Bismillah

694


۱۰رمضان المبارک۱۴۴۰ھ

مغربی ممالک میں اوقات نماز۔۲

مغربی ممالک میں اوقات نماز۔۲

مفتی اعظم پاکستان حضرت مفتی ولی حسن ٹونکی نور اللہ مرقدہ (شمارہ 620)

سوال(۳):برطانیہ کا موسم اتنا غبار آلود ہے کہ یہاں سارے سال میں شاذونادر چاند کی رویت ہوتی ہے جن ملک میں کئی کئی دن تک آفتاب غبار کی وجہ سے نظر نہ آتا ہو وہاں چاند کی رویت کا سوال کم ہی پیدا ہوتا ہے۔ جب رویت ہلال کا مسئلہ یوں ہے تو رمضان وعیدین کے تعین کا مسئلہ بھی پیچیدہ مسئلہ بن گیا ہے اور اس مسئلہ میں حضرت مولانا مفتی محمد شفیع صاحبؒ سے مراسلت کے بعد جناب والا کے آخری استفتاء کے مطابق آج تقریباً تین سال سے عمل ہو رہا ہے، جس کا ماحصل یہ ہے کہ رمضان کے تعین کے بارے میں تو قریبی ملک مراکش سے بذریعہ فون بات چیت ہونے پر ان کی خبر کے مطابق تعین کیاجاتا ہے اور عید رمضان کے لئے ملک میں ۲۹ رمضان کو چاند ثابت نہ ہو تو ۳۰ روزے مکمل کر کے عیدمنائی جاتی ہے اور عیدالاضحی کے لئے عموماً یہاں کے علماء یوں کرتے ہیںکہ ہندو پاک کے خطوط یا یکم ذی الحجہ متعین کر کے اسی کے حساب سے عیدالاضحی کا تعین بھی ہوتا ہے۔

مگر بادی النظر میں یہ کوئی مستقل حل نہیں معلوم ہوتا اس لئے کہ جو صاحب فون کرتے ہیں اگر وہ ملک میں موجود نہ ہوں یا جن کے ساتھ مراکش میں فون پر بات کی جاتی ہے وہ نہ ہوں ان دونوں صورتوں میں یہ بات پھر اسی پر یشانی کا باعث ہوگی۔ نیز خطوط والا مسئلہ بھی کتنی حدتک صحیح ہو تب بھی مستقل حل نہیں۔ یہی وجہ یہاں کے تعلیم یافتہ طبقہ خاص طور پر عرب ممالک کے طلباء اس کو قبول نہ کرتے ہوئے محکمہ موسمیات کے حساب سے تعین رمضان عید کرتے ہیں تو کیا ان مجبوریوں کی صورت میں علامہ سبکیؒ کی تحقیق کے مطابق محکمہ موسمیات والوں کے زمین سے قابل رویت ہونے پر عیدین و رمضان کا تعین کیا جائے تو اس کی گنجائش نہیں ہو سکتی۔

خدا کے فضل سے برطانیہ میں لاکھ ڈیڑھ لاکھ مسلمان آباد ہیں اور بہت بڑی تعداد میں ان کے بچے بھی یہاں آباد ہیں۔ ملک بھر میںتقریباً ۷۰ سے ۸۰ مساجد قائم ہوگئی ہیں جن میں تراویح نماز پنجگانہ ہو رہی ہے اس قسم کے مسائل لائق توجہ اور قابل غور ہیں۔اس لئے حضرت والا سے صحیح شرعی آسان رہبری کے متوقع ہیں۔

 الجواب باسمہٖ تعالیٰ

ج(۱):شفق کے سوال میں جو تین درجے شفق کے نام سے بیان کئے ہیں، شرعاً مداراحکام نہیں ہیں۔ شرعاً تو شفق کے دودرجے ہیں: شفق احمر، شفق ابیض، بعض ائمہ کے نزدیک مغرب کا آخری وقت شفق احمر کا غائب ہونا ہے اور اسی سے عشاء کا وقت شروع ہوجانا ہے، امام ابو حنیفہؒ اور بعض دوسرے ائمہ کے نزدیک شفق ابیض کے غائب ہونے سے مغرب کا وقت ختم ہوتا اور عشاء کاوقت شروع ہوتا ہے، شرح مہذب میں ہے:

اجمعت الامۃ علی ان وقت العشاء تغیب الشفق واختلفوا فی الشفق ھل ھوالحمرۃ أم البیاض ومذھبنا انہ الحمرۃ دون البیاض

شفق احمر اور شفق ابیض میں تین درجے کا فرق ہوتا ہے:

لما فی ردالمحتاران التفاوت بین الشفقین بثلث درج کمابین الفجرین

عام معتدل علاقوں اور ملکوں میںدونوں کے درمیان پندرہ منٹ کا فرق ہوگا اور سوال میں جن علاقوں کا ذکر کیا گیا ہے ان میں زیادہ فرق ہوگا۔

 جیسا کہ ابھی تحریر کیا امام ابو حنیفہؒ کے نزدیک شفق ابیض کا اعتبار ہے، اسی پروقت مغرب ختم ہوتا ہے اور اسی سے عشاء شروع ہوتا ہے، امام ابو یوسفؒ اور امام محمدؒ کے نزدیک شفق احمر کا اعتبار ہے اور بعض کبار حنفیہ نے صاحبین کے قول پر فتویٰ دیا ہے:

لما فی الدرالمختاروحاشیتہ ردالمختار:ووقت المغرب منہ الی غروب الشفق وھو الحمرۃ عندھما وبہ قالت الثلاثۃ والیہ رجع الامام کمافی شروع المجمع وغیرھا فکان ھو المذھب…لکن تعامل الناس الیوم فی عامۃ البلاد علی قولھما وقد ابدہ فی النھر تبعاً الفقایہ والوقایہ والدرروالاصلاح ودررالبخار والامداد واھب شرحہ البرھان وغیرھم مصرحین بان الیہ فتویٰ وفی سراج قولھما اوسع وقولہ احوط ص۔۲۳۱ ج۱

لہٰذا برطانیہ اور وہ ممالک جو ۴۵ عرض البلد سے اوپر واقع  ہیں اور جہاں شفق دیرسے غائب ہوتی ہے وہ صاحبین کے قول پر عمل کریں، غروب شمس کے بعد مغرب کی نماز پڑھیں اور شفق احمر کے غائب ہونے کے بعد عشاء کی نماز پڑھیں اس طرح ان کو عشاء کی نماز کا زیادہ دیر انتظار نہیں کرنا پڑے گا، عشاء اور صبح میں فاصلہ بڑھ جائے گا جن دنوں میں شفق احمر پرعمل کرنے کے باوجود غروب شفق اور طلوع صبح صادق میںفاصلہ بہت ہی کم ہوتا ہے اس میں عشاء کی نماز ہرگز ترک نہ کریں، آرام اور سونے کا وقت دن میں نکالیں البتہ جن ایام میں غروب شفق نہ ہو اور طلوع فجر ہوجائے ، اس صورت حال کو فقہاء’’فقد وقت العشاء‘‘ کے عنوان سے بیان کرتے ہیں اور اس میں فقہاء مختلف ہیں بقالی، حلوانی مرغنیانی کی رائے یہ ہے کہ عشاء اور وتر کی نماز اس صورت میں ذمہ مکلف ساقط ہوجاتی ہے، نہ اداواجب نہ قضاء واجب کیونکہ سبب معدوم ہے۔

کما فی الدرالمختار وقیل لایکلف بھا العدم سببھما وبہ جزم فی الکنزوالدرر و المتلتقی وبہ افتی البقائی وافقہ الحلوانی والمرغینانی ورجحہ الشرنبلالی والحلبی واوسعا المقال ومنعا ما ذکرہ الکمال(علی ھامش درالمختار ص ۲۴۳)

ابن الشخہ کا فیصلہ ہے کہ نماز عشاء ووتر ذمہ مکلف سے ساقط نہیں ہے ضرور پڑھے،کیونکہ قرآن کریم ،احادیث متواترہ سے پانچ نمازوں کی فرضیت معلوم ہو رہی ہے اور اس میں کسی علاقہ، ملک کی تخصیص نہیں ہے، رہا سبب کا مسئلہ تو سبب اجہتادی ہے، نصی نہیں ہے، اس لئے اس صورت میں اس کا اعتبار نہیں ہوگا، صلوات خمسہ کا حکم علی حالہٖ باقی ہے، محققین فقہاء نے اسی قول کو ترجیح دی ہے، علامہ شیخ محمد اسماعیل کلینوی المتوفی ۱۲۰۵ھ نے اس پر ایک مبسوط رسالہ لکھا ہے اور محقق ابن الہمام کے قول کو ترجیح دی ہے اور اسی کو حکم شریعت قراردیا ہے ، ابن عابدین الشامی نے بھی اسی کو راجح کہا ہے۔

 ٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

Rangonoor Web Designing Copyrights Khabarnama Rangonoor