Bismillah

694


۱۰رمضان المبارک۱۴۴۰ھ

زکوٰۃ عبادت ہے، ٹیکس نہیں!۔۳

زکوٰۃ عبادت ہے، ٹیکس نہیں!۔۳

انتخاب مضامین

مفتی اعظم پاکستان حضرت مفتی ولی حسن ٹونکی نور اللہ مرقدہ (شمارہ 661)

اسی طرح حدیث کے آخری الفاظ’’تؤخذمن اغنیائھم فتردفی فقرائھم‘‘سے واضح ہے کہ زکوٰۃ صرف مسلمانوں سے لی جائے گی اور صرف مسلمانوں پر خرچ کی جائے گی۔ ٹیکس اور تاوان میں یہ خصوصیت کہاں؟ حکومتیں اپنے ہر شہری سے بلا تفریق مذہب وملت مقررہ ٹیکس وصول کرتی ہیں اور اپنے ادارتی شعبوں کے چھوٹے بڑے ملازم پر بلاتفریق محتاج و غنی خرچ کرتی ہیں، نیز تمام ملازمین و کارکن حکومت کو اپنی آمدنیوں سے ٹیکس دیتے ہیں اور انہی وصول شدہ ٹیکسوں سے سرکاری خزانے ان کو تنخواہیں اور الائونس دیتے ہیں۔

قسط دوم

زکوٰۃ کا عبادت، فریضہ ربانی اور رکنِ اسلام ہونا ایک ایسا بد یہی امر تھا کہ اس پر نہ دلائل کی ضرورت تھی نہ براہین  کی، کیونکہ اسلامی لٹریچر کا ایک ایک حرف اس کی عبادت، فریضہ اسلامی اور رکن اسلام ہونے کی دلیل ہے لیکن براہواس’’فتنہ تجدد‘‘ کا کہ اس نے بدیہیات کو نظری بنا ڈالا اور تیرہ چودہ صدیوں بعد پھر سے فتنہ انکارِ زکوٰۃ کی صدائے بازگشت سنائی دینے لگی۔نعوذباللّٰہ من الفتن

پہلی قسط میں ہم زکوٰۃ کے عبادت اورقربت ہونے پر قرآن کریم اور حدیثِ نبوی ﷺ سے واضح دلائل پیش کر چکے ہیں، زیرِ بحث موضوع پر قرآن کریم کی صریح آیات کے بعد سب سے قوی تردلیل رسول اللہﷺ کی وفات کے بعد پیش آنے والے’’فتنہ منعِ زکوٰۃ‘‘ سے متعلق صحیحین سمیت تمام کتب حدیث و سیر و تاریخ کی متفق علیہ حضرت ابو بکر الصدیق رضی اللہ عنہ کی روایت ہے کہ جس کا اجمالاً تذکرہ ہم قسطِ اول کر چکے ہیں، چونکہ یہ روایت اس موضوع کی فیصلہ کن قطعی دلیل بلکہ سب سے بڑا دستاویزی ثبوت ہے اس لئے ہم اس قسط میں اس پر سیر حاصل بحث کرنا چاہتے ہیں۔

واقعہ یہ ہوا کہ رسول اکرمﷺ کی وفات کے بعد حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کے عہد ِ خلافت کے ابتدائی دور میں پورا عالمِ اسلام چارگروہوں میں تقسیم ہوگیا تھا:

۱)جمہور اہل اسلام، یہ لوگ اسلام پر ثابت قدم رہے ان حضرات نے تعلیماتِ اسلام سے سرموانحراف نہیں کیا اور خلیفہ اول رضی اللہ عنہ کی پوری طرح اطاعت کی۔

 ۲)ایسے لوگ جو بظاہر اسلام پر قائم تھے، تعلیماتِ نبوی علیہ الصلوٰۃ و السلام کا اقرار کرتے تھے البتہ ان لوگوں نے اسلام کے رکنِ دوم زکوٰۃ کی فرضیت اور اس کے عبادت ہونے سے انکار کردیا، اسی طرح اس امر سے بھی کہ زکوٰۃ کی وصولی کا حق خلیفہ کو ہے، اس گروہ کے بارے میں ہمارا دعویٰ ہے کہ یہ لوگ زکوٰۃ کی عبادتی شان اور اس کے قربت ہونے کے منکر تھے اس کو ہم آگے چل کر ثابت کریں گے۔

۳)طلیحہ،مسیلمہ کذاب اور سجاح کے معتقدین جنہوں نے مرزائی امت کی طرح کھلم کھلا خانہ سازنبوتوں پر ایمان کا اعلان کیا اور رسول اللہﷺکی ختمِ نبوت سے انکار کردیا۔

۴)وہ موقع شناس لوگ جنہوں نے موقع شناسی اور نفاق کی روش اختیار کی اور انتظار کرتے رہے کہ غلبہ جس کو حاصل ہوگا اسی کا اتباع کریں گے، اس ذیل میں مالک بن نویرہ اور دوسرے لوگوں کے نام لئے جاتے ہیں۔ ان چار گروہوں کی پوری تفصیل ابو محمد ابن حزم(المتوفی ۴۵۶؁ھ) نے اپنی بے نظیر کتاب’’الملل و النحل‘‘ میں بیان کی ہے، امام ابو سلیمان الخطابی( المتوفی  ۳۸۸؁ھ) نے چار کے بجائے تین گروہوں پر تقسیم کیا ہے، غالباً انہوں نے چوتھے گروہ کو قابلِ ذکر نہیں سمجھا کیونکہ ان لوگوں نے عملی طور پر کوئی کفریہ اقدام نہیںکیا تھا اس لئے وہ جمہور اہل اسلام کے گروہ سے خارج شمار نہیں کئے گئے۔

حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ نے ان گروہوں کے مقابلہ میں جس بے مثال عزیمت اور جرأت کا اظہار فرمایا وہ مقام ’’صدیقیت‘‘ کا روشن اور تابناک پہلو ہے، اس کی تفصیل کے لئے کتب تاریخ کی مراجعت کیجئے، عہد حاضر کے ایک مصری محقق کا جملہ اس سلسلہ میں حضرت صدیق اکبررضی اللہ عنہ کے اس تاریخی خطاب کی اہمیت کو ظاہر کرنے میں ممکن ہے کافی ہو۔

ترجمہ:ہم اس بارے میں صاف صاف کہہ دینا چاہتے ہیں کہ اللہ جلّ شانہ کی تائید و توفیق کے بعد حضرت صدیق اکبررضی اللہ عنہ اور آپ کا مضبوط عزم نہ ہوتا تو مسلمانوں کو وہ استحکام نصیب نہ ہو تا جو صفحات تاریخ میں معروف ہے۔ حضرت ابو بکررضی اللہ عنہ نے اپنے عزم کا اظہار ایسے وقت کیا جب تمام مسلمانوں کے دلوں پر( وفاتِ رسول ﷺ اوراس کے بعد کے واقعات کی وجہ سے ) ذہول اور ربودگی کی کیفیت مسلط ہوچکی تھی حتی کہ ان پر بھی جو سب سے زیادہ قوت ارادی کے مالک اور سب سے زیادہ دل کے مضبوط تھے۔(عمر فاروق رضی اللہ عنہ)اسی لئے وحی الہٰی نے مرتدین کے گروہ کے ظاہر ہونے کی اور حضرت صدیق اکبررضی اللہ عنہ اور آپ کے رفقاء صحابہ کرامؓ کی ان کی بیخ کنی میں ایمان افروز مساعی کے ظہور میں آنے کی بشارت پہلے سے دی تھی۔

 ترجمہ:’’اے ایمان والو! جو کوئی تم میں سے اپنے دین سے پھر جائے گا تو اللہ عنقریب لائے گا ایسی قوم کو جسے اللہ چاہتا ہے اور وہ اللہ کو چاہتے ہیں، نرم دل ہیں مسلمانوں کے حق میں،سخت کوش ہیں کافروں کے حق میں، لڑتے ہیں اللہ کی راہ میں اور ڈرتے نہیں کسی بھی ملامت کرنے والے کی ملامت سے ، یہ فضل ہے اللہ کا ،دیتا ہے جس کو چاہے اور اللہ بہت وسیع فضل والا اور باخبر ہے۔‘‘

 آیت کریمہ کے بیان کئے ہوئے پورے کے پورے اوصاف حضرت صدیق اکبررضی اللہ عنہ اور ان کے رفقاء پر صادق ہیں اس کی تفصیل کے لئے ’’ازالۃ الخفاء‘‘ کی مراجعت کیجئے۔

دوسرا گر وہ بظاہر اسلام کا منکرنہ تھا، کلمہ پڑھتا تھا،

(جاری ہے)

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

Rangonoor Web Designing Copyrights Khabarnama Rangonoor