Bismillah

694


۱۰رمضان المبارک۱۴۴۰ھ

زکوٰۃ عبادت ہے، ٹیکس نہیں!۔۴

زکوٰۃ عبادت ہے، ٹیکس نہیں!۔۴

انتخاب مضامین

مفتی اعظم پاکستان حضرت مفتی ولی حسن ٹونکی نور اللہ مرقدہ (شمارہ 662)

خود کو مسلمان کہتا تھا ،ان لوگوں نے ارتداد و کفر کا اعلان بھی نہیں کیا تھا، یہ لوگ صرف زکوٰۃ کو فریضہ ربانی، عبادت الہٰی اور رکن اسلام تسلیم نہیں کرتے تھے بلکہ اس کو صرف ٹیکس یا ’’غرامت‘‘ سمجھتے تھے اس کے ثبوت کے لئے ہمارے پاس واضح دلائل ہیں۔ سورہ توبہ کی دو آیتیں آپ پڑھ چکے ہیں جن میں سے ایک منافقین کے متعلق ہے اور دوسرے مومنین مخلصین کے بارے میں جو آیت ہے اس میں فرمایا گیا ہے:

ترجمہ:’’بعض دیہاتی بدوی ایسے ہیں جو اللہ کی راہ میں خرچ کئے ہوئے مال کو تاوان(ٹیکس) سمجھتے ہیں اور تم پر زمانہ کی گردشوں کے آنے کا انتظار کرتے رہتے ہیں، وہ یاد رکھیں ان پر ہی زمانہ کی بدترین گردش آئے گی اللہ تعالیٰ سننے والا اور جاننے والا ہے۔‘‘

 اس آیت میںدوامر قابل غور اور تفصیل طلب ہیں(۱) مغرم سے کیا مراد ہے(۲) اس کا مصداق کون لوگ ہیں؟

 امراول کے بارے میں مشہور مفسر ضحاکؒ کہتے ہیں:

ترجمہ:’’مغرم‘‘ سے مراد یہ ہے کہ دینے والا ثواب اور اس کے اجر کی اللہ تعالیٰ سے امید نہیں رکھتا اور جو صدقات و زکوٰۃ دیتا ہے تو بڑی ناگواری کے ساتھ دیتا ہے۔‘‘

 یہی حقیقت ہوا کرتی ہے حکومت کے مقرر کردہ ٹیکس ادا کرنے کی، ہر ٹیکس ادا کرنے والا بادل ناخواستہ اور انتہائی ناگواری کے ساتھ ٹیکس ادا کرتا ہے کیونکہ ٹیکس میں قربِ خداوندی اور ثواب آخرت کا شائبہ تک نہیں پایا جاتا ۔

علامہ آلوسی’’مغرم‘‘ کی مزید وضاحت فرماتے ہیں:

’’ان لوگوں نے ادائے صدقات کو تاوان اس لئے کہا تھا کہ یہ لوگ عبادت سمجھ کربامید اجر و ثواب خرچ نہیں کیا کرتے تھے تاکہ یہ انفاق غنیمت ہوتا، یہ لوگ تو محض حکومت کی گرفت سے بچنے کے لئے اور لوگوں کو دکھانے کے لئے دیا کرتے تھے لہٰذا اس کی حیثیت تاوان محض تھی۔‘‘

 ’’مغرم‘‘ اور’’یتربص بکم الدوائر‘‘ کے سلسلہ میں سدی کے اس قول کو بھی پیش نظر رکھیں:

’’ابن ابی حاتمؒ سدیؒ سے آیتِ کریمہ ومن الأعراب کی تفسیر نقل کرتے ہیںکہ وہ لوگ جو مال خرچ کرتے تھے اس کو ایک تاوان سمجھ کر ادا کرتے تھے اور رسول اللہﷺ کی وفات کا انتظار کرتے تھے۔‘‘

 امردوم کے بارے میں یہی مفسر ضحاک تصریح فرماتے تھے:

’’یہ لوگ قبیلہ اسد اور غطفان سے تعلق رکھتے تھے۔‘‘

 قبائل عرب میں بنو اسد کے دو قبیلے مشہور تھے(۱) اسد بن ربیعہ بن نزار معد بن عدنان(۲) اسد بن خزیمہ بن مدرکہ بن الیاس بن مضر، یہاں اس سے قبیلہ اسد بن خزیمہ مراد ہے دوسرا قبیلہ بنو غطفان قیس سے تعلق رکھتا تھا اس کا سلسلہ نسب اس طرح بیان کیا جاتا ہے: غطفان بن سعد بن قیس بن غیلان۔ قبیلہ غطفان سے تین شاخیں نکلیں(۱) شجع(۲) ذبیان(۳) عبس، ان قبائل کا مسکن نجد کا علاقہ تھا وادی القریٰ اور طی کے پہاڑوں کے درمیان ، بنو غطفان کی شاخ بنو ذبیان سے تین خاندان بنے(۱)بنو مرۃ(۲) بنو ثعلبہ(۳) بنو فزارہ،اس تیسرے خاندان بنو فزارہ کا سردار عیینہ بن حصن تھا جس کو رسول اللہﷺ نے ’’احمق مطاع‘‘ کا لقب دیا تھا اور غزوہ خندق میں قریش کی مدد کے لئے لانے والا یہی شخص تھا کچھ عرصہ بعد مع اپنے قبیلے کے مسلمان ہوگیا، پھر رسول اللہﷺ کی وفات کے بعد فتنہ ارتداد میں شریک ہوگیا یعنی زکوٰۃ ادا کرنے سے انکار کردیا اور خانہ ساز نبی طلیحہ پر ایمان لے آیا بعداز اں حضرت صدیق اکبررضی اللہ عنہ کے ہاتھ تائب ہوا۔

 قبیلہ بنو اسد کا مسکن بھی نجد کا شمالی علاقہ تھا اس لئے قبیلہ غطفان اور قبیلہ اسد قریب قریب آباد تھے،قبیلہ بنو اسد میں سے طلیحہ بن خویلد تھا جس نے نبوت کا دعویٰ کیا تھا۔فتنہ ارتداد اور منع زکوٰۃ میں ان دونوں قبیلوں نے بڑھ چڑھ کر حصہ لیا تھا۔

 مؤرخ طبری بروایت سیف نقل کرتے ہیں:

 ’’مسیلمہ اور طلیحہ نے نبوت کا دعویٰ کیا اور ان دونوں کا معاملہ غیر معمولی طور پر اہمیت اختیار کر گیا، طلیحہ کی نبوت پر قبیلہ طی اور اسد کے عوام متفق ہوگئے، اس طرح قبیلہ غطفان بھی مرتد ہوگیا۔‘‘

اور اس روایت سے کچھ پہلے بروایت علی بن محمد نقل کرتے ہیں:

’’اور حضرت صدیق اکبررضی اللہ عنہ کے پاس قبائل کے وفد مرتد ہو کر آئے جو نماز کا اقرار کرتے تھے اور زکوٰۃ کا انکار کرتے تھے، حضرت صدیق اکبررضی اللہ عنہ نے اسے قبول نہیں کیا بلکہ ان کو رد کردیا۔‘‘

 اور اسی روایت کے آخر میں یہ جملے بھی ملتے ہیں:

’’فتنہ ارتداد کے سلسلہ میں سب سے پہلی لڑائی رسول اللہﷺ کی وفات کے بعد اسود عنسی سے یمن میں ہوئی، اس کے بعد خارجہ بن حصن اور منظور بن زیان سے قبیلہ غطفان میں جنگ ہوئی۔‘‘

 علاوہ ازیں واقدی نے’’کتاب الردۃ‘‘ میں مرتد ہوجانے والے قبائل کی جو فہرست دی ہے ان میں قبیلہ اسد و غطفان کو سرفہرست ذکر کیاہے چنانچہ فرماتے ہیں:

’’عرب کے بعض قبائل مرتد ہوگئے چنانچہ( بنی عبس کے علاوہ) بنو غطفان اور بنو اسد کے لوگ مرتد ہوگئے تھے۔‘‘

 اور کتاب الردۃ لموسیٰ بن عقبہ میں لکھا ہے:

’’جب رسول اللہﷺ کی وفات ہوگئی تو بعض قبائل اپنے دین سے پھرگئے کچھ یمن کے لوگ تھے اور تمام مشرق( نجد) کے رہنے والے بنو غطفان، بنو اسد اور بنو عامر۔‘‘

 اب واقعات کی جو تصویر ہمارے سامنے آتی ہے وہ یہ کہ قبیلہ اسد اور غطفان کے لوگ رسول اللہﷺ کے زمانہ میں مسلمان ہوگئے تھے ان لوگوں کی نیت یہ تھی کہ اسلام میں داخل ہو کر اس کے فوائد و ثمرات سے تو متمتع ہوتے رہیں لیکن اسلام نماز ،روزے اور زکوٰۃ کی جو پابندیاں عائد کرتا ہے اس سے کوئی راہ فرار تلاش کریں، اسلام کا نظام صدقات یعنی زکوٰۃ اور اسلامی حکومت کی طرف سے اس کی باقاعدہ تحصیل ان پر سب سے زیادہ شاق تھی اس لئے جب ان سے زکوٰۃ لی جاتی تھی۔

(جاری ہے)

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

Rangonoor Web Designing Copyrights Khabarnama Rangonoor