Bismillah

694


۱۰رمضان المبارک۱۴۴۰ھ

جواہر حدیث۔۱۰

جواہر حدیث۔۱۰

انتخاب مضامین

مفتی اعظم پاکستان حضرت مفتی ولی حسن ٹونکی نور اللہ مرقدہ (شمارہ 687)

حدیث جبریل میں جن پانچ ارکان اسلام کا ذکر فرمایا گیا ہے وہ اعمال ظاہرہ کی روح اور ان کی جان ہیں۔

شہادتین:اسلام کے لیے شہادتین کا اقرار ضروری ہے اس کے بغیر کسی بھی شخص پر اسلام کا حکم لگایا نہیں جا سکتا اور نہ کوئی عمل ہی اس کے بغیر قبول کیا جاسکتا ہے۔

اقامتِ صلوٰۃ:یعنی نماز کوآداب ظاہرہ و باطنہ کے ساتھ ادا کرنا، شہادتین کے بعد نماز کواس لیے بیان کیا کہ مظہر شہادتین ہے۔شہادتین میں جس چیز کا اقرار کیا تھا، نماز سے اس کا اظہار کامل ہوتا ہے۔ نماز مظہر عبودیت ہے، بندہ اپنے رب کی بندگی نماز کے ذریعہ ظاہر کرتا ہے۔قیام، رکوع ،سجود ،قومہ، قعود مختلف اوضاع و اطوار کے ساتھ بندہ اپنے رب کی بندگی کرتا ہے، پھر نماز جامع الاذکار ہے، اس میں ذکر لسانی، ذکر قلبی، ذکر بالجوارح تینوں ذکر موجود ہیں، اس میں انواعِ مخلوقات کی عبادت بھی جمع ہے ۔ بعض قیام کے ساتھ عبادت کررہے ہیں، جیسے درخت وغیرہ ،بعض قعود کے ساتھ جیسے پہاڑ ٹیلے وغیرہ۔ بعض رکوع کی حالت میں ہیں، جیسے چوپائے وغیرہ، بعض سجود کی حالت میں ہیں، مثلاً سانپ، ترکاریوں اور پھلوں کی بیلیں وغیرہ… علاوہ ازیں نماز جامع العبادات بھی ہے۔ اس میں اجمالاً زکوٰۃ ،روزہ اور حج بھی آجاتے ہیں۔ زکوٰۃ میں مال خرچ کیا جاتا ہے، نماز میں بھی پانی، کپڑااور مساجد کی تعمیر میں مال خرچ کیا جاتا ہے، زکوٰۃ کے باطنی معنی پاکیزگی اور بڑھنے کے ہیں۔نماز سے پاکیزگی حاصل ہوتی ہے اور اعمال صالحہ میں اضافہ ہوتا رہتا ہے، نماز کی ان میں خصوصیات کی بناء پر بارگاہ رسالت سے اعلان ہوا تھا :

الصلوٰۃ عماد الدین من اقامھا اقام الدین ومن ھدمھا ھدم الدین

نمازدین کاستون ہے، جس نے اس کی اقامت کی اس نے دین کی اقامت کی اور جس نے اس کو گرادیا اس نے دین کو گرادیا۔

 ایتاء زکوٰۃ:عبادت بدنی کے بعدعبادت مالی کو ذکر کیا، نعمت بدنی کے بعددوسری نعمت مال ہے، نعمت مال کا شکر زکوٰۃ کی صورت میں ادا کیا جاتا ہے ۔ادائیگی زکوٰۃ سے مال اور قلب دونوں پاک ہوتے ہیں۔

 حج:بدنی اور مالی دونوں عبادتوں سے مرکب ہے، اللہ تعالیٰ نے عرفات، منیٰ ،مزدلفہ،مقامات پر اپنے خاص انعامات کی بارش نازل فرمائی تھی۔حاجی ان مقامات پر خاص ایام میں جاکر رحمت الہٰی کی ان بارشوں کے قطرے لینے کی کوشش کرتا ہے، پھر کعبہ سب سے پہلی زمین جو پانی پر اُبھری اس کو رب کائنات کی عبادت اور طواف کے لیے مخصوص کیا گیا، حاجی اس کاطواف کر کے اپنی عبدیت کادیوانہ وار اعتراف کرتا ہے۔

ایمان:ایمان کے سوال کے جواب میں نبی کریمﷺ نے ایمانیات یااعمال قلبی کو ذکر فرمایا،آپ کی یہ تشریح قرآن کریم کی وضاحت کے عین مطابق ہے۔ درج ذیل آیات میں ایمان کی یہی شرح کی گئی ہے:

امن الرسول بماانزل الیہ من ربہ والمومنون کل امن باللّٰہ وملائکتہ وکتبہ ورسلہ( البقرہ: ع۴۰)

یامثلاً ارشاد ہے:

لیس البران تولواوجوھکم قبل المشرق و المغرب ولکن البر من امن باللہ والیوم الآخروالملائکۃ و الکتاب والنبیین ( البقرہ:۳۴)

ایمان باللہ:یعنی اللہ تعالیٰ پر ایمان لانا، ایمان باللہ میں توحید فی الذات، توحید فی الصفات، توحید فی الافعال تینوں داخل ہیں۔ تو حیدفی الذات تویہ ہیکہ اللہ تعالیٰ کے متعلق عقیدہ رکھے وہ ایک ہے، اس کا کوئی شریک نہیں۔ تو حید فی الصفات یہ ہے کہ مارنا، جلانا، روزی دینا، شفاء دینا وغیرہ سب کی سب اسی کے سایہ خاص ہیں۔توحید فی الافعال یہ ہے کہ بندگی کے مراسم ،نماز، طواف ،رکوع ،سجود سب کو اللہ تعالیٰ کے ساتھ خاص رکھے،کسی دوسرے کے لئے ان میںسے کسی فعل کوروانہ رکھے۔

ایمان بالملائکۃ:یعنی فرشتوں پرایمان لانا، ادیان سابقہ میں ارواح کا عقیدہ تھا اوراس سے ادیان سابقہ میں گمراہی آئی ان ہی ارواح کو خدائی صفات دے کر خدا تسلیم کرلیاگیا اور اس کے لیے بت تراشے گئے۔ہندوئوں کاسارا فلسفۂ مذہب و عقیدہ ارواح کے گرد گھومتا ہے، اسلام نے فرشتوں پر ایمان کے عقیدہ سے کہ فرشتے اللہ کی مخلوق ہیں، اللہ کی عبادت کرتے ہیں، اللہ کی نافرمانی نہیں کرتے، اس کے حکم کے تابع ہیں، اللہ تعالیٰ نے ان میں سے بعض کو بعض اہم کاموں پر لگادیا ہے ۔ارواح کے عقیدہ کی گمراہیوں سے بچا لیا۔

ایمان بالکتب:یعنی کتابوں پر ایمان لانا، اللہ تعالیٰ نے جس طرح انسان کے جسم کے لیے سامان حیات پیدا فرمایا۔ اسی طرح روح کی بالیدگی اور اس کی ہدایت کے لیے مختلف زبانوں میں ہدایت نامے ، صحیفے اور آسمانی نوشتے نازل فرمائے، ان سب پر ایمان لانے کا مطلب یہ ہے کہ ایک مومن اللہ تعالیٰ کی نازل کردہ ہدایت کے مطابق زندگی بسرکرتا ہے۔ آخری ہدایت نامہ اور نوشتہ آسمانی قرآن کریم ہے۔ اب تمام ہدایت اسی میں محفوظ ہے، سابقہ ہدایت نامے منسوخ ہوگئے۔

 ایمان بالرسل:یعنی انبیاء اور پیغمبروں پر ایمان لانا، ایمانیات کا اہم ترین جز ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے مخلوق کی ہدایت اور ان تک اپنے احکام پہنچانے کے لیے اپنے کچھ برگزیدہ بندوں کوچن لیا۔ ان پر اپنی وحی نازل فرمائی۔ سب سے پہلے نبی حضرت آدم علیہ السلام تھے اور سب سے آخری نبی حضرت خاتم النبیین محمد رسول اللہﷺ ہیں۔

رسول اکرمﷺ پر ایمان لانے میں یہ بھی داخل ہے کہ آپﷺ کے قول و عمل اور بیان سکوتی کے ذریعہ جو کچھ ہدایت امت کو مرحمت فرمائی ہے، وہ سب واجب الاتباع ہے، اس کے بغیر’’ایمان ‘‘ کا تصور ناممکن ہے۔

 ایمان بالآخرت: موت سے لے کر قبر حشر اور جنت یا دوزخ کے داخلہ تک مختلف مراحل یہ سب اس میں داخل ہیں اور ان سب پر ایمان لانا ضروری ہے۔

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

Rangonoor Web Designing Copyrights Khabarnama Rangonoor