Bismillah

694


۱۰رمضان المبارک۱۴۴۰ھ

جواہر حدیث۔۵

جواہر حدیث۔۵

انتخاب مضامین

مفتی اعظم پاکستان حضرت مفتی ولی حسن ٹونکی نور اللہ مرقدہ (شمارہ 682)

سفر میں اپنے رفیقانِ سفر کی خدمت بھی اس میں داخل ہے۔

حضرت مجاہدؒ کہتے ہیں کہ میں ایک مرتبہ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما کے ساتھ سفر میں گیاتاکہ ان کی خدمت کروں لیکن وہ میری خدمت زیادہ کرتے تھے، صالحین سے منقول ہے کہ سفر میں پہلے شرط لگا لیا کرتے تھے کہ میں سفر میں خدمت کروں گا، نقل ہے کہ ایک شخص مجاہدین کی خدمت کے لیے شریک سفر ہوا،پہلے سے طے کرلیا کہ سفر جہاد کی ساری خدمت میرے ذمہ ہے، وہ سب کی خدمت کرتے یہاں تک کہ وہ مجاہدین کا سردھوتے ،کپڑے دھوتے تھے، اگر کوئی انکار کرتا توکہتے کہ میری شرط ہے،اتفاقاً سفرمیں انتقال ہوگیا، غسل دینے کے لیے جب کپڑے اُتارے تو کھال اور گوشت کے درمیان لکھا ہوا پایا:

من اھل الجنۃ…جنتی ہے۔

 صحیحین میں حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ہم رسول اللہﷺ کے ساتھ ایک سفر میں تھے،ہم میں سے بعض روزہ دار تھے اور بعض غیر روزہ دار۔ ہم ایک سخت گرم دن میں کسی منزل میں اُترے، سایہ کی کوئی جگہ نہیں تھی سب سے زیادہ سایہ والا وہ شخص تھا جس نے کمبل سے سایہ کر رکھا تھا اورایسے بھی تھے جنہوں نے صرف ہاتھ سے سایہ کر رکھا تھا،روزہ دار نڈھال ہوکر گرگئے، بے روزہ داروں نے کام کیا، انہوں نے خیمے لگائے، اونٹوں کو پانی وغیرہ پلایا۔ حضور اکرمﷺ نے فرمایا: آج بے روزہ داراجر و ثواب لے گئے۔

 مراسیل ابو دائود میں حضرت ابو قلابہ سے روایت ہے کہ حضور اکرمﷺ کے کچھ صحابہ کسی سفر سے واپس آئے تو  اپنے ایک ساتھی کی بہت تعریف کرنے لگے کہ ہم نے اس جیسا آدمی نہیں دیکھا ،جب ہم چلتے رہتے تھے تو وہ برابر قرآن پڑھتا رہتا تھا اور جب ہم کسی منزل میں اُترتے تھے تو وہ نماز پڑھتا تھا۔ آپﷺ نے فرمایا :اس کے سامان کی کون حفاظت کرتا تھا؟ یہاں تک کہ آپ ﷺنے فرمایا: اس کے اونٹ کو چارہ کون کھلاتا تھا؟ ہم نے کہا : ہم یہ سب کام کرتے تھے، آپ ﷺ نے فرمایا : تم سب اس سے بہتر ہو۔

 صحیح مسلم میں حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اکرمﷺ صحابہ کرام کی ایک جماعت کے پاس تشریف لائے فرمایا:کس لیے بیٹھے ہو؟ عرض کیا:اس لئے کہ اللہ تعالیٰ کو یاد کریں اوراس نے جو اسلام کی نعمت سے ہم کو مالا مال کیاہے اس پر اس کی حمد کریں،آپﷺ نے فرمایا :کیا خدا کی قسم تم اسی لیے بیٹھے ہو؟صحابہ نے عرض کیا:خدا کی قسم ہم اس لیے بیٹھے ہیں۔ آپﷺ نے فرمایا :میں کسی تہمت کی بناء پر تم سے قسم نہیں لے رہا، بات یہ ہوئی کہ جبرئیل علیہ السلام میرے پاس آئے اور انہوں نے بتلایا کہ اللہ تعالیٰ فرشتوں کے سامنے تم پر فخرفرماتا ہے۔

اللہ کے گھروں مساجد میں، مدارس میں ذکر الہٰی، درس قرآن و حدیث کی جزاء کیا ہے؟

رسول اکرمﷺ فرماتے ہیں: اللہ تعالیٰ ان لوگوں کو چار انعامات سے نوازتا ہے:

 ۱)ان پر’’سکینہ‘‘نازل فرماتا ہے

۲)رحمت خداوندی ان کو ڈھانپ لیتی ہے

 ۳)فرشتے ان کوگھیر لیتے ہیں

۴)اللہ تعالیٰ اپنی مجلس میںان کا ذکر کرتا ہے…

۱)…سکینہ کیاہے؟صحیحین کی روایت سے اس کی وضاحت ہوتی ہے۔

 حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک شخص سورئہ کہف کی تلاوت کررہاتھا گھوڑا قریب بندھا ہوا تھا، کیادیکھتے ہیں کہ ایک بادل اس پر سایہ افگن ہے اور وہ بادل اس سے برابر قریب ہورہا ہے،گھوڑا اس کی وجہ سے بدکنے لگا، صبح ہوئی تو یہ شخص رسول اللہﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور رات کا ماجرا بیان کیا۔ آپﷺنے فرمایا:

یہ’’سکینہ‘‘ ہے قرآن کریم کی وجہ سے نازل ہوا تھا۔ صحیحین(بخاری و مسلم) میں ایک اور حدیث ہے:

اُسید بن حضیررضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں ایک رات قرآن کریم کی تلاوت کررہا تھا گھوڑا بھی قریب ہی بندھا ہوا تھا، اچانک گھوڑا بدکنے لگا( میں رک گیا کچھ دیر بعد پھر) میں نے دوبارہ تلاوت شروع کردی گھوڑا پھر بدکنے لگا،مجھے ڈرہواکہ قریب سوئے ہوئے میرے بچے یحییٰ کوگھوڑاپائوں سے نہ کچل ڈالے اس لیے مجھے اُٹھ کرگھوڑے کی طرف جانا پڑا، دیکھتا کیاہوں کہ میرے سر پر(نور کا) ایک سائبان ہے جس میں بہت سے چراغ روشن ہیںتھوڑی دیر بعد وہ سائبان فضامیں بلند ہوکر میری نگاہوں سے اوجھل ہوگیا۔

دوسرے روز رسول اکرمﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور واقعہ بیان کیا، آپﷺ نے ارشاد فرمایا :

’’یہ ملائکہ تھے جو تمہارا قرآن سننے آئے تھے اگر تم قرآن کریم پڑھتے رہتے تو صبح کو لوگ ان کو بلاحجاب اپنی آنکھوں سے دیکھ لیتے۔‘‘

 ایک مرسل حدیث میں آیاہے:

رسول اکرمﷺ ایک مجلس میں تشریف فرما تھے، آپﷺ نے نگاہ مبارک آسمان کی طرف بلند کی پھر جھکا لی ، تواس کے متعلق کسی نے دریافت کیا۔ ارشاد فرمایا:یہ لوگ اللہ کا ذکر کررہے تھے،ان پر سکینہ نازل ہوا جس کوفرشتے اُٹھا ئے ہوئے تھے جب وہ ان کے قریب آیاتوایک شخص نے کوئی نامناسب بات کہہ دی، اس لیے وہ اُٹھالیا گیا۔

 ۲)…رحمت خداوندی ان کو ڈھانپ لیتی ہے۔

قرآن کریم میں ارشاد ہے:ـ

ان رحمۃ اللّٰہ قریب من المحسنین

بلاشبہ اللہ کی رحمت اچھے کام کرنے والوںکے قریب ہے۔

ابو عبد الحاکم اپنی کتاب مستدرک میں حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیںـ:میں صحابہ کی ایک جماعت میں موجود تھا جو اللہ کا ذکر کر رہی تھی، رسول اللہﷺ کا ان پر گزر ہوا فرمایا:تم کیا کہہ رہے تھے میں نے دیکھا کہ رحمت الہٰی تم پربرس رہی ہے اس لیے میں نے چاہا کہ اس سعادت میں تمہارے شریک ہوجائوں۔

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

Rangonoor Web Designing Copyrights Khabarnama Rangonoor