Bismillah

694


۱۰رمضان المبارک۱۴۴۰ھ

جواہر حدیث۔۷

جواہر حدیث۔۷

انتخاب مضامین

مفتی اعظم پاکستان حضرت مفتی ولی حسن ٹونکی نور اللہ مرقدہ (شمارہ 684)

امیر المؤمنین ابی حفص عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہﷺ سے سنا، آپﷺ فرماتے تھے:اعمال کا مدار نیتوں پر ہے اور ہر شخص کے لیے اس کی نیت کے مطابق جزا ہے جس کی ہجرت اللہ اور اس کے رسول کی طرف ہو تو یقینا اس کی ہجرت اللہ اور اس کے رسول کی طرف ہوگی اور جس کی ہجرت دنیا کمانے یا کسی عورت سے نکاح کی خاطر ہو تو اس کی ہجرت اسی طرف سمجھی جائے گی جس کی طرف اس نے ہجرت کی۔( بخاری و مسلم)

راوی حدیث:

اس حدیث کے راوی عمر بن الخطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ ہیں، پورا نسب اس طرح ہے: عمر بن الخطاب بن نفیل بن عبد العزی بن رباح بن عبداللہ بن قرط بن رزاح بن عدی بن کعب القرشی العدوی

آپ کی والدہ ماجدہ ہاشم بن مغیرہ بن عبداللہ بن عمر بن مخزوم کی صاحبزادی تھیں جن کا نام حنتمہ تھا، ددھیاں کی طرف سے عدوی اور ننھیال کی طرف سے مخزومی ہیں۔ حضرت عمررضی اللہ عنہ کی ولادت واقعہ فیل کے تیرہ سال بعد ہوئی۔ حضرت عمررضی اللہ عنہ جب جوان ہوئے تو ان کا شمار اشراف قریش میں ہونے لگا۔سفارت ان کے ذمہ کی گئی، قریش کی جب کسی قبیلہ سے لڑائی ہوتی یا فخرو مباہات کی مجلس قائم ہوتی تو حضرت عمررضی اللہ عنہ قریش کے سفیر کے حیثیت سے کام کرتے ، اسلام کا مہرجہاںتاب جب طلوع ہوا توقریش کے دیگر بااثر افراد کی طرح حضرت عمررضی اللہ عنہ اسلام دشمنی میں پیش پیش تھے، رسول اکرمﷺ نے بارگاہ خداوندی میں دعاء فرمائی:

اللھم اعزالا سلام باحب الرجلین الیک بعمربن الخطاب اوبابی جھل بن ھشام

اے اللہ! اسلام کو قوت عطاء فرما ان دونوں میں سے اس شخص سے جو تیرے نزدیک پسندیدہ ہو،عمر بن الخطاب یا ابو جہل بن ہشام

احب الرجلین الیک کا قرعہ فال حضرت عمررضی اللہ عنہ کے نام نکلا اور حضور اکرمﷺ کی دعائے نیم شبی قبول ہوئی اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ اسلام لے آئے اور یہ ثابت بھی ہوگیا کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ بارگاہ الہیٰ میں احب الی اللہ اور بارگاہ رسالت میں مرید ہی نہیں مراد تھے، ان کے اسلام لانے کا واقعہ مشہور ہے۔

 حافظ ابن حجرؒ لکھتے ہیں:

 بعثت نبوی کے وقت مسلمانوں کے نہایت مخالف تھے،بعد میں اسلام لے آئے حضرت عمررضی اللہ عنہ کا اسلام مسلمانوں کے لیے فتح اور تکالیف سے رہائی کا سبب بنا۔ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں:ہم نے حضرت عمررضی اللہ عنہ کے اسلام لانے تک اللہ تعالیٰ کی علانیہ عبادت نہیں کی۔

 حضرت عمررضی اللہ عنہ کو اللہ تعالیٰ نے اسلام کی نصرت اور فتح و کامرانی کے لیے منتخب فرمایا تھا اس لیے حضورﷺ نے خصوصی تربیت فرمائی، ابن عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:

رسول اکرمﷺنے حضرت عمررضی اللہ عنہ کے اسلام لانے کے بعد ان کے سینہ کو تین مرتبہ مارا اور آپ ﷺ یہ فرماتے تھے : الہٰی اس کے دل کے کھوٹ کو نکال دے اور اس کو ایمان سے تبدیل کردے ،یہ آپﷺ تین مرتبہ فرماتے تھے۔

 اس خصوصی تربیت اور تکمیل کے بعد حضرت عمررضی اللہ عنہ اس مقام رفیع تک پہنچ گئے کہ بارگاہِ رسالت سے اعلان ہونے لگا:

ان اللّٰہ جعل الحق علی لسان عمرو قلبہ

بلاشبہ اللہ تعالیٰ نے حق کو عمر کی زبان اور قلب پر جاری کیا۔

 حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہاروایت کرتی ہیں:

رسو ل اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا: تم سے پچھلی امتوں میں محدث ہوتے تھے، اس امت کے محدث عمر بن الخطاب ہیں۔

عقبہ بن عامر اور ابو ہریرہ رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں:

عن النبیﷺ انہ قال لو کان بعدی نبی لکان عمر

آنحضرتﷺ کاارشاد گرامی ہے: میرے بعد اگر کوئی نبی ہوتا تو وہ عمر ہوتے۔

علوم نبوت اور تشریع اور قانون سے اللہ تعالیٰ نے سرفراز فرمایا، اسی سے ان کے عہد میں بعض ایسے امور منضبط ہوئے جو عہد رسالت میں غیر منضبط تھے، ان امور کو قانون بنانے کاشرف عہد فاروقی کے لیے مقدر ہوچکا تھا، اس کی تفصیل بہت طویل ہے اور ایک علیحدہ مضمون کی مقتضی ہے۔ حضرت عمررضی اللہ عنہ کے اس شرف کو حضور اکرمﷺ کاارشاد گرامی واضح کررہا ہے۔

 حضور اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا : میں سورہا تھا کیا دیکھتا ہوں کہ میرے پاس دودھ کاپیالہ لایا گیا میں نے اس سے پیا اور خوب پیا اور میرے ناخن ناخن سے سیرابی ظاہرہونے لگی پھر میں نے باقی دودھ عمرکو دے دیا۔ لوگوں نے دریافت کیا : یا رسول اللہ! آپ نے اس کی کیا تعبیر فرمائی؟ آپ ﷺ نے فرمایا: علم۔

حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا عہد خلافت تاریخ اسلام کازریں اور تابناک باب ہے، تفصیل توطولانی ہے۔ حافظ مغرب ابن عدالبرؒ نے الاستیعاب ایک اجمالی نقشہ کھینچا ہے:

حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی وفات کے بعد ۳ھ میں خلیفہ ہوئے، پوری مدت خلافت میں بہترین سیرت سے آراستہ رہے، اللہ کے مال کے سلسلہ میں اپنے آپ کوایک عام آدمی سمجھا ،اللہ تعالیٰ نے آپ کے عہد میں مسلمانوں کو مصر، شام، عراق کی فتوحات سے نوازا، دیوان مرتب فرمایا، جس میں لوگوں کی تنخواہیں ان کے کارناموں کے اعتبار سے مقرر فرمائیں۔کسی ملامت کرنے والے کی ملامت سے نہ ڈرنا آپ کاطرئہ امتیاز تھا، آپ ہی نے روزہ کے مہینہ کوتراویح کے ذریعہ روشن اور منور فرمایا۔ واقعہ ہجرت سے اسلامی تاریخ کی ابتداء کی۔ وغیر ہ وغیرہ

 ۲۷/ذی الحجہ ۲۳ ھ کو علم وعرفان کا یہ آفتاب گہن میں آگیا۔ فیروزنامی ایک مجوسی نے نماز کی حالت میں آپؓ کونیزہ ماراتھا…

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

Rangonoor Web Designing Copyrights Khabarnama Rangonoor