Bismillah

694


۱۰رمضان المبارک۱۴۴۰ھ

جواہر حدیث۔۹

جواہر حدیث۔۹

انتخاب مضامین

مفتی اعظم پاکستان حضرت مفتی ولی حسن ٹونکی نور اللہ مرقدہ (شمارہ 686)

اس نے کہا: آپ ﷺ نے سچ فرمایا۔ اس کے بعداس نے دریافت کیا کہ احسان کیا ہے؟آپﷺ نے فرمایا: احسان یہ ہے کہ تو اللہ تعالیٰ کی اس طرح عبادت کرے گو تواس کو دیکھ رہا ہے ،اگر یہ کیفیت حاصل نہ ہو تو کم ازکم یہ کیفیت تو پیدا ہو کہ وہ تجھے دیکھ رہاہے، اس نے کہا: آپﷺ نے سچ فرمایا ۔پھر اس شخص نے قیامت کے متعلق دریافت کیا( کہ کب آئے گی) آپﷺ نے فرمایا: اس کے بارے میں جس شخص سے دریافت کیا جائے اس کا علم دریافت کنندہ سے زیادہ نہیں ہے، اس نے کہا: اچھا پھر مجھے اس کی نشانیاں بتادیجئے، آپﷺ نے فرمایا : اس کی نشانیوں میں سے ایک نشانی یہ ہے کہ لونڈی اپنے آقا کو جنے گی، دوسری نشانی یہ ہے کہ ایسے لوگ جوکبھی برہنہ پا وبرہنہ جسم فقیر وقلاش تھے، بکریاں چراتے تھے، تم ان کو دیکھوگے کہ عالیشان بلڈنگیں بنارہے ہیں۔

حضرت عمررضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ پھر وہ چلا گیا، پھر کچھ دیرکے بعد آپﷺ نے فرمایا:عمرؓ!جانتے ہو یہ دریافت کر نے والا شخص کون تھا؟ میں نے عرض کیا : اللہ اور اس کے رسول ہی بہتر جانتے ہیں ۔ آپﷺ نے فرمایا: یہ جبریل علیہ السلام تھے، وہ اس واسطے تھے کہ تمہیں دین( کے خلاصہ) کی تعلیم دیں۔( صحیح مسلم)

فوائد ونکات عظمت حدیث:

یہ حدیث حضرت فاروق اعظم عمر بن خطاب، حضرت ابوہریرہ، حضرت عبداللہ بن عباس، حضرت انس بن مالک اور حضرت ابو عامررضوان اللہ علیہم اجمعین سے مروی ہے، صحیح بخاری، صحیح مسلم ،جامع ترمذی، صحیح ابن حبان، مسنداحمد اور حدیث کی دوسری کتابوں میں یہ حدیث کم وبیش الفاظ سے ملتی ہے، یہ حدیث جو حدیث جبریل کے نام سے مشہور ہے، درحقیقت اُم الاحادیث ہے، جس طرح کہ سورئہ فاتحہ ’’اُمّ القرآن ‘‘ہے اور پوراقرآن اس کی شرح ہے یایوں کہہ لیجئے کہ سورۃ فاتحہ اجمالاً تمام علوم قرآن پر حاوی ہے اور پورا قرآن اس کی تشریح وتفصیل۔ اسی طرح یہ حدیث مبارک علوم نبوت کا خلاصہ اور ذخیرہ احادیث کادیباچہ ، مقدمہ اور اجمال ہے، باقی سب احادیث اس کی تفصیل وتشریح ہیں۔ امام نوویؒ، قاضی عیاضؒ سے نقل کرتے ہیں:

یہ حدیث تمام عبادات ظاہرہ وباطنہ کے وظائف پر مشتمل ہے، چنانچہ عقائد ایمان، اعمال ظاہرہ، اخلاص نیت اور اعمال کی آفات سے تحفظ سب کچھ اس میں موجود ہے، گویا تمام علومِ شریعت اسی کی طرف راجع ہیں اوراسی سے نکلتے ہیں۔

 حافظ ابن رجب حنبلیؒ اپنی بے نظیر کتاب ’’جواہر الحکم‘‘ میں رقم فرماہیں:

یہ بہت ہی عظیم الشان حدیث ہے، پورے دین کی شرح پر مشتمل ہے ،اسی بناء پر اس کے آخر میں آنحضرتﷺ نے فرمایا:’’یہ جبریل تھے جوتمہارے پاس اس غرض سے آئے تھے کہ تم کو دین سکھائیں‘‘

زمانہ حدیث:

غالباً اس عظیم الشان حدیث پاک کا زمانہ ورود ۹ھ کے بعد کا ہے، کیونکہ اس میں حج کا ذکر ہے اور حج بقول اصح ۹ ھ میں فرض ہوا، معلوم ایسا ہوتا ہے( واللہ اعلم) کہ جب دین کی تکمیل ہوچکی اور آنحضرتﷺ کے دنیا سے تشریف لے جانے کا وقت قریب آگیاتو اللہ تعالیٰ نے چاہا کہ اس دینِ حنیف کا خلاصہ اور اجمال امت مرحومہ کے سامنے آجائے اس نے جبرئیل علیہ السلام کوبھیجا اور ان سے سوالات کرائے اور پھر آنحضرتﷺ کے ارشاد و فرمودہ جوابات کی حضرت جبریل امین سے تصدیق کرائی۔

مضامین حدیث:

حدیث مبارکہ درج ذیل امور کی شرح پر مشتمل ہے:

اسلام، ایمان،احسان، قیامت، علامات قیامت

اسلام کی شرح میں آپﷺ نے شہادتین،نماز ،زکوٰۃ، روزئہ رمضان اور حج بیت اللہ کو ذکر فرمایا، ایمان کی شرح میں ایمانیات و عقائد کو ذکر فرمایا، یعنی اللہ پر ایمان لانا، فرشتوں پر ایمان لانا، آسمانی کتابوں پر ایمان لانا، قیامت پر ایمان لانا اور تقدیر خداوندی پر ایمان لانا…غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ یہاں اسلام اور ایمان کے لغوی مفہوم سے سوال نہ تھا بلکہ درحقیقت اسلام اور ایمان کے متعلقات سے سوال تھا کہ اسلام جس کے معنی اطاعت وانقیاد کے ہیں، دین میں اس کے متعلقات کیا ہیں؟چنانچہ اس کے جواب میں آپﷺ نے ظاہری اعمال یعنی شہادتین جس کازبان سے اقرار ضروری ہے ، نماز،روزہ، زکوٰۃ اور حج ذکر فرمائے۔ اسی طرح ایمان، جس کے معنی یقین کے ہیں، ا س کے متعلقات دریافت کئے گئے اور جواب میں آپﷺ نے ان امور کو ذکر فرمایا جن پر ایمان لانا ضروری ہے اور ان چیزوں پر یقین صحیح ہو تو تمام عقائداس میں آجاتے ہیں۔

اسلام کے ضمن میں رسول اکرمﷺنے اعمال ظاہرہ کو ذکر فرمایا ہے، اسی حدیث کے بعض طرق میں کچھ اضافہ بھی ملتا ہے، چنانچہ صحیح ابن حبان میں اسلام کے ذیل میں یہ الفاظ ہیں:

وتحج وتعتمروتغتسل من الجنابۃ وان تتم الوضوء

’’اسلام میں یہ بھی داخل ہے کہ تم حج و عمرہ کرو، غسل جنابت کرو اور پوری طرح وضو کرو‘‘

اعمال ظاہرہ کو دوسری احادیث میں بھی’’اسلام‘‘ کے ذیل میں داخل کیاگیا ہے،مشہور حدیث ہے :

المسلم من سلم المسلمون من لسانہ ویدہ

’’ سچا مسلمان وہ ہے کہ دوسرے مسلمان اس کی زبان اور ہاتھ سے محفوظ رہیں‘‘

صحیحین میں عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے:

’’ ایک شخص نے رسول اکرمﷺ سے دریافت کیا: اسلام کی کون سی خوبی بہتر ہے؟ آپﷺ نے فرمایا: کھانا کھلانا ، جاننے والے اور نہ جاننے والوں کو سلام کرنا۔‘‘

 حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مستدرک حاکم میں روایت ہے:

’’اسلام کی روشنی اور نشانیاں ایسی ہی ہیں جس طرح کہ نشان راہ ہوتے ہیں۔ ان میں سے یہ ہے کہ اللہ کی عبادت کرواورشرک نہ کرو، اقامت الصلوٰۃ ، زکوٰۃ ادا کرو، رمضان کے روزے رکھو، نیکی کا حکم کرو، منکرات سے روک ، انسانوں سے جب ملو تو ان کو سلام کرو۔ اپنے گھر میں جب داخل ہوتو سلام کرو، جس نے ان میں سے کسی کام کوچھوڑ دیا تو وہ اس کوچھوڑ کر اسلام کے بارے میں تہمت والا سمجھا جائے گا اور جس نے ان سب کو چھوڑ دیا تو گویا اس نے اسلام کو بالکل ہی پس پشت ڈال دیا۔‘‘

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

Rangonoor Web Designing Copyrights Khabarnama Rangonoor