Bismillah

694


۱۰رمضان المبارک۱۴۴۰ھ

بعض مسائل واحکام

بعض مسائل واحکام

مفتی اعظم پاکستان حضرت مفتی ولی حسن ٹونکی نور اللہ مرقدہ (شمارہ 623)

اوریہ دونوں تہوار دوعظیم واقعات سے وابستہ ہیں عید الفطر نزول قرآن کی یاد گار ہے اور عید الاضحی ذبح کی عظیم یادگار ہے۔

عیدا لفطر میں دوسری وجہ مسرت اور شاد مانی کی یہ ہے کہ یہ دن وہ ہے جس میں مسلمان اپنے روزوں سے فارغ ہوتے ہیں اس لئے دو فرحتیں حاصل ہوتی ہیں ایک فرحت طبعی جو ان کوروزہ کی عبادت شاقہ سے فراغت پانے سے اور فقیر کو صدقات لینے سے حاصل ہوتی ہے اور ایک فرحت عقلی جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے عبادت مفروضہ ادا کرنے کی توفیق عطاء فرمانے کی وجہ سے اور ان کے اہل وعیال کو دوسرے سال تک سلامتی وعافیت سے رکھنے کا انعام عطاء فرمانے کی وجہ سے حاصل ہوتی ہے۔

دوسری اقوام کے تہوار کھیل کود اور گناہوں سے بھرپور ہوتے ہیں بعض قوموں میں ان کے قومی تہواروں کے دن گناہ جائز ہی نہیں بلکہ عبادت بن جاتے ہیں، اس کے برخلاف برگزیدہ دین نے پانچ نمازوں کے علاوہ ایک ایک نماز کا مزید اضافہ ان دونوں دنوں میں فرماکر مسلمان کی ا س حقیقت کی طرف رہنمائی فرمائی کہ مسلمان مسرت اور شادمانی کے موقع پر بھی ذکر، تسبیح، تہلیل، تکبیر، عبادت سے غافل نہیں ہوتا بلکہ ان میں اضافہ ہی کردیتا ہے۔ حضرت شاہ ولی اللہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

’’ان دونوں دنوں میں زیب وزینت کے ساتھ ذکر الہٰی اور ابواب بندگی کو بھی شامل کیا تاکہ مسلمانوں کا اجتماع محض کھیل کود ہی نہ ہو بلکہ ان کا اجتماع اعلاء کلمۃ اللہ کی روح کو اپنے اندر لئے ہوئے ہو۔‘‘

بعض مسائل واحکام

(۱) عیدین کی نماز واجب ہے۔ (۲) عیدین کے خطبہ کا سنناجمعہ کی طرح واجب ہے یعنی اس وقت بولنا، کھانا، پینا، سلام وجواب سلام وغیرہ سبب ممنوع ہیں۔ (۳) بلا عذر عیدین کی نماز چھوڑنا گمراہی وبدعت ہے۔ (۴) نماز عید کے پڑھنے کا طریقہ، دل سے یا زبان سے نیت کرکے تکبیر تحریمہ (اللہ اکبر) کہہ کر ہاتھ باندھ لیں اور ثناء (سبحانک اللھم) اخیر تک پڑھیں، پھر تین مرتبہ اللہ اکبر کہیں اور ہر ہر مرتبہ تکبیر تحریمہ کی مانند دونوں ہاتھ کانوں تک اُٹھائیں اور ان میں ہر تکبیر کے بعد ہاتھ لٹکادیں اور ہر تکبیر کے بعد امام اتنی دیر تک توقف کرے کہ اس میں تین مرتبہ سبحان اللہ کہا جاسکتا ہو اور یہ توقف مجمع کی کمی بیشی کے لحاظ سے مختلف ہوسکتا ہے، تیسری تکبیر کے بعد ہاتھ نہ لٹکائیں بلکہ حسب دستور ناف پر باندھ لیں اور امام اعوذ باللہ وبسم اللہ آہستہ پڑھ کر سورہ فاتحہ اور پھر کوئی سورہ جہر سے پڑھے اور مقتدی خاموش رہیں … اور اس کے بعد رکوع میں جانے سے پہلے تین زائد تکبیریں اس طرح کہے جس طرح پہلی رکعت میں کہی تھیں لیکن یہاں تیسری تکبیر کے بعد ہاتھ نہ باندھے بلکہ لٹکائے رکھے پھر بغیر ہاتھ اٹھائے ہوئے چوتھی تکبیر کہہ کر رکوع میں جائے اور حسب معمول نماز پوری کرے۔

 عیدن کے حسب ذیل امور سنت یا مستحب ہیں

 ۱۔عیدین کے روز جلدی جاگنا اور صبح کی نماز اپنے محلہ کی مسجد میں پڑھنا(۲) غسل کرنا(۳) مسواک کرنا(۴) جو کپڑے اس کے پاس ہیں ان میں سے اچھے کپڑے پہننا (۵) خوشبو لگانا (۶) عید الفطر کے روز فجر کے بعد عید گاہ کو جانے سے پہلے کوئی میٹھی چیز کھانا (۷) جس پر صدقہ فطر واجب ہے اس کا نماز سے پہلے ادا کرنا (صدقہ نصف صاع یعنی پونے دو سیر گیہوں آٹا یا اس کی قیمت ہے) (۸) فرحت وخوشی کا اظہار کرنا۔ (۹) حسب طاقت صدقہ وخیرات میں کثرت کرنا۔ (۱۰) عید گاہ کی طرف جلدی سے جانا (۱۱) عید گاہ کی طرف وقار اور اطمینان کے ساتھ جانا اور جن چیزوں کا دیکھنا جائز نہیں ہے ان سے آنکھیں نیچے رکھنا۔ (۱۲) عید الفطر کی نماز کے لئے عید گاہ کو جاتے ہوئے راستے میں آہستہ تکبیر کہتے ہوئے جانا اور عید الاضحی کے روز راستہ میں بلند آواز سے تکبیر کہتا جائے اور جب عید گاہ میں پہنچ جائے تو تکبیر کہنا بند کردے ایک روایت کے مطابق جب نماز شروع ہو اس وقت بند کرے، تکبیر یہ ہے: اللہ اکبر اللہ اکبر لا الہ اللہ واللہ اکبر وللہ الحمد (۱۳) دوسرے راستہ سے واپس آنا (۱۴) آپس میں مبارک باد دینا مستحب ہے (۱۵) عیدین کی نماز سے واپس آنے کے بعد گھر پر چار رکعت نماز نفل پڑھنا مستحب ہے۔ (مسائل واحکام ماخوذ از عمد الفقہ)

ذبح کا مسنون طریقہ اور مشینی ذبح کے متعلق شرعی مسائل

’’بینات‘‘ کے گزشتہ شمارہ میں حضرت مفتی محمد شفیع صاحب مفتی اعظم پاکستان کا ایک فتویٰ زیر عنوان مندرجہ بالا نظر نواز ہوا۔ حضرت مفتی صاحب مدظلہ العالی کا جواب باصواب کافی وافی ہے اور اس پر اضافہ مشکل ہے۔ لیکن پھر بھی ادارہ بینات کی طرف سے حکم ملا ہے کہ میں بھی چند سطریں تحریر کروں۔ لہٰذا تعمیل حکم ہے۔ یہ چند سطریں حوالہ قرطاس ہیں۔

سائل کا پہلا سوال تھا:

’’احادیث میں جو طریقہ ذبح مذکور ہے۔ یعنی حلق اور لبہ پر چھری چاقو وغیرہ دھار دار آلہ سے ذبح یا نحر کرنا امر تعبدی نہیں بلکہ امر عادی ہے۔ عرب میں چونکہ اس طرح جانور ذبح کئے جاتے ہیں۔ اس لئے آنحضرتﷺ نے بھی چند ہدایات کے ساتھ اسی طریقہ کو قائم رکھا ہے۔ لہٰذا مسلمان یا کتابی بسم اللہ کہہ کر جس طریق پر بھی جانور ذبح کریں ذبح حلال ہوگا۔ یہ قول صحیح ہے یا نہیں؟‘‘

(جاری ہے)

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

Rangonoor Web Designing Copyrights Khabarnama Rangonoor