Bismillah

694


۱۰رمضان المبارک۱۴۴۰ھ

جواہر حدیث۔۶

جواہر حدیث۔۶

انتخاب مضامین

مفتی اعظم پاکستان حضرت مفتی ولی حسن ٹونکی نور اللہ مرقدہ (شمارہ 683)

مسند بزار میں انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے:رسول اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا:

اللہ تعالیٰ کے کچھ فرشتے ایسے ہیں جوزمین پر گھومتے پھرتے رہتے ہیں، ان کا کام یہ ہے کہ’’ذکر‘‘ کے حلقے، تلاش کرتے رہتے ہیں جہاں ان ذکر کرنے والوں کے پاس پہنچتے ہیں تو ان کے گرد گھیراڈال لیتے ہیں پھر وہ اپنے قاصد کو اللہ رب العزت کے پاس بھیجتے ہیں وہ جا کر بار گاہ ایزدی میں عرض کرتا ہے:پروردگار! ہم تیرے بندوں میں سے کچھ بندوں کے پاس سے آئے ہیں جوتیری نعمتوں کا تذکرہ کررہے ہیں تیری کتاب کی تلاوت کررہے ہیں ،تیرے برگزیدہ نبیﷺ پر درودوسلام بھیج رہے ہیں اور اپنی دنیا و آخرت کے لیے دعائیں مانگ رہے ہیں، اللہ تعالیٰ حکم فرماتا ہے:ان کو میری رحمت بے پایاں سے ڈھانپ لو۔

۴)فرشتے ان کوگھیر لیتے ہیں:

اس حمد و ثنا کی شرح پچھلی احادیث سے معلوم ہورہی ہے، مسند احمد کی روایت میں اس کی مزید کیفیت بھی مذکور ہے کہ فرشتے اس طرح گھیر اڈال لیتے ہیں کہ ایک پر دوسرا فرشتہ ( اوپر تلے) ہوتا ہے اور یہ سلسلہ عرش عظیم تک چلا جاتا ہے، خلال نے’’کتاب السنۃ‘‘میں ایک روایت نقل کی ہے جس کا ماحصل یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے کچھ فرشتے ’’ہوا‘‘میں آسمان اورزمین کے درمیان تیرتے رہتے ہیں، ذکر کے حلقے اور ان کی تلاش ان کا مقصد ہوتا ہے جب وہ کسی ایسے حلقے کو پالیتے ہیں تو وہ اپنے پیروں کو عرش تک ان پر پھیلالیتے ہیں۔

۴)اللہ تعالیٰ اپنی مجلس میں ان کا ذکر کرتا ہے:

صحیحین میں ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے:

اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ میں اپنے بندے کے گمان کے پاس ہوں اور میں اس کے ساتھ ہوتا ہوں جبکہ وہ میرا ذکر کرتا ہے، اگر وہ مجھے اپنے دل میں یاد کرتا ہے تو میں اس کو اپنے دل میں یاد کرتا ہوں اور اگر وہ مجھے کسی جماعت میں یاد کرتا ہے تو میں اس کو اس کی جماعت سے بہتر جماعت میں یاد کرتا ہوں۔

 قرآن کریم میں ارشاد ربانی ہے:

فاذکرونی اذکرکم

تم مجھے یاد کرو میں تم کو یاد کروں گا

 ایک اور آیت میں ارشاد ہے:

اے ایمان والو! اللہ تعالیٰ کو بہت زیادہ یاد کرو اور صبح و شام اس کی تسبیح بیان کرو وہ اللہ تعالیٰ ہی ہے جو تمہاری ثنا کرتا ہے اور اس کے فرشتے بھی تاکہ تم کوتاریکیوں سے نکال کر روشنی میںلے آئے۔

 ذکر الہٰی کی اس سے بڑی جزا کیا ہوسکتی ہے کہ اللہ تعالیٰ جو مالک الملک ہے، کائنات کا خالق اور مالک ہے اپنے بندے کا ملائکہ مقربین کی جماعت کے سامنے ذکر کرے اور اس کی ثنا کرے، پھر اس کے ساتھ ذکر کی برکت سے اس کو تاریکیوں سے نکال کر روشنی کی طرف لے آئے۔

 اللہ تعالیٰ ہم سب کو ذکر الہٰی کی توفیق عنایت فرمائے۔

 حدیث کا آخری جملہ ہے:

ومن ابطاء بہ عملہ لم یسرع بہ نسبہ

جس کو اس کے عمل نے پیچھے کردیا اس کانسب اس کو آگے نہیں بڑھا سکتا۔

حدیث شریف کا یہ جملہ بھی بڑا معنی خیز ہے اور ایک بڑی حقیقت بیان کی جارہی ہے۔ انسان ایک عرصہ تک اس وہم میں مبتلا رہا کہ نسب و حسب اس کی نجات کا ضامن ہے، یہود کا تو مستقل نعرہ تھاکہ نحن ابناء اللّٰہ واحباء ہہم اللہ کے بیٹے اور اس کے دوست ہیں۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ وہ سمجھتے تھے کہ ہم انبیاء کی اولاد ہیں۔ قرآن کریم نے ان کے اس جاہلانہ تصور کی بار بار تردید کی ہے اور و اشگاف الفاظ میں اظہار کیا کہ مدارنجات عمل ہے نسب نہیں، رسول اللہﷺ بھی اسی حقیقت کو بیان فرمارہے ہیں اور ذہن نشین کرارہے ہیں کہ عمل سے بلندر درجات نصیب ہوتے ہیں۔ جوشخص کوتاہ عملی کی وجہ سے بلند درجات حاصل نہیں کر سکا تواس کا نسب اس کو آگے نہیں بڑھا سکتا۔ اس کا راز دنیا میں بھی ہم اس کا مشاہدہ کرتے ہیں کہ جو لوگ لگن ،محنت سے کام کرتے ہیں وہ مقصود حاصل کرلیتے ہیں اور عالی نسب جو صرف اپنی نسبتوں پر فخر و مباہات کرتے ہیں ،کام ومحنت سے جی چراتے ہیں بہت پیچھے رہ جاتے ہیں۔جب دنیامیں نسب کا م نہیں آتا تو آخرت میں کیا کام دے گا۔

 صحیحین کی ایک حدیث کا مضمون ہے:

اے جماعت قریش! اپنے لیے کچھ حاصل کر لو میں اللہ کے یہاں تمہارے کام نہیں آئو ں گا، اے عباس بن عبد المطلب! میں تمہارے کام نہیں آئوں گا، اے صفیہ! میں تمہارے کام نہیں آئوں گا، اے فاطمہ بنت محمد(ﷺ) مجھ سے دنیا کی کوئی چیز طلب کرنا ہے تو طلب کرو، آخرت میں تمہارے کام نہیں آئوں گا۔

 ایک اور حدیث میں ہے:

میرے دوست وہی ہیں جو تقویٰ سے آراستہ ہوں، قیامت میں لوگ تواعمال لے کر آئیں گے اورتم اپنی گردنوں پر دنیا کا بوجھ لائو گے اور مجھے پکارو گے میں کہہ دوں گا کہ میںنے تو پہنچادیا۔

ایک عربی شاعر نے کیا خوب کہا ہے:

انسان کی شان دین سے ہی وابستہ ہے اپنے خاندان و نسب پر بھروسہ کرکے تقویٰ کو نہ چھوڑ ، اسلام نے حضرت سلمان فارسیؒ کو بلند فرمایا اور شرک و فکر نے ابو لہب نسب وار کو گرادیا۔ وآخردعوانا ان الحمد للہ رب العالمین

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

Rangonoor Web Designing Copyrights Khabarnama Rangonoor