Bismillah

694


۱۰رمضان المبارک۱۴۴۰ھ

جواہر حدیث۔۸

جواہر حدیث۔۸

انتخاب مضامین

مفتی اعظم پاکستان حضرت مفتی ولی حسن ٹونکی نور اللہ مرقدہ (شمارہ 685)

حدیث پاک کا درجہ اور مقام

یہ حدیث نہایت ہی اہم اور بابرکت ہے،علمائے امت نے اس کی شان کو مختلف حیثیتوں سے ظاہر فرمایا ہے، امام بخاری رحمہ اللہ نے اپنی کتاب صحیح کی ابتداء اسی حدیث سے کی اور اس کو خطبہ کی جگہ یہ بتلانے کے لیے کہ جس عمل میں ذات الہٰی مقصود نہ ہو وہ عمل باطل ہے، دنیا و آخرت میں اس کا کوئی نتیجہ نہیں۔

مشہور محدث عبدالرحمن مہدیؒ فرماتے ہیں کہ میں اگر کوئی کتاب مختلف ابواب میں تصنیف کرتا، تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی یہ حدیث انما الاعمال بالنیات الخ ہر باب کا سرنامہ بناتا۔

یہ حدیث ان احادیث میں سے ہے جن پردین کا مدار ہے، امام شافعی رحمہ اللہ  فرماتے ہیں :

ھذاالحدیث ثلث العلم ویدخل فی سبعین بابا من الفقہ

یہ حدیث علم کا تہائی حصہ ہے اور فقہ کے ستر ابواب میں اس کا دخل ہے۔

 امام احمدبن حنبل رحمہ اللہ فرماتے تھے: اسلام کی بنیاد تین حدیثوں پر ہے، ایک تو حدیث عمر انما الا عمال بالنیات، دوسری حدیث حضرت عائشہ من احدث فی امرنا ھذا مالیس منہ فھوارد‘‘یعنی جس نے ہمارے اس دین میں ایسی چیز نئی نکالی جواس میں نہیں تھی توہ مردود ہے،تیسری حدیث لقمان بن بشیر الحلال بیّن والحرام بیّن یعنی حلال ظاہرہے اور حرام ظاہر ہے ۔

ابو عبداللہ الحاکم اپنی روایت سے امام احمد کا قول ان کے صاحبزادے عبداللہ کے حوالہ سے بیان کرتے ہیںکہ امام احمدؒ نے فرمایا : تین احادیث اصول احادیث ہیں:

۱)حضوراکرمﷺ کا ارشاد اعمال کا مدار نیتوں پر ہے۔

 ۲)آپﷺ کا یہ فرمان کہ تم میں سے ہر شخص اپنی ماں کے پیٹ میں چالیس دن نطفہ رہتا ہے۔

 ۳)رسول اکرمﷺ کا فرمانا کہ جس نے ہمارے دین میں نئی بات نکالی تو وہ مردود ہے۔

 جلیل القدر محدث اسحاق بن راہویہؒ نے بھی ان چاروں احادیث کو اصول دین فرمایا۔عثمان بن سعید امام ابو عبید قاسم سے نقل کرتے ہیں کہ حضورﷺ… نے سارے آخرت کے امور کو ایک کلمہ من احدث فی امرنا مالیس منہ فھورد میں جمع فرمادیا اور سارے امور دنیا کو انما الاعمال بالنیات میں جمع فرمادیا۔

 امام ابو دائود سجستانیؒ جن کی کتاب’’سنن ابی دائود‘‘ حدیث کی بلند پایہ کتا ب ہے اور نقد حدیث ورجال میں جن کا درجہ مسلّم ہے فرماتے ہیں:

میں نے حضور اکرمﷺ کی پانچ لاکھ حدیثیں لکھیں۔ جن میں سے میں نے چار ہزار آٹھ سو حدیثوں کو منتخب کر کے اپنی کتاب السنن میں جمع کیا ہے ،البتہ ایک انسان کے دیندار بننے کے لیے یہ چار حدیثیں کافی ہیں:

۱)اعمال کامدار نیتوں پر ہے

۲)بے فائدہ اوربے نتیجہ باتوں کو چھوڑ دینا ایک انسان کے صحیح مسلمان ہونے کی علامت ہے۔

 ۳)تم میں سے کوئی شخص اس وقت تک مومن نہیں ہوسکتا جب تک کہ اپنے بھائی کے لیے وہی پسند کرے جو اپنے لیے پسند کرتا ہے۔

 ۴)حلال بھی ظاہر ہے اور حرام بھی ظاہر ہے۔

 امام ابو دائودؒ نے ایک دوسرے قول میں پانچ حدیثوں کو مدارفقہ قرار دیا ہے:

 ۱)حلال بھی ظاہر ہے اور حرام بھی ظاہر۔

۲)نہ خودنقصان اٹھائواور نہ کسی کو پہنچائو

۳)اعمال کا مدار نیتوں پر ہے۔

 ۴)دین خیر خواہی کا نام ہے

 ۵)جس سے میں نے تم کومنع کیا ہے اس سے باز آجائو اور جن کا حکم دیا ہے اس پر عمل کرو اپنی طاقت اوراستطاعت کے بموجب۔

امام ابو دائودؒ کاتیسرا قول یہ ہیکہیہ چار حدیثیں اصول سنن ہیں:

۱)حدیث عمررضی اللہ عنہ اعمال کا مدارنیتوں پر ہے۔

۲)حدیث نعمان میں بشیر رضی اللہ عنہ حلال ظاہر ہے اور حرام ظاہر ہے۔

۳)بے فائدہ اوربے نتیجہ باتوں کو چھوڑ دینا ایک آدمی کے صحیح مسلمان ہونے کی علامت ہے۔

۴)دنیا سے بے رغبت ہوجا، تجھ سے اللہ تعالیٰ محبت کرے گا۔ لوگوں کے ہاتھ میں جوکچھ ہے اس سے بے رغبت ہو جا،لوگ تجھ سے محبت کریں گے۔

 حافظ ابو الحسن طاہر بن مفون المنافری الاندلسیؒ نے اسی کو نظم کیاہے:

عمدۃ الدین عندنا کلمات

اربع من کلام خیر البریۃ

اتق الشبہات وازہد ودع ما

لیس یعنیک واعمل بنیتہ

ترجمہ:دینی احکام کا مدار ہمارے نزدیک خیرالبریہ ﷺ کے چار کلمات پر ہے:

۱)شبہات سے بچو

۲)دنیا سے بے رغبت ہوجائو

۳)بے فائدہ و بے نتیجہ باتوں کو چھوڑدو

۴)نیت کے ساتھ عمل کرو۔

حدیث جبریل علیہ السلام

حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ، وہ فرماتے ہیں کہ ایک روز ہم رسول اللہﷺ کی خدمت میں حاضر تھے کہ ایک شخص اچانک حاضر ہوا، جس کے کپڑے نہایت سفید،بال بہت ہی سیاہ تھے، اس پر سفر کا کوئی اثر نہ تھا  اور نہ ہم میں سے کوئی اس کو جانتا تھا ، وہ آتے ہی رسول اللہﷺ کے زانو سے زانو ملا کربیٹھ گیا، اپنے دونوں ہاتھ اپنی رانوں پر رکھ لیے اورعرض کیا: یا محمد! مجھ کواسلام کی حقیقت سے آگاہ فرمائیے، آپﷺ نے فرمایا : اسلام یہ ہے کہ تواس امر کا اعتراف کرے اور شہادت دے کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں ہے اور یہ کہ محمد(ﷺ) اللہ کے رسول ہیں اور تو نماز قائم کرے، زکوٰۃ ادا کرے، رمضان کے روزے رکھے اور طاقت ہو تو بیت اللہ کا حج کرے، اس نے کہا: آپ نے سچ فرمایا ،حضرت عمررضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ہم لوگ یہ سن کر حیران رہ گئے کہ یہ شخص آپﷺ سے دریافت بھی کرتا ہے اور( عالمانہ انداز میں) آپﷺ کی تصدیق بھی کرتا ہے، پھر اس نے دریافت کیا: ایمان کی حقیقت کیا ہے؟آپﷺ نے فرمایا :’’ایمان‘‘یہ ہے کہ تو اللہ پر، اس کے فرشتوں پر ، اس کی کتابوں پر، اس کے رسولوں پر اور قیامت کے دن پر ایمان لائے اوراس بات پر بھی کہ اچھی بری تقدیر سب اللہ کی طرف سے ہے…(جاری ہے)

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

Rangonoor Web Designing Copyrights Khabarnama Rangonoor