Bismillah

694


۱۰رمضان المبارک۱۴۴۰ھ

کفریاتِ پرویز (۵)

کفریاتِ پرویز (۵)

مفتی اعظم پاکستان حضرت مفتی ولی حسن ٹونکی نور اللہ مرقدہ (شمارہ 615)

کفریاتِ پرویز
انکارِ معراج:

سورئہ بنی اسرائیل کی آیت اسریٰ میں کہاگیا ہے کہ خدا اپنے بندے کو رات کے وقت مسجد حرام سے مسجد اقصیٰ کی طرف لے گیا تاکہ وہاں سے اپنی آیات دکھائے، خیال ہے کہ اگر یہ واقعہ خواب کا نہیں تو یہ حضورﷺ کی شب ہجرت کا بیان ہے اس طرح مسجد اقصیٰ سے مراد مدینہ کی مسجد نبوی ہوگی جسے آپﷺ نے وہاں جا کر تعمیر فرمایا۔

عقیدئہ تقدیر کا انکار:

مجوسی اساورہ نے یہ سب کچھ اس خاموشی سے کیا کہ کوئی بھانپ ہی نہ سکا کہ اسلام کی گاڑی کس طرح دوسری پٹڑی پر جاپڑی، انہوں نے تقدیر کے مسئلہ کو اتنی اہمیت دی کہ اسے مسلمانوں میں جزو ایمان بنادیا چنانچہ ہمارے ایمان میں ’’ولقدرخیرہ وشرہ من اللّٰہ تعالیٰ‘‘ کا چھٹا جزوانہی کا داخل کیا ہوا ہے۔

 وزن اعمال کی افیون:

اس پیشوائیت نے جس کا ہمارے یہاں ملائیت نام ہے آہستہ آہستہ مسلمانوں کو یہ افیون پلانی شروع کی کہ معاملات دنیا داروں کا حصہ ہیں جو اس مردار کے پیچھے پڑے ہوئے ہیں، مذہب انسان کی ،یہ ہوچکی ہے کہ اقیموا الصلوٰۃ سے ذہن نماز پڑھنے کے علاوہ کسی اور طرف منتقل ہی نہیں ہوتا اور نماز پڑھنے سے مراد ہے خداکی پرستش کرنا۔

۲)قرآن کریم نے نماز پڑھنے کے لئے نہیں کہا قیام صلوٰۃ یعنی نماز کے نظام (Institution)کے قیام کا حکم دیا ہے۔ مسلمان نمازیں پڑھتے ضرور ہیں لیکن انہوں نے نظام صلوٰۃ کو قائم نہیں کیا، ان کی نماز ایک وقت معینہ کے لئے ایک عمارت( مسجد) کی چاردیواری کے ( اندر) ایک عارضی عمل بن کر رہ جاتی ہے۔( پرویز کے نزدیک اقامۃ الصلوٰۃ سے مراد)

۳)معاشرہ کو ان بنیادوں پر قائم کرنا جن پر ربوبیت نوع انسانی کی عمارت استوار ہوتی جائے، قلب و نظر کا وہ انقلاب جو اس معاشرہ کی روح ہے۔

 کم ازکم دووقت کی نماز:

سورہ نور میں صلوۃ الفجر اور صلوۃ العشاء کا ذکر( ضمناً) آیا ہے، جہاں کہا گیا ہے کہ تمہارے گھر کے ملازمین کو چاہئے کہ وہ تمہاری(Privacy)کے اوقات میں اجازت لے کر کمرے کے اندر آیا کریں یعنی من قبل صلوۃ الفجرو حین تضعون ثیابکم من الظھیرۃ ومن بعد صلوۃ العشاء،صلوۃ الفجر سے پہلے اور جب تم دوپہر کو کپڑے اُتاردیتے ہو اور صلوۃ العشاء کے بعد۔ اس سے واضح ہے کہ رسول اللہﷺ کے زمانے میں اجتماعات صلوٰۃ کے لئے( کم ازکم) یہ دواوقات متعین تھے جبھی تو قرآن کریم نے ان کا ذکر نام لے کر کیا ہے۔

نماز میں ردوبدل:

جس اصول کا میں نے اپنے مضمون میں ذکر کیا ہے وہ قانون اور عبادات دونوں پر منطبق ہوگایعنی اگر جانشین رسول اللہ( یعنی قرآنی حکومت) نماز کی کسی جزئی شکل میں جس کا تعین قرآن نے نہیں کیا اپنے زمانے کے کسی تقاضے کے ماتحت کچھ ردوبدل ناگزیر سمجھے تو وہ ایسا کرنے کی اصولاً مجاز ہوگی۔

 زکوٰۃ:

۱)زکوٰۃ اس ٹیکس کے علاوہ اور کچھ نہیں جو اسلامی حکومت مسلمانوں پر عائد کرے، اس ٹیکس کی کوئی شرح متعین نہیں کی گئی اس لئے کہ شرح ٹیکس کا انحصار ضروریات ملّی پر ہے حتی کہ ہنگامی صورتوں میں حکومت وہ سب کچھ وصول کرسکتی ہے جو کسی ضرورت سے زائد ہو، لہٰذا جب کسی جگہ اسلامی حکومت نہ ہو تو پھر زکوٰۃ بھی باقی نہیں رہتی ۔

۲)ظاہر ہے کہ ہماری حکومت ہنوز اسلامی حکومت نہیں ہے اس لئے جیسا کہ اوپر لکھا جا چکا ہے آج کل زکوٰۃ کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا حکومت ٹیکس وصول کر رہی ہے اگر یہ حکومت اسلامی ہوگئی تو یہی ٹیکس زکوٰۃ ہو جائے گا ایک طرف ٹیکس اور اس کے ساتھ دوسری طرف زکوٰۃ۔ قیصر اور خدا کی غیر اسلامی تفریق ہے۔

۳)اگر خلافت راشدہ نے اپنے زمانے کی ضروریات کے مطابق اڑھائی فیصد مناسب سمجھا تھا تو اس وقت یہی شرح شرعی تھی اگر آج کوئی اسلامی حکومت کہے کہ اس کی ضرورت کا تقاضا بیس فیصدی ہے تو یہی بیس فیصدی شرعی شرح قرار پاجائے گا اور جب قرآنی نظام ربوبیت اپنی آخری شکل میں قائم ہوگا تو اس کی نوعیت کچھ اور ہی ہوجائے گی۔

 ۴)زکوٰۃ( یعنی حکومت کے ٹیکس) کی شرح میں تغیر و تبدل کی ضرورت ایک ایسی حقیقت ہے جس کے لئے کسی دلیل کی ضرورت نظر نہیں آتی۔

 ۵)زکوٰۃ سے مراد اڑھائی فیصد ٹیکس نہیں بلکہ یہ ایک پروگرام ہے جس کی سرانجام دہی مومنین کے ذمہ ہے۔

۶)ایتاء زکوٰۃ نوع انسانی کی نشوونما کاسامان بہم پہنچانا ( تزکیہ کے معنی ہیں نشوو نما بالیدگی)

صدقات اور صدقہ فطر:

۱)صدقات ان ٹیکسوں کا نام ہے جو حکومت اسلامیہ کی طرف سے ہنگامی ضرورت کو پورا کرنے کے لئے عائد کئے جاتے ہیں انہی میں صدقہ فطر ہے۔

 ۲)اب سنت رسول اللہﷺ کا صرف اتنا حصہ پیش کیا جاتا ہے کہ نماز سے پہلے صدقہ فطر نکال کر اپنے اپنے طور پر غریبوں میں تقسیم کردیا جائے اگر ایسا نہ کیا جائے گا تو روزے معلق رہ جائیں گے جنہیں روزوں پر چسپاں کر کے لیٹر بکس میں ڈال دیا جاتا ہے تاکہ روزے مکتوب الیہ( اللہ تعالیٰ) تک پہنچ جائیں غور فرمایا آپ نے بات کیا کی تھی اور کیا بن گئی لیکن جب تک دین کی باگ دوڑ مولوی کے ہاتھ میں ہے صدقات نکلتے رہیں گے زکوٰۃ دی جاتی رہے گی قربانیاں ہوتی رہیں گی لوگ حج بھی کرتے رہیں گے اور قوم بدستور بے گھر بے دربھوکی ننگی اسلام کے ماتھے پر کلنک کے ٹکے کا موجب بنی رہے گی، کتنا بڑا ہے یہ انتقام جو ہزار برس سے اسلام سے لیا جارہا ہے اور غور کیجئے اس انتقام کے لئے آلہ کارکن لوگوں کو بنایا جاتا ہے۔

حج

۱)نماز ان کی پوجا پاٹ، حج ان کی یاترارسوم باقی خود فنا…حج کرنے جاتے ہیں تاکہ عمر بھر کے گناہوں کا کفارہ ادا کرآئیں اورآتے وقت زمزم کا پانی ٹین کی ڈبیوں میں بند کر کے لیتے آئیں تاکہ اسے مردوں کے کفن پر چھڑ کا جائے نتیجہ اس کا وہ سکراتِ موت کی ہچکیاں جن میں پوری کی پوری اُمت آج گرفتار ہے۔

 ۲)اول تو حج ہی اپنے مقصد کو چھوڑ کر محض یاترابن کررہ گیا ہے حاجی وہاں جاتے ہیں تاکہ اپنے تمام سابقہ گناہ آب زمزم سے دھو کر اس طرح واپس آجائیں جس طرح بچہ اپنی ماں کے پیٹ سے پیدا ہوا ہو۔

 ۳)حج عالم اسلامی کا وہ عالمگیر اجتماع ہے جو اس امت کے مرکز محسوس( کعبہ) میں اس غرض کے لئے منعقد ہوتا ہے کہ ملت کے تمام اجتماعی امور کا حل قرآنی دلائل و حجت کی رو سے تلاش کیا جائے اور اس طرح یہ امت اپنے فائدے کی باتوں کو اپنی آنکھوں کے سامنے دیکھ لے۔

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

Rangonoor Web Designing Copyrights Khabarnama Rangonoor