Bismillah

694


۱۰رمضان المبارک۱۴۴۰ھ

رمضان اور قرآن۔۱

رمضان اور قرآن۔۱

انتخاب مضامین

مفتی اعظم پاکستان حضرت مفتی ولی حسن ٹونکی نور اللہ مرقدہ (شمارہ 692)

تدبیر منزل کی روح اولاد والدین کے باہمی تعلقات ہیں۔ قیامت کے قریب یہ روح فنا ہوجائے گی۔ لڑکی اپنی والدہ کے ساتھ نوکرانی جیسا سلوک کرے گی۔ تدبیر منزل کا پورا نظام تہہ و بالا ہوجائے گا۔اولاد جب والدین کی نافرمان ہوگی تو گھر کا نظم و نسق انتشار کا شکار ہو جائے گا۔ اس انتشار کے بعد رواداری، حلم، حیاء، عصمت و عفت ،بڑوں و چھوٹوں کے باہمی تعلقات سب پارینہ افسانے بن جائیں گے۔ انسانیت مرجائے گی اور حیوانیت اس طرح عروج پر ہوگی۔یتھارجون کتھارج الحمر گدھوں اور جانوروں کی طرح خرمستیاں کریں گے۔

 دوسرے ستون سیاست مدینہ کا حال یہ ہوگا کہ حکومت و سیادت کی زمام ایسے لوگوں کے ہاتھوں میں ہوگی، جن کو کل تک جسم ڈھانکنے کے لیے کپڑا، پہننے کوجو تامیسر نہیں، فقیر و قلاش تھے۔ تعلیم و تربیت سے عاری تھے یہ نو دولتیے غلط نعروں اور مختلف حیلوں سے آج بر سراقتدار ہوں گے، ان کا دور حکومت تاریکیوں میں ڈوبا ہوگا۔ ہر طرف تاریکی ہی تاریکی ہوگی۔ روشنی کی کرن کہیں دکھائی نہیں دے گی۔ شرم و حیاء انسانیت کی مٹی بکھیررہے ہوں گے اور جب خود کمین ورزیل ہیں تو ایسے ہی لوگ ان کے قریب ہوں گے۔ عہد ے اور مناصب اپنے ہم مشرب اور ہم پیالہ و ہم نوالہ لوگوں کو تقسیم کررہے ہوں گے۔ شرافت کا جنازہ نکل جائے گا اور یہ قیامت تو نہیں تو اور کیا ہوگی۔

 نیز اس میں نظام ِ معیشت کے تہہ و بالا ہونے کی طرف بھی اشارہ ہے ، اس کی تفصیل کی یہاں گنجائش نہیں۔

رمضان اور قرآن

تاریخ انسانی کے دودن یادگار دن ہیں ایک تو وہ دن جس میں یتیم عبداللہ جگر گوشہ آمنہ شاہ حرم فرمانروائے عالم شہنشاہ کونینﷺ عالم قدس سے عالم امکان میں تشریف فرمائے ،عزت و اجلال ہوئے، آپ کی تشریف آور ی اس عالمِ رنگ و بو کی سعادت بختی کا دن تھا، آپ ﷺ کی آمد ہی سے دنیا میں توحید کا غلغلہ اٹھا۔ چمنستان سعادت میں بہار آئی،آفتاب ہدایت کی شعاعیں اکتاف عالم میں پھیل گئیں اخلاق انسانی کا آئینہ پرتو قدس سے چمک اٹھا، انسانیت قعرمذلت سے نکل کر بام عروج پر پہنچ گئی۔

دوسرا یا دگاردن وہ ہے جس میں گم گشتہ راہ انسان کی ہدایت کے لیے ایک نسخہ کیمیا نازل فرمایا گیا، اس نسخہ کیمیانے روحانی طور پر پہاڑوں کی طرح جمے ہوئے لوگوں کو ان کی جگہ سے ہٹادیا۔ قلوب بنی آدم کی زمینوں کو پھاڑ کر معرفت الہٰی کے چشمے جاری کردئیے۔وصول الی اللہ کے راستے برسوں کی جگہ منٹوں میں طے کردئیے، مردہ قوموں اور دلوں میں ابدی زندگی کی روح پھونک دی۔

ترجمہ’’اور اگر کوئی قرآن ہوا ہوتا کہ چلیں اس سے پہاڑ یا ٹکڑے ہوںاس سے زمین یابولنے لگیں اس سے مردے تو کیا ہوتا بلکہ سب کام تواللہ کے ہاتھ میں ہے۔

 خود ساختہ رسوم و قیود میں جکڑی ہوئی انسانیت کراہ رہی تھی، قرآن ہی نے اس کو کرامت انسانی کا بھولا ہوا سبق یاد دلایا اور اس کے رسوم وقیود کی زنجیریں کاٹ کر اس کو آزاد فضا میں سانس لینے کا موقعہ دیا، اس کو بلند نگہی عطا کی، اس کوبتلایا کہ اس کائنات میںتو سب سے اشرف ہے، تیرے ہی لیے یہ کارخانہ ہستی وجود میں لایاگیا ہے، اس نے ماہ و خورشید کو ایک دوسری نگاہ سے دیکھا، آج انسان جو ستاروں پر کمندیں ڈال رہا ہے اور فضا میں آزادانہ گھوم رہا ہے یہ قرآن کریم ہی کی وسعت نظر کا فیض ہے ،قرآن کریم کی معجزہ نمائیوں کی داستان بڑی طویل ہے ہم تو اس مختصر صحبت میں رمضان اور قرآن کا باہمی تعلق اپنی بساط کے موافق بتلانے کی کوشش کریں گے ۔

ارشاد ہے:

شھر رمضان الذی انزل فیہ القرآن ھدی للناس وبینات من الھدی والفرقان( البقرہ)

رمضان وہ مہینہ ہے جس میں قرآن نازل کیا گیا جو انسانوں کے لیے سراسر ہدایت ہے اور ایسی واضح تعلیمات پر مشتمل ہے جو راہ راست دکھانے والی اور حق و باطل کا فرق کھول کر رکھ دینے والی ہے۔

 اس آیت نے واضح طور پر بتلادیا کہ رمضان کو یہ شرف حاصل ہے کہ اس ماہ مبارک میں قرآن کریم نازل ہوا اور حدیث رسول ﷺ نے بتلایا کہ صرف قرآن حکیم ہی نہیں بلکہ انسانی ہدایت کے لیے جو کچھ بھی آسمان سے نازل ہوا اس کے لیے حق تعالیٰ نے اسی مہینہ کا انتخاب فرمایا۔

براویت واثلۃ بن الاسقع رضی اللہ عنہ نبی کریمﷺ سے مروی ہے کہ آپﷺ نے فرمایا: رمضان کی پہلی تاریخ کو صحف ابراہیم ،چھٹی کو توریت، تیرھویں کو انجیل اور چوبیسویں کو قرآن کریم نازل ہوا۔

حضرت ابو ذر غفاری رضی اللہ عنہ کی روایت میں صحف ابراہیم کے لیے تیسری اور انجیل کے لیے اٹھارھویں تاریخ مروی ہے،ابو حیانؒنے دونوں روایتوں کو اس طرح جمع کیا ہے کہ واثلۃ بن الا سقع رضی اللہ عنہ کی روایت میں ابتداء نزول مذکور ہے اورابو ذرغفاری رضی اللہ عنہ کی روایت میں انتہا ء نزول ،غرض نہ صرف قرآن کریم بلکہ تمام کتب سماویہ کا نزول اسی بابرکت مہینہ میں ہوا۔

رمضان کی وجہ تسمیہ کے بارے میں امام رازیؒ نے چار قول نقل کئے ہیں ہم صرف دو پر اکتفا کرتے ہیں:

 خلیل بن احمد نحوی نے کہا کہ یہ’’رمضاء‘‘ سے بنا ہے، ’’رمضاء‘‘ وہ بارش ہے جو موسم خریف سے پہلے ہوتی ہے اور زمین کو غبار سے پاک صاف کردیتی ہے، اسی طرح رمضان کابابرکت مہینہ جسم و روح کو پاک و صاف کردیتا ہے۔

 بعض نے کہا کہ رمضان اصل میں اللہ تعالیٰ کا نام ہے اور اسی پر اس مہینہ کا نام رکھا گیا، مطلب یہ کہ جیسے اللہ تعالیٰ کی رحمت کے سامنے گناہگاروں کے گناہ جل کر ختم ہوجاتے ہیں، اسی طرح اس مہینہ کی برکتوں کی وجہ سے گناہگاروں کے گناہ جل جاتے ہیں۔

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

Rangonoor Web Designing Copyrights Khabarnama Rangonoor