Bismillah

694


۱۰رمضان المبارک۱۴۴۰ھ

مغربی ممالک میں اوقات نماز۔۳

مغربی ممالک میں اوقات نماز۔۳

مفتی اعظم پاکستان حضرت مفتی ولی حسن ٹونکی نور اللہ مرقدہ (شمارہ 621)

والحاصل انھما قولا مصححان ویتأید القول بالوجوب بانہ قال بہ امام مجتھد وھوالامام الشافعیؒ کما نقلہ فی الحیلہ عن المتوفی عنہ

امام العصر حضرت مولانا انور شاہ کشمیریؒ بھی اس قول کو راجح اور مفتی بہٖ فرمایا کرتے تھے۔ کما اخبرنی بہ فضیلۃ الشیخ البنوری صاحب معارف السنن متعنا اللّٰہ تعالیٰ بطول حیاتہ

لہٰذا وہ لوگ عشاء کی نماز ترک نہ کریں اور علامہ زیلعیؒ کی تحقیق کے مطابق کسی وقت بطور قضا پڑھ لیں۔

کما فی ردالمحتار ’’اذا علمت ذلک ظھر لک ان من قال بالوجوب یقول بہ علی سبیل القضاء لا الادائ‘‘

اور بطور قضاء پڑھنے میں سہولت بھی ہے اس لئے اس کو اختیار کیا جائے۔

جمع بین الصلوٰتین سے آپ نے جو سہولت طلب کی ہے وہ قطعاً صحیح نہیں ہے کیونکہ جمع بین الصلوٰتین حضر میں کسی بھی امام مجتہد کے نزدیک جائز نہیں ہے کما فی بدایۃ المجتھد وشرح المھذب وغیرھا

دن طویل ہوجانے سے روزہ کی فرضیت ساقط نہیں ہوئی، ہاں اس قدر طویل ہوجائے کہ روزہ رکھنے میں ہلاکت کا اندیشہ ہوتو روزہ نہ رکھا جائے، بلکہ عام اور معتدل دنوں میں قضاء کرلی جائے۔

غروب طلوع میں فاصلہ کم ہونے کی وجہ سے افطار، سحری، نماز تراویح کی دقتوں کا حل یہ نکل سکتا ہے کہ افطار کیا جائے، نماز مغرب پڑھی جائے، پھر نماز عشاء فرض و وتر، تراویح کے لئے اگر وقت نہ ملے تو نہ پڑھی جائے اور اگر کم وقت ملے تو بیس نہ پڑھی جائیں تو آٹھ پڑھ لی جائیں یا اس سے بھی کم۔ وہ علاقے جو ۵۶ عرض البلد پر واقع ہیں جہاں ۲۲ دن اور جو علاقے ۵۸، ۶۰ عرض البلد پر واقع ہیں جہاں دو ماہ تک شفق اور صبح صادق کے درمیان فاصلہ نہیں رہتا تو ایسے علاقوں کے لوگوں کے لئے نماز عشاء کا مسئلہ پہلے ہی لکھا جا چکا ہے۔ نماز عشاء کسی وقت پڑھ لیں، روزہ بھی اگر ان دنوں میں آجائے تو نہ رکھیں، بلکہ عام دنوں میں قضاء کریں۔ لما فی رد المحتار:

تتمہ لم ارمن تعرض عندنا لحکم صومھم فیما اذا کان یطلع الفجر عندھم کما تغیب الشمس او بعدہ بزمان لا یقدر فیہ الصائم علی اکل مایقیم بنیتہ ولا یمکن ان یقال بوجوب موالاۃ الصوم علیھم لا انہ یودی الی الھلاک فان قلنا بوجوب الصوم یلزم القول بالتقدیر وھل یقدر لیلھم باقرب البلاد الیھم کما قالہ الشافعیۃ ھنا ایضاً ام یقدر لھم بما یسع الاکل والشرب ام یجب القضاء فقط دون الاداء کل محتمل فلیتامل……ص ۳۳۹ ج ۱

غالباً آخری صورت زیادہ سہل معلوم ہوتی ہے لہٰذا اس پر عمل کرنے کی گنجائش ہے۔

(۲) ایک مثل کے بعد نماز عصر پڑھ لی جائے، نماز صحیح ہوگی، صاحبینؒ کا مسلک ہے امام ابو حنیفہؒ سے بھی ایک روایت ہے:

لما فی ردالمحتار وعنہ مثلہ وھو قولھما وزفروالائمہ الثلاثۃ قال الامام الطحاوی وبہ ناخذ فی غررالاذکار وفی البرھان وھو اظھر لبیان جبریل وھو نص فی الباب وھی الفیض وعلیہ عمل الناس الیوم بہ یفتی علی ھامش ردالمحتار ص ۳۳۳ ج ۱

(۳)رمضان المبارک وعید کے سلسلہ میں محکمہ موسمیات کے حساب پر روزہ شروع کرنے یاعید کرنے کا فتویٰ صحیح نہیں ہے۔ علامہ سبکی کی تحقیق پر بہت سے علماء نے سیر حاصل بحث کی ہے اور اس کی تغلیط کی ہے کیونکہ شریعت نے رویت کو سبب قرار دیا ہے، حساب کو سبب قرار دینے کا مطلب یہ ہے کہ ایک نیا سبب شریعت کے سبب کے مقابلہ میں اختراع کیا جائے۔

لہٰذا اس سلسلہ میں تو مفتی محمد شفیع مدظلہ العالی کے فتویٰ پر عمل کیا جائے جیسا آپ کے یہاں عمل ہورہا ہے، ایک شکل یہ بھی ہوسکتی ہے کہ رمضان سے دو تین ماہ پیشتر رویت ہلال کا اہتمام کیا جائے، شروع ماہ اگر چاند نظر آجائے، تو مہینہ قمری سمجھا جائے اگر اس کے اختتام پر چاند نظر آجائے فبہا ورنہ تیس دن کا مہینہ شمار کیا جائے، اسی طرح رمضان اور عید کا حساب کیا جائے، یہاں مدار صرف حساب پر نہ ہو بلکہ رویت پر ہو، اگرچہ چار پانچ ماہ پہلے کیوں نہ ہو اس صورت کی گنجائش سمجھ میں آجاتی ہے (والعلم عنداللّٰہ) احکام الاحکام شرح عمدۃ الاحکام میں ہے:

والذی اقول بہ ان الحساب لا یجوز ان یعتمد علیہ فی الصوم لمفارقۃ القمر الشمس علی مایراء المنجمون من تقدم الشھر بالرویۃ بیوم او یومین فان ذلک احداث السبب لم یشرعہ اللّٰہ تعالیٰ واما اذادل الحساب علی ان ھلال قد طلع من الافق علی وجہ یری لولا وجود المانع کالغیم مثلا فھذا یقتضی الوجوب لوجود السبب الشرعی ولیس حقیقۃ الرویۃ بمشروطۃ فی اللزوم لان الاتفاق علی ان المحبوس فی المطورۃ اذا علم بالحساب باکمال العدۃ اوبالا جتھاد بالامارات ان الیوم من رمضان وجب علیہ الصوم ان لم یرالھلال ولا اخبرہ من راہ (ص  ۶ ج ۲)

علاوہ ازیں جب مفتی بہ قول کے مطابق اختلاف مطالع بلاد قریبہ میں نہیں اور ایک جگہ کی رویت دوسری جگہ کے لئے بھی حجت ہے جبکہ بطریق شرعی پہنچے اور استفاضہ خبر بھی ثبوت  رویت کے لئے شرعاً کافی ہے اس لئے آپ اپنے قریب کے اسلامی ریڈیوں پر اعتماد کرکے رمضان اور عید کرسکتے ہیں۔ واللہ تعالیٰ اعلم

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

Rangonoor Web Designing Copyrights Khabarnama Rangonoor