Bismillah

694


۱۰رمضان المبارک۱۴۴۰ھ

رمضان اور قرآن۔۲

رمضان اور قرآن۔۲

انتخاب مضامین

مفتی اعظم پاکستان حضرت مفتی ولی حسن ٹونکی نور اللہ مرقدہ (شمارہ 693)

جس طرح بعض موسموں کوبعض چیزوں سے مناسبت ہوتی ہے جب وہ موسم آتاہے تو ان چیزوں میں فراوانی نظرآتی ہے، بہار کا موسم جب آتا ہے تو ہر طرف روئیدگی نظر آتی ہے ۔حدِ نگاہ تک سبزہ ہی سبزہ نظرآتا ہے وہ درخت جو کل تک خزاں سیدہ تھے بہار کا موسم آتے ہی سبز جوڑا پہن کر جوان ہوجاتے ہیں ، زمین جو آفتاب کی تمازت سے جل کر اپنی صلاحیت کھو بیٹھی ہے، بہار کا موسم شروع ہوتے ہی اس میں صلاحیت عود کرآتی ہے ،دانے بکھیر دیجئے، چند دن میں سرسبز شاداب پودے نظر آئیں گے،رمضان کا مہینہ بھی اللہ تعالیٰ کی جو دو سخا کا مہینہ ہے اس مہینہ میں اس کی جو دو سخا بارش کی طرح برستی ہے اور برستی رہی ہے، جو دوسخاکی یہ بارش پچھلی امتوں پر بھی برسی اور امت محمدیہ پر تو اس طرح برسی کہ جل تھل ہوگیا۔

 اللہ تعالیٰ کی صفت’’ربوبیت‘‘ اس مہینہ مقدس میں پوری طرح جلوہ فگن ہے،صفت ربوبیت کا مظہر قرآن کریم ہے۔امام رازیؒ اپنے دقیق پیرایہ بیان میں رمضان کی عبادت روزہ اور قرآن کا ربط اس طرح بیان فرماتے ہیں:

اللہ تعالیٰ نے اس مہینہ کو ایک خاص شرف سے نوازہ ہے اور اپنی ربوبیت کا پقری اظہار فرمایاہے۔اس طرح کہ اس میں قرآن کریم نازل فرمایا اس لیے بندوں کو حکم دیا کہ وہ اس مہینہ کوروزہ کی اہم عبادت سے فروزاں رکھیں۔ ربوبیت کا شکر عبودیت ہی سے ہو سکتا تھا۔

اس کے علاوہ اللہ تعالیٰ کے انوارحمدیہ ہر وقت اور ہر ساعت جلوہ افروز ہیں، جن میں نہ کوئی خفاء ہے نہ کوئی حجاب، لیکن ارواح انسانی میں انوار کی تجلی سے علائق بشری مانع تھیں، ان علائق بشری کو کمزور اور ضعیف کرنے کے لیے روزہ کی عبادت فرض کی تاکہ ارواح انسانی انوار حمدانی کو جذب کر سکیں۔

اس مبارک مہینہ کی تجلیات نبی کریمﷺ کو باد بہاری سے بھی زیادہ سخی بنادیتی تھیں۔حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما کی روایت ہے:

’’رسول اللہﷺ لوگوں میں سب سے زیادہ سخی تھے اور رمضان میں سب سے زیادہ سخی ہوجاتے تھے اور جب ان سے جبرئیل ملتے تھے، آپﷺ کے پاس رمضان کی ہر رات آتے تھے اور آپﷺ سے قرآن کا دور کرتے تھے، رسول اللہﷺ بادبہاری سے زیادہ خلق اللہ کی نفع رسانی میں زیادہ سخی تھے۔‘‘

حافظ ابن حجر عسقلانیؒ اس حدیث کی شرح میں فرماتے ہیں:

قرآن کریم کا دور آپﷺ میں غنا نفسی زیادہ کردیاکرتا تھا اور غنا نفسی ہی جودوسخا کا سبب ہوتا ہے۔

 علاوہ ازیں رمضان کا مبارک مہینہ اللہ تعالیٰ کی خیر رسانی کا زمانہ ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ کی نعمتیں اپنے بندوں پر اس مہینہ میں بہت زیادہ ہوتی ہیں۔ اس لیے نبی کریمﷺ اللہ تعالیٰ کی اس سنت کا اتباع کرتے تھے، غرض یہ سب چیزیں آپ ﷺکوسخی سے سخی تربنادیتی تھیں۔

اور اس حدیث سے جو فوائد حاصل ہوئے ان کی طرف رہنمائی فرماتے ہیں:

اس حدیث سے بہت سے فوائد حاصل ہوئے جن میں سے چند درج ہیں:

۱)ہرزمانہ میں جودوسخا سے متصف رہنا چاہئے۔

۲)رمضان میں سب سے زیادہ سخی ہونا چاہئے۔

۳)اہل صلاح وتقویٰ سے ملاقات کا فائدہ بھی حاصل کرنا چاہئے کہ ان کی ملاقات سے اخلاق فاضلہ میں اضافہ ہو

۴)رمضان میں قرآن کریم سب سے زیادہ تلاوت کرناچاہئے۔

۵)قرآن کریم سب سے افضل ذکر ہے کیونکہ اگر اس سے افضل کوئی ذکر ہوتا تورسول اللہﷺ اس کو اختیار فرماتے ۔

غرض اللہ تعالیٰ کی صفت’’ربوبیت‘‘ اور جو دوسخا کا مظہر قرآن کریم اس ماہِ مبارک میں نازل ہوا جس کی شان خود قرآن نے بتلائی:

 ھدیٰ للناس وبینات من الھدی والفرقان

جوانسانوں کے لیے سراسر ہدایت ہے اور ایسی واضح تعلیمات پرمشتمل ہے جوراہ راست دکھانے والی اور حق و باطل کا فرق کھول کر رکھ دینے والی ہیں۔

یہاں قرآن کریم نے خود اپنا تعارف کرایا ہے اور تین لفظ استعمال فرمائے ہیں جن میں اپنی حقیقت آشکاراکردی ہے۔ پوری کائنات اور یہ عالم رنگ وبو اللہ تعالیٰ کی صفت ربوبیت کا مظہر ہے۔ اس کائنات کا ایک ایک ذرہ زبانِ حال سے اس کی ربوبیت کی گواہی دے رہا ہے، انسان کوخلافت ربانی کی خلعت سے سرفراز فرمانا تھا اس لیے اس کی تخلیق سے پہلے اس کے جسم کی بقاء اور نشوونما کا انتظام فرمایا، چنانچہ کائنات کو وجود بخشا اس کے لئے زمین کابستر تیا رکیا، آسمان کو نیلگوں چھت بنائی، مہ و خورشید کو مسخر کیا، پہاڑوں اوردریائوں کو اس کے کام میں لگایا ،غرض اس کے مادی منافع اور راحت جسم و جان کے لیے ہر آسائش مہیا کی، لہٰذاناممکن تھا کہ انسان کی روح کی تربیت اور نشوونما کے لیے سامان ہدایت اس رب کریم ورحیم کی طرف سے نہ آتا جبکہ جوہر انسانیت یہی ’’روح انسان‘‘ ہے۔ اس لیے اس نے اپنی صفت ربوبیت کا دوباہ مظاہرہ فرمایا اور انسان کی ہدایت کے لیے آسمانی کتابیں اور صحیفے نازل فرمائے اور ان کتابوں اور صحیفوں کی تعلیم کے لیے انبیاء علیہم السلام مبعوث فرمائے،انسانی ہدایت کا یہ سلسلہ…انسان کے آغاز وجود سے ہی جاری ہے اور رشد و ہدایت کابحر بیکراں تاریخ انسانی کی ابتداء سے ہی رواں دواں ہے، اسی صفتِ ربوبیت کے چشمہ فیاض سے حضرت آدم علیہ السلام پر صحیفے نازل ہوئے، حضرت ابراہیم علیہ السلام پر ہدایت و عظمت کے نوشتے اُترے، اسی کے فیض سے حضرت موسیٰ علیہ السلام پر توریت اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام پر انجیل نازل ہوئی۔ یہ آسمانی کتابیں اپنے اپنے زمانہ کے لیے ہدایت و نور کے مینار تھے ۔سعید روحوں نے انہی سے دامن کو بھرا اور مراد کو پہنچے، شقی انسانوں نے اس سے روگردانی کی اور بارگاہِ الہٰی سے دور کردئیے گئے۔

٭…٭…٭

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

Rangonoor Web Designing Copyrights Khabarnama Rangonoor