Bismillah

694


۱۰رمضان المبارک۱۴۴۰ھ

کفریاتِ پرویز (۴)

کفریاتِ پرویز (۴)

مفتی اعظم پاکستان حضرت مفتی ولی حسن ٹونکی نور اللہ مرقدہ (شمارہ 615)

کفریاتِ پرویز
جبریل:

انکشاف حقیقت کی روشنی (ذریعہ یا واسطہ) کو جبریل سے تعبیر کیا گیا ہے۔

 قرآن پاک کے مفہوم میں الحاد:

نمونہ کے طور پر صرف سورہ فاتحہ کا مفہوم پیش کیا جاتا ہے جو اس کی سات آیتوں کی نمبر وار تشریح ہے۔

 ۱)زندگی کا ہر حسین نقشہ اور کائنات کا ہر تعمیری گوشہ، خالق کائنات کے عظیم القدر نظام ربوبیت کی ایسی زندہ شہادت ہے جو ہر چشم بصیرت سے بے ساختہ داد تحسین لے لیتی ہے۔

 ۲)وہ نظام جو تمام اشیائے کائنات اور عالمگیر انسانیت کو ان کی مضمر صلاحیتوں کی نشوونما سے تکمیل تک کے لئے جا رہا ہے، عام حالات میں بتدریج اور ہنگامی صورتوں میں انقلابی تغیر کے ذریعے ۔

۳)انسان کو یہ تمام سامان نشو ونما بلا مزدور معاوضہ ملتا ہے لیکن اس کی ذات کی نشوونما اور اس کے مدارج کا تعین اس کے اعمال کے مطابق ہوتا ہے جن کے نتائج خدا کے اس قانون مکافات کی رو سے مرتب ہوتے ہیں جس پر اسے کامل اقتدار حاصل ہے۔

 ۴)اے عالمگیر انسانیت کے نشوونما دینے والے! ہم تیرے اسی قانون عدل وربوبیت کو اپنا ضابطہ حیات بناتے اور اسی کے سامنے سرتسلیم خم کرتے ہیں تو ہمیں اس کی توفیق عطا فرما کہ ہم تیرے تجویز کردہ پروگرام کے مطابق اپنی صلاحیتوں کی بھرپور اور متناسب نشوونما کر سکیں اور پھر انہیں تیرے ہی بتائے ہوئے طریق کے مطابق صرف کریں۔

 ۵)ہماری آرزو یہ ہے کہ ہر پروگرام اور طریق جو انسانی زندگی کو اس کی منزل مقصود تک لے جانے کی سیدھی اور متوازن راہ ہے نکھر اور ابھر کر ہمارے سامنے آجائے۔

۶)یہی وہ راہ ہے جس پر چل کر پچھلی تاریخ میں سعادت مند جماعتیں زندگی کی شادابی و خوشگواری سرفراز ی و سربلندی اور سامانِ زیست کی کشادگی و فراوانی سے بہرہ یاب ہوئی تھیں۔

۷)اور ان کا انجام ان سوختہ بخت اقوام جیسا نہیں ہوا تھا جو اپنے انسانیت سوزجرائم کی وجہ سے یکسر تباہ و برباد ہوگئیں یا جو زندگی کے صحیح راستہ سے بھٹک کر اپنی کوششوں کو نتائج بدوش نہ بنا سکیں اور اس طرح ان کاکاروان حیات، ان قیاس آرائیوں کے سراب اور توہم پرستیوں کے پیچ و خم میں کھو کر رہ گیا۔

 (پرویز کی پوری کتاب مفہوم القرآن اسی تحریف و الحاد سے بھرپور ہے، جس کا نمونہ آپ نے ملاحظہ فرمایا،اب تک اس کتاب کے چار پارے شائع ہوچکے ہیں۔

آدم علیہ السلام:

ہمارے ہاں عام طور پر یہ سمجھا جاتا ہے کہ وہ ’’آدم‘‘ جس کے جنت سے نکلنے کا قصہ قرآن کریم کے مختلف مقامات میں آیا ہے نبی تھے قرآن سے اس کی تائید نہیں ہوتی قرآن کریم نے مختلف مقامات پر قصۂ آدم کی جو تفاصیل بیان کی ہیں ان سے معلوم ہوتا ہے کہ جنت سے نکلنے والا آدم کوئی خاص فرد نہیں تھا بلکہ انسانیت کا تمثیلی نمائندہ تھا بالفاظ دیگر قصۂ آدم کسی خاص فرد( یاجوڑے) کا قصہ نہیں بلکہ خود’’ آدمی‘‘ کی داستان ہے عاقبت سنوارنے کے لئے ہے اس نے جس قدر حکم دے رکھے ہیں ان کے متعلق یہ کبھی نہ پوچھو کہ ان کی غایت کیا ہے یہ خداکی باتیں ہیں جو خدا ہی جان سکتا ہے، مذہب میں عقل کا کوئی کام نہیں تم صرف یہ سمجھ لو کہ فلاں بات کا حکم ہے اس لئے اسے کرنا ہے اور اس کا ثواب تمہارے نامہ اعمال میں لکھا جائے گا اور یہ تمام پرزیاں قیامت کے دن ترازو میں رکھ کر تولی جائیں گی اور جنت میں لے جانے کا ذریعہ بن جائیں گی۔

نظریۂ ارتقاء:

یہ سوال کہ دنیا میں’’سب سے پہلا انسان‘‘کس طرح وجود میں آگیا ذہن انسانی کے لئے وجہ ہزار حیرت و استعجاب رہا ہے، چنانچہ مذاہب میں جن میں تو ہم پرستی نے حقائق کی جگہ لے رکھی ہے اس عقیدے کے حل میں عجیب و غریب افسانہ طرازیوں سے کام لیا گیا ہے لیکن قرآن کریم نے اس کے متعلق جو کچھ بتایا ہے وہ ٹھیک ٹھیک وہی ہے جس کی طرف علم و بصیرت کے انکشافات راہ نمائی کئے جارہے ہیں سائنس میں متشکل ہوگئے یعنی سب سے پہلے کوئی ایک فرد صورت انسانی میں جلوہ گر نہیں ہوا بلکہ ایک نوع وجود پذیر ہوئی ان متنوع مراحل کی تفصیل قرآن کریم کی آیات جلیلہ میںعجیب انداز میں سمٹی ہوئی ہے۔

ارکان اسلام:

اسلام نظام زندگی میں تبدیلی اس دن سے ہوگئی جب دین مذہب سے بدل گیا اب ہماری صلوٰۃ وہی ہے جو مذہب میں پوجا پاٹ یا ایشور بھگتی کہلاتی ہے ہمارے روزے وہی ہیں جنہیں مذہب میں برت کہتے ہیں ہماری زکوٰۃ وہی شے ہے جسے مذہب دان خیرات کہہ کر پکارتا ہے، ہمارا حج مذہب کی یاترا ہے ہمارے ہاں یہ سب کچھ اس لئے ہوتا ہے کہ اس سے ’’ثواب‘‘ ہوتا ہے مذہب کے ہاں اسی کو پن کہتے ہیں اور ثواب سے نجات( مکتی یا salvation) ملتی ہے آپ نے دیکھا کہ کس طرح دین( نظام زندگی) یکسر مذہب بن کررہ گیا اب یہ تمام عبادات اس لئے سرانجام دی جاتی ہیں کہ یہ خدا کا حکم ہے ان امور کو نہ افادیت سے کچھ تعلق ہے نہ عقل و بصیرت سے کچھ واسطہ آج ہم بھی اسی مقام پر ہیں جہاں اسلام سے پہلے دنیا تھی۔

نماز:

۱)عجم میں مجوسیوں( پارسیوں) کے ہاں پرستش کی رسم کو نماز کہا جاتا تھا( یہ لفظ ہی ان کے ہاں کا ہے اور ان کی کتابوں میں موجود ہے) لہٰذا صلوٰۃ کی جگہ نماز نے لے لی اور قرآن کی اصطلاح اقیمواالصلوٰۃ کا ترجمہ ہو گیا نماز پڑھو جب گاڑی نے اس طرح پٹڑی بدلی تو اس کے پہیئے کا ہر چکر اسے منزل سے دور لے جاتا گیا چنانچہ اب حالت جسے قرآن نے تمثیلی انداز میں بیان کیا ہے اس داستان کا آغاز انسان کی اس حالت سے ہوتا ہے جب اس نے قدیم(Primitire) انفرادی زندگی کی جگہ پہلے پہل تمدنی زندگی(Social Life) شروع کی۔

حضورﷺ کو کوئی حسی معجزہ نہیں دیا گیا:

۱)رسول اکرمﷺ کو قرآن کے سوا کوئی معجزہ نہیں دیا گیا۔

۲)مخالفین بار بار نبی اکرمﷺ سے معجزات کا تقاضا کرتے ہیں اور اللہ تعالیٰ ہر بار ان کے مطالبہ کو یہ کہہ رد کردیتا ہے کہ ہم نے رسول کو کوئی حسی معجزہ نہیں دیا، اس کے معجزات صرف دو ہیں:

۱)یہ کتاب جس کی مثل و نظیر کوئی پیش نہیں کر سکتا۔

۲)خود اس رسول کی اپنی زندگی جو سیرت و کردار کے بلند ترین مقام پر فائز ہے، ان کے علاوہ اگر تم معجزات دیکھنا چاہتے ہو تو  قل انظروا ماذا فی السموت والارض ارض و سماوات پر غور کرو قدم قدم پر معجزات دکھائی دیںگے، غور کرو سلیم! نبی اکرمﷺ کو تو کوئی حسی معجزہ نہیں دیا جاتا۔

۳)نبی اکرمﷺ کو قرآن کے سوا( جو عقلی معجزہ) ہے کوئی اور معجزہ نہیں دیاگیا۔

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

Rangonoor Web Designing Copyrights Khabarnama Rangonoor