Bismillah

694


۱۰رمضان المبارک۱۴۴۰ھ

جواہر حدیث۔۱۲

جواہر حدیث۔۱۲

انتخاب مضامین

مفتی اعظم پاکستان حضرت مفتی ولی حسن ٹونکی نور اللہ مرقدہ (شمارہ 689)

تنبیہ:

جیسا کہ پہلے واضح کیا جا چکا ہے کہ اعمال ظاہرہ اسلام کے ذیل میں اور اعمال باطنہ ایمان کے ذیل میں آتے ہیں، اعمالِ ظاہرہ کے ضمن میں نماز، روزہ ، حج، زکوٰۃ کا ذکر کیا گیا ہے، ایمان کے سلسلہ میں اللہ پر، ملائکہ پر، کتابوں پر ،انبیاء پر ایمان لانے کو بیان کیا گیا ہے، اس سے یہ نہ سمجھا جائے کہ اعمال ظاہرہ یا اعمال باطنہ کا صرف انہی پر انحصار ہے۔ اعمال ظاہرہ میں جو ارح کے دوسرے اعمال مثلا ً دوسروں کے ساتھ خیر خواہی کرنا، عیادت کرنا، حسد، کینہ، دھوکہ دہی اور ایذاء رسانی سے اجتناب کرنابھی داخل ہے۔

اسی طرح ایمان میں بھی ذکر قلبی ، اللہ تعالیٰ اور اس کی کتاب کے ذکر کے وقت خشوع اور فروتنی کی کیفیت پر اللہ پر توکل ، ظاہر اور خفیہ اللہ رب العزت کا خوف، رضابالقدر، عبادت سے قرب کی کیفیت کاشعور، استحضار ذات الہٰی، اللہ اور اس کے رسول کی محبت کو ہر چیز پر فوقیت دینا سب کچھ داخل ہے جیسا کہ دوسری احادیث اس پر دلالت کرتی ہیں اور ہم طوالت کے خوف سے ان کو ذکر نہیں کرتے۔

احسان:

اعمال ظاہرہ پر پوری طرح عمل کرنے اور قلب میں ایمان کے مہر جہاں تاب کے پوری طرح جلوئہ فگن کرنے کے بعد جو کیفیت پیدا ہوتی ہے اس کا نام ’’احسان‘‘ ہے۔

قرآن عزیز میں احسان کو کبھی’’ اسلام ‘‘کبھی’’ قوی‘‘ کے ساتھ ذکر کیاگیا اور کبھی’’عمل صالح‘‘ کے ساتھ ذکر فرمایا:

لیس علی الذین امنوا وعملوا الصالحات جناح فیما طعموااذامااتقوا وامنوا وعملو الصالحات ثم اتقواو امنوا ثم اتقوا واحسنو واللّٰہ یحب المحسنین

دوسری جگہ ارشاد ہے:

بلیٰ من اسلم وجھہ للّٰہ وھومحسن فلہ اجرہ عنہ ربہ

ایک تیسری جگہ ارشاد باری تعالیٰ ہے:

ومن یسلم وجھہ الی اللّٰہ وھو محسن فقد استمسک بالعروۃ الوثقیٰ

اسی’’احسان‘‘ کی تفسیر و تشریح رسول اکرمﷺ نے یہ فرمائی کہ

’’اپنے رب کی اس طرح عبادت کروگویا تم اس کو دیکھ رہے ہو، اگر یہ کیفیت نہ ہو تو کم ازکم یہ تو ہو کہ وہ تمہیں دیکھ رہا ہے۔‘‘

 جب بندہ اپنے رب کی اس طرح عبادت کرے گا تو اس کی عبادت میں چار چاند لگ جائیں گے، اپنے رب سے قرب کاشعور اس کے بخت خفتہ کو جگا دے گا ۔ خوف و خشیت الہٰی اور ہیبت و عظمت سے اس کے جسم کا رو رو کھڑا ہوجائے گا پھر اس کی عبادت میںبھی ایسا حسن و جمال و کمال پیدا ہوگا ، جس کو بیان کرنا ممکن نہیں ہے۔ حضرت صدیقہ رضی اللہ عنہاسے رسول اکرمﷺ کی نماز کے بارے میں دریافت کیاگیاتوفرمایا:

لاتسال عن حسنھنان چار چیزوں کا حسن نہ پوچھو

رسول اکرمﷺ نے ’’احسان‘‘ کی اس حدیث میں جو تفسیر فرمائی ہے۔یہ تفسیر دوسری احادیث کے مطابق اور اس کے ہم رنگ ہے ، ابو الاحوص حضرت ابو ذر غفاری رضی اللہ عنہ سے نقل کرتے ہیں:مجھے میرے محبوب رسول اکرمﷺ نے وصیت فرمائی کہ میں اللہ تعالیٰ سے اس طرح ڈروں گویا کہ  میں اس کو دیکھ رہاہوں۔ اگر یہ نہ ہوتو کم ازکم یہ تو ہوکہ وہ مجھے دیکھ رہا ہے۔

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اکرمﷺ نے میر ے بدن کو پکڑا اور فرمایا:اللہ کی عبادت اس طرح کرو جیسا کہ تم اس کو دیکھ رہے ہو۔

 حضرت زید بن ارقم رضی اللہ عنہ سے نسائی نے مرفوعاً و موقوفاً نقل کیا ہے:اس طرح دنیا میں رہو گویا تم اللہ کودیکھ رہے ہو۔ اگر یہ نہ ہوتو کم ازکم یہ تو ہو کہ وہ تم کو دیکھ رہا ہے۔

 طبرانی میں حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے:

 ایک شخص نے رسول اکرمﷺ سے عرض کیا: یارسول اللہ! مجھ سے کوئی مختصر حدیث بیان فرمائیے۔ آپﷺ نے ارشاد فرمایا:ایسی نماز پڑھو گویا یہ نماز تمہاری آخر ی نماز ہے،کیونکہ تم اس کو دیکھ نہیں سکتے تو وہ تو تم کو دیکھ رہا ہے۔

حضرت حارثہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہیـ کہ رسول اکرمﷺ نے حضرت حارثہ رضی اللہ عنہ سے پوچھا: تم نے کس طرح صبح کی؟ انہوں نے کہا: سچے مومن کی طرح، آپﷺ نے فرمایا: سمجھ کر بولو کیونکہ ہر قول کی حقیقت بھی ہے، حضرت حارثہ رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: یا رسول اللہ!میں نے اپنے نفس کو دنیا سے بے رغبت کرلیا، میری رات جاگنے لگی اور میرا دن( روزے کی وجہ سے) پیاسا ہوگیا اور ایسا معلوم ہوتا ہے کہ میں اپنے رب کے عرش کو کھلی آنکھوں سے دیکھ رہا ہوں۔ میں جنت والوں کو جنت میں دیکھ رہا ہوں کہ وہ ایک دوسرے سے ملاقات کررہے ہیں اور دوزخ والوں کودوزخ میں دیکھ رہا ہوں کہ وہ اس میں کس طرح چیخ و پکار کر رہے ہیں۔

حضورﷺ نے ارشاد فرمایا :تونے دیکھ لیا۔ اب اس کو لازم کردی ہے یہ ایک ایسا بندہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ایمان کی شمع اس کے قلب میںفروزاں کردی ہے۔

 حضرات صحابہ کے قلوب میں بھی’’احسان‘‘ کے یہی معنی راسخ ہو چکے تھے وہ ایک دوسرے کو اس کی وصیت کرتے تھے اور اسی کے طالب رہتے تھے۔ چنانچہ صحابی جلیل حضرت ابو الدرداء رضی اللہ عنہ نے ایک شخص کو نصیحت فرمائی:

اعبداللّٰہ کا نک تراہ

اللہ تعالیٰ کی ایسی ہی عبادت کروگویا تم اس کو دیکھ رہے ہو۔

حضرت عروہ بن زبیر رضی اللہ عنہ نے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے دورانِ طواف کعبہ کسی چیز کی درخواست کی، عبداللہ بن عمررضی اللہ عنہمانے جواب نہ دیا۔ طواف کے بعد ان کے پاس گئے اور معذرت کی اور کہا :

کنا فی الطواف تخائل اللّٰہ بین اعیننا

ہم جب طواف میں تھے تو ایسا معلوم ہورہاتھا کہ اللہ تعالیٰ ہماری آنکھوں کے سامنے ہے۔

 ان روایات و آثار سے یہ حقیقت بھی واشگاف ہوگئی کہ صفت’’احسانی‘‘ نہ صرف عبادت میں بلکہ مومن کی پوری زندگی میں جاری و ساری رہتی ہے، یعنی صفتِ احسانی کا ایک درجہ تویہ ہے کہ عبادت کے وقت یہ کیفیت رہے، دوسرا یہ ہے کہ اس کی پوری زندگی اس کیفیت سے متصف ہو۔

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

Rangonoor Web Designing Copyrights Khabarnama Rangonoor