Bismillah

694


۱۰رمضان المبارک۱۴۴۰ھ

مغربی ممالک میں اوقات نماز

مغربی ممالک میں اوقات نماز

مفتی اعظم پاکستان حضرت مفتی ولی حسن ٹونکی نور اللہ مرقدہ (شمارہ 619)

مغربی ممالک میں اوقات نماز سے متعلق ایک اہم استفتاء

مغربی ممالک خصوصاً برطانیہ میں بڑھتی ہوئی مسلمانوں کی آبادی کی بدولت اوقات نماز کا مسئلہ علماء کرام اور مفتیان عظام کی خصوصی توجہ کا مستحق ہے، ہم امید کرتے ہیں کہ مفتیان عظام اس مسئلہ پر غور وخوض کے بعد یہاں بسنے والوں کے لئے دین فطرت کے صحیح آسان اسلامی حل کیذریعہ مسلمانوں کے لئے موقعہ عمل فراہم فرما کر عنداللہ ماجور ہوں گے۔

 محکمہ موسمیات اور ہیئت دانوں نے اپنی تحقیق کے مطابق شفق کو تین درجوں میںتقسیم کیا ہے:

۱)سول شفق(Civil Twilight)۶ درجہ والی شفق

۲)شفق بحری(Nautical Twilight) ۱۲ درجہ والی شفق

۳)شفق سیت(Astronomical Twilight) ۱۸ درجہ والی شفق

تفصیل:

سول شفق:سول شفق کو شفق احمر سے تعبیر کر سکتے ہیں۔ اس وقت آسمان صاف ہوتا ہے رات کے آثار کم ہوتے ہیں چند موٹے موٹے ستارے دکھائی دیتے ہیں۔

 شفق بحری: اس شفق کو شفق ابیض سے تعبیر کر سکتے ہیں

 شفق سیت:یہ وہ شفق ہے جس کے بعد آسمان پر مکمل تاریکی چھا جاتی ہے اور چھوٹے چھوٹے تارے دکھائی دیتے ہیں۔ ماہرین فلکیات اس شفق کے بعد اپنے فنی تجربوں میں لگ جاتے ہیں۔

 شفق کی اس تفصیل کے بعد اسلامی ممالک نیز ہندو پاک کرہ ارض پر اندرون’’۴۰‘‘ عرض البلد پر واقعہ ہونے کی بنا پر وہاں شفق کی غروب میں زیادہ سے زیادہ ڈیڑھ گھنٹہ ہوتا ہے اس لئے ان ممالک میں عموماً نماز عشاء بعد غروب ڈیڑھ گھنٹہ کے بعد سال بھر ہوتی ہے۔

 مگر برطانیہ اور وہ ممالک جو’’۴۵‘‘ عرض البلد سے اوپر واقع ہیں وہاں جوں جوں اوپر جانا ہوگا غروب شفق دیر سے ہوگی اور صبح صادق جلدی۔ اسی طرح موسم گرم کے بعض مہینوں اور دنوں میں تو غروب شفق اور ابتداء صبح صادق میں بالکل فصل نہیں ہوتا اور بعض دنوں میں بہت ہی کم فاصلہ رہتا ہے جو امید ہے حسب ذیل مثال سے اچھی طرح واضح ہوجائے گا۔

 ’’۵۴‘‘عرض البلد(انگلستان کے جس علاقہ) میں ہم رہتے ہیں ۲۰ جون کو طلوع آفتاب اور غروب حسب ذیل ہے۔

طلوع آفتاب ۳۵:۴…غروب شفق بحری ۱۹:۱۲

غروب آفتاب ۴۱:۹… صبح صادق ۵۸:۱

دن کی مقدار ۰۶:۱۷ … درمیانی فاصلہ ۳۸:۱

’’۵۶‘‘ عرض البلد( گلاسکو اور اطراف) پر ۲۰ جون سے ۱۲ جولائی تک شفق بحری غائب ہی نہیں ہوتی۔

’’۵۸‘‘،’’۶۰‘‘ عرض البلد بالائی(اسکاٹ لینڈ اسٹورناولے)۲۱ مئی سے ۲۵ جولائی تک شفق مذکور غائب نہیں ہوتی۔ ان دنوں ساری رات افق پراجالا رہتا ہے۔

 مذکورہ حساب کی بنا پر جن مقامات پر یعنی’’۵۴‘‘عرض البلد پر جہاں۱۹:۱۲ کوشفق غائب ہوتی ہے اور ۳۵:۴ کو طلوع ہوتا ہے ہم ۳۰: ۱۲ سے قبل نماز عشاء نہیں پڑھ سکتے اور دوسری طرف فجر کی نماز چار بجے۔ درمیانی فاصلہ صرف ساڑھے تین گھنٹہ کا رہتا ہے۔ نماز عشاء کا یوں موخر کرنا ناممکن نہ سہی مگر مشکل ضرور ہے۔

 نیز بعض ائمہ کے نزدیک جمع بین الصلوٰتین سفر اور اعذار کی بنا پر جائز ہے اور اس پر عرب ممالک کے باشندوں کا انگلستان میں عمل بھی ہے تو کیا حنفی المسلک کے لئے اس میں آسانی کی کوئی صورت نہیں ہوسکتی جو سارے عوام کے لئے قابل عمل ہو۔

 تحقیق اوقات کا یہ مسئلہ صرف نمازوں کی حد تک نہیں آئندہ چند سالوں کے بعد رمضان المبارک بھی انہی مہینوں میں آئے گا تو اس وقت اس مسئلہ کی زیادہ نازک اور سنگین صورت ہوگی مذکورہ حساب کی بنا پر روزہ تو لمبا ہی ہوجائے گا بعض جگہوں پر تو ۱۱:۱۸ منٹ طلوع وغروب آفتاب کا حساب ہوگا اور جن جگہوں پر ۳۸:۱ کا فاصلہ نماز عشاء میں اور فجر صادق کے درمیان رہتا ہے ان کے لئے مختصر سے وقت میں نماز عشاء تراویح سحری وغیرہ کی ادائیگی ناممکن نہ سہی تو مشکل ترین ضرور ہوجاتی ہے، جس کا ادنیٰ حساب ہرایک کرسکتا ہے۔

نیز جو علاقے’’۵۶‘‘ عرض البلد پر واقع ہیں جہاں ۲۲ دن اور جو علاقے’’۵۸‘‘’’۶۰‘‘ عرض البلد پر واقع ہیں جہاں ۶۵ دن( دوماہ) شفق اور صبح صادق کے درمیان فاصلہ نہیں رہتا روزہ کی ابتدا کب سے ہو نیز نماز عشاء و تراویح کااختتام کب ہو سمجھ میں نہیں آتا۔

یادرہے مذکورہ ساری گزارشات عمل کے لئے پوچھی جارہی ہیں اور یہ وہ علاقے ہیں جہاں مسلمان کافی تعداد میں آباد ہیں اور ان کی اچھی خاصی تعداد اس مسئلہ سے دوچار ہے، اس لئے ہم امید کرتے ہیں کہ مفتیان عظام اس مسئلہ پر بڑی سنجیدگی سے غور فرماکر اس کے قابل عمل حل سے ہم دور افتادوں کو نوازیں گے۔

سوال(۲)

برطانیہ میں مختلف مسلک کے لوگ آباد ہیں کوئی شافعی ہیں، تو کوئی حنفی ہیں تو کوئی اور مسلک کا ۔حنفی حضرات نماز عصر مثلین کے بعد پڑھتے ہیں۔ مثلین اور غروب آفتاب میں سردیوں کے موسم میں صرف گھنٹہ بھر کا فاصلہ رہتا ہے اور گرمیوں میں ظہر اور عصر کے درمیان کافی فاصلہ رہتا ہے جن شہروں میں حنفی عوام ہوتے ہیں اور امام حنفی ہوتا ہے تو وہاں یہ مسئلہ اور بھی زیادہ قابل بحث بن جاتا ہے، امام کا اصرار مثلین پر ہوتا ہے اور عوام کا اصرار مثل اولیٰ پر۔ ان کے اصرار کی ایک وجہ یہ بھی ہوتی ہے کہ یہاں اکثریت کارخانوں میں کام کرتی ہے وہ موسم گرم میں مثل اولیٰ پرنماز ادا کرکے کارخانہ جا سکتے ہیں اور مثلین کے انتظار تک ان کے کار خانہ کا وقت شروع ہوجاتا ہے اور بعض کارخانوںمیں نماز کی ادائیگی بہت مشکل ہوجاتی ہے نیز کتب فقہ میں اصفرار شمس کے بعد نماز عصر کو مکروہ لکھا ہے اب یہاں کے موسم میں مثلین کے وقت تو کیا اس سے پہلے سورج میںزردی آجاتی ہے اور نمازتو سارے دن نہیں ہوتی تو کیا ان صورتوں میں نماز عصر کو حنفی المسلک بھی مثل اولیٰ میں ادا کرے تو نماز صحیح ہوگی یا نہیں۔ بینو اتو جروا

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

Rangonoor Web Designing Copyrights Khabarnama Rangonoor