادی فرائض ہیں جن کے بغیر اسلام معتبر نہیں ہو سکتا اور جو شخص ا ن تینوں کی اس خاص حیثیت کا منکر ہو اس کے خلاف اسلامی حکومت جہاد کرے گی اور اسلامی معاشرہ میں اس سے غیر مسلموں کا معاملہ کیا جائے گا۔ایک اور حدیث بھی پیش نظر رکھیں جس میں زکوٰۃ کو جنت کے داخل کرنے والے کاموں میں شمار کیا جا رہا ہے۔

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک اعرابی رسول اکرمﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا کہ مجھے کوئی ایسا عمل بتلائیں کہ میں اس پر عمل کرنے کے بعد جنت میں داخل ہوجائوں۔ آپ ﷺ نے فرمایا کہ اللہ کی عبادت کرو اور اس میں کسی قسم کا شرک نہ کرو ،رمضان کے روزے رکھو، فرض نماز کی اقامت کرو، زکوٰۃ فرض کی ادائیگی کرو، اس نے کہا قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضہ میں میری جان ہے اس پر نہ کبھی زیادتی کروں گا اور کبھی کمی ، جب وہ چلے گئے تو پیغمبرﷺ نے ارشاد فرمایا: جو شخص جنتی آدمی کو دیکھنا چاہتا ہے تو وہ اس کو دیکھے۔

 یہ حدیث واضح کرتی ہے کہ نماز، روزہ، زکوٰۃ عبادات ہونے کی میںیکساں ہیں جس طرح نماز اور روزہ کی فرضیت، عبادتی حیثیت اور قربت خاصہ کا اقرار لازم ہے اسی طرح زکوٰۃ بھی فرض اور عبادت ہے اور نجات آخرت کے لئے اس کے عبادت ہونے کا اقرار لازم ہے اور یہی جنت میں داخل ہونے کا ذریعہ ہے۔ علاوہ ازیں زکوٰۃ کو اسلام کا بنیادی ستون کہا جا رہا ہے۔

عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ رسول اللہﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ آپﷺ نے ارشاد فرمایا: اسلام کی بنیاد پانچ چیزوں پر ہے اللہ کی تو حید،نماز کو قائم کرنا ،زکوٰۃ ادا کرنا، رمضان کے روزے رکھنا اور حج کرنا۔

اس حدیث میں ان پانچ نبیادی عبادات کا ذکر ہے جس پر اسلام کا قصر استوار کیا گیاہے ان ارکان پنج گانہ میں وجہ حصر یہ ہے کہ عبادت یا تو قولی ہوگی تو وہ کلمہ شہادت کا اقرار کرنا ہے یا غیر قولی ہوگی پھر وہ غیر قولی عبادت یا تو ترکِ عمل کے متعلق ہوگی تو وہ روزہ ہے یا فعل و عمل سے متعلق ہوگی تو وہ نماز ہے یا مال کے متعلق ہوگی تو وہ زکوٰۃ ہے یا دونوں سے مرکب ہوگی تو وہ حج ہے۔

حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کو حضور اکرم ﷺ نے جب یمن بھیجا تو ہدایت فرمائی:

تم اہل کتاب کے پاس تبلیغ اسلام کے لئے جارہے ہو تو ان کو سب سے پہلے اس امر کی دعوت دینا کہ اللہ کے سواکوئی معبود نہیں ہے اور بلاشبہ میں اللہ کا رسول ہوں، اگر وہ اس امر میں اطاعت کرلیں تو ان کو بتلانا کہ اللہ نے ان پر دن رات میں پانچ نمازیں فرض کی ہیں پس اگر وہ اس کو بھی مان جائیں تو ان کو بتلانا کہ اللہ تعالیٰ نے ان پر زکوٰۃ فرض کی ہے جو مالداروں سے لی جائے گی اور ان ہی کے ناداروں میں واپس کر دی جائے گی۔

حدیث رسول اللہﷺ میں ’’ان اللہ افترض‘‘ کے الفاظ بلاشک وشبہ اس امر کا اظہار کررہے ہیں کہ زکوٰۃ اللہ تعالیٰ کا عائد کردہ فریضہ ہے تاوانِ قیصری نہیں، عبادتِ خداوندی ہے خراجِ کسر وی نہیں، اس کی مقدار اللہ تعالیٰ کی مقرر فرمودہ ہے کسی انسانی ذہن کی رہین منت نہیں ہے جسے ٹیکس کا نام دے کر حکومتوں کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا جائے۔

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

Rangonoor Web Designing Copyrights Khabarnama Rangonoor