Bismillah

694


۱۰رمضان المبارک۱۴۴۰ھ

جواہر حدیث۔۱۱

جواہر حدیث۔۱۱

انتخاب مضامین

مفتی اعظم پاکستان حضرت مفتی ولی حسن ٹونکی نور اللہ مرقدہ (شمارہ 688)

ایمان بالقدر:

یعنی اچھی بری تقدیر پر ایمان لانا، ایمانیات کا یہ بھی اہم جز ہے صحیح مسلم کی روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت عبداللہ بن عمررضی اللہ عنہ نے یہ حدیث اپنے والد ماجد حضرت عمررضی اللہ عنہ کی روایت سے منکرین تقدیر کے رد میں بیان کی تھی اور منکرین تقدیر سے اپنی براء ت کا اظہار کیا تھا۔

 ایمان اور اسلام کا فرق:

ابھی لکھا جا چکا ہے کہ اس حدیث میں اسلام اور ایمان کے درمیان یک گونہ فرق کیا گیا ہے، اسلام کے تحت اعمال ظاہرہ کو بیان فرمایا گیا اور ایمان کے ضمن میں ایمانیات یا اعمالِ باطنہ ذکر فرمائے گئے۔ جبکہ بعض دوسری احادیث میں اسلام کے ذیل میں ایمانیات کو ذکر فرمایا گیا اور ایمان کے سلسلہ میں ان اعمال ظاہرہ کو ذکر کیاگیا جو اسلام کے جواب میں ذکر کیے گئے ہیں۔ چنانچہ حدیث و فدعبدالقیس میں ایمان کی شرح میں بعینہٖ وہی اعمال ذکر فرمائے گئے جو یہاں اسلام کے جواب میں ذکر فرمائے گئے اور ایک دوسری حدیث میں حسب ذیل شرح ملتی ہے…

 مسند احمد عمرو بن عبد سے روایت ہے کہ ایک شخص رسول اکرمﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا، عرض کیا :یارسول اللہ! اسلام کیا ہے؟ آپﷺ نے ارشاد فرمایا: اسلام یہ ہے کہ تو اپنے نفس کو اللہ کے سپرد کردے اور دوسرے مسلمان تیرے ہاتھ اور زبان سے محفوظ ہوجائیں۔ پھر اس نے دریافت کیا کہ اسلام کی کونسی خوبی افضل ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ایمان۔پھر اس نے پوچھا:ایمان کیا ہے؟آپﷺ نے فرمایا: اللہ پر، فرشتوںپر، کتابوں پر، رسولوں پر اور دوبارہ زندہ ہونے پر ایمان لانا، پھر اس نے دریافت کیا: کونسا عمل افضل ہے؟آپﷺ نے فرمایا: ہجرت ! اس نے کہا کہ ہجرت کیا ہے؟آپﷺ نے ارشاد فرمایا: برائی کو چھوڑ دینا ہجرت ہے، پھر اس نے دریافت کیا کہ کونسی ہجرت افضل ہے؟ آپﷺ نے فرمایا: جہاد۔

غرض اسلام اور ایمان کے سلسلہ میں مختلف نصوص دیکھ کر اشکال ہوتا ہے ۔ حافظ رجب حنبلی نے اس بارے میں جو تحقیق زیب قرطاس فرمائی ہے۔ اس کا خلاصہ درج ذیل ہے:

’’احادیث میں ایمان و اسلام کا استعمال دو طریقے پر ہے۔ ہر ایک کو تنہا بیان کیا جاتا ہے ، جب تنہا بیان کیا جائے اس وقت ایمان اوراسلام میں کچھ فرق نہیں ہوتا۔ البتہ اگر دونوں کو ایک ساتھ بیان کیا جائے، یعنی ایمان کی بھی شرح کی جائے اور اسلام کی بھی تو اس وقت دونوں میں فرق کیاجاتا ہے۔ اب رہا یہ امر کہ دونوں میں فرق کیا ہے؟ تو جاننا چاہیے کہ ایمان تصدیق قلبی ، اس کے اقرار اور معرفت کا نا م ہے، اسلام سرنہادن، اللہ کی اطاعت اس کی فرمانبرداری کو کہتے ہیں اور یہ عمل سے حاصل ہوتا ہے اور اس کو دین کہتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے اسی لیے اسلام کو دین فرمایا اور حدیث جبریل میں رسول اکرمﷺ نے ایمان ، اسلام اور احسان کو دین فرمایا۔ الغرض جب صرف اسلام یا ایمان کی شرح کی جائے تو دونوں میں کوئی فرق ملحوظ نہیں رکھا جاتا ۔ جبکہ دونوں کی شرح کے وقت فرق کیا جاتا ہے جیسا کہ حدیث جبریل میں فرق کیا گیا کہ ایمان کے باب میں تصدیق قلبی کے تعلقات ذکر کیے گئے اور اسلام کے جواب میں عمل کے انواع ذکر کیے گئے۔

مسند احمد میں حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ آپﷺ نے ارشاد فرمایا: اسلام ظاہر کا نام ہے اور ایمان قلب میں ہے۔ ظاہر ہے کہ اعمال اعلانیہ ظاہر ہوتے ہیں اور تصدیق ایک قلبی کیفیت کا نام ہے جو ظاہر نہیں ہوتی۔

اسی لیے رسول اکرمﷺ دعائے جنازہ میں فرماتے ہیں:اللھم من احییتہ منا فاحیہ علی الاسلام ومن تو فیتہ منافتوفہ علی الایمان( یا اللہ! ہم میں سے جس کو زندہ رکھے اس کو اسلام پر زندہ رکھ اور جس کو ہم میں سے موت دے اس کو ایمان پر موت دے) کیونکہ عمل بالجوارح پر زندگی میں عمل ہو سکتا ہے ۔موت کے وقت تو تصدیق قلبی باقی رہ جاتی ہے۔ اسی لیے علمائے محققین نے فرمایا کہ ہر مومن کو مسلمان کہہ سکتے ہیں کیونکہ جس نے ایمان کو راسخ کرلیا وہ ضرور اسلام کے اعمال پر بھی عمل پیرا ہوگا۔ البتہ یہ نہیں کہہ سکتے کہ ہر مسلم مومن ہے، کیونکہ کہیں ایمان ضعیف ہوتا ہے۔تصدیق میں کمال حاصل نہیں ہوتا اور وہ اعمال ظاہر و ہ بھی انجام دیتا ہے تاہم ایمان کی کیفیت پوری طرح قلب میں راسخ نہیں ہوتی۔ اسی پر یہ آیت کریمہ ہے:

قالت الاعراب امنا قل لم تومنوا ولکن قولوااسلمنا

دیہاتی کہتے ہیں کہ ہم ایمان لے آئے، آپﷺ کہہ دیجئے کہ تم ایمان نہیں لائے، ہاں! یوں کہو کہ ہم نے اطاعت قبول کرلی۔

 البتہ یہ ضرور واضح رہے کہ ایمان ایک بسیط کیفیت ہے ، تاہم مراتب کے لحاظ سے فرق ضرورہوتا ہے۔

 صدیقین کا ایمان بالغیب شہادت کے ہم رنگ ہوجاتا ہے اور اسی بنا ء پر ایمان کا درجہ جب ترقی کرکے درجہ احسان پر آجاتا ہے تو یہ کیفیت پیداہوجاتی ہے۔کانک تراہ (گویا کہ تم اس کو دیکھ رہے ہو)اور شاید اسی وجہ سے بعض ارباب حقائق نے فرمایا:

ماسبقکم ابوبکررضی اللّٰہ عنہ بکثرۃ صوم ولاصلوۃ ولکن بشی ء وقرفی صدرہ

حضرت ابو بکر کو نماز، روزہ کی زیادتی کی وجہ سے تم پر سبقت حاصل نہیں ہوئی، بلکہ صرف اس کیفیت کی بناء پر جوان کے سینہ میں جاگزیں تھی۔

 اور حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے جب دریافت کیا گیا کہ صحابہؓ ہنستے بھی تھے؟ تو فرمایا:ہاں! تاہم ایمان ان کے دلوں میں پہاڑوں کی طرح راسخ ہے۔

٭…٭…٭

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

Rangonoor Web Designing Copyrights Khabarnama Rangonoor