Bismillah

694


۱۰رمضان المبارک۱۴۴۰ھ

بعض مسائل واحکام

بعض مسائل واحکام

مفتی اعظم پاکستان حضرت مفتی ولی حسن ٹونکی نور اللہ مرقدہ (شمارہ 624)

معلوم نہیں کہ سائل کی مراد ’’امر تعبدی‘‘ اور ’’امر عادی‘‘ سے کیا ہے۔ اگر اس سے مراد ائمہ اصول کی اصطلاح ہے تو اس اعتبار سے تو ذبح کا مسنون طریقہ امر تعبدی میں داخل ہے۔ امر تعبدی اور امر عادی کی تشریح امام ابوا سحاق الشاطبی نے اس طرح فرمائی ہیـ:

ما لم یعقل معناہ علی التفصیل من المامور بہ اوالمتھی عنہ فھو المراد بالتعبدی وما عقل معناہ وعرفت مصلحتہ او مفسدتہ فھو المراد بالعادی، فالطھارات والصلوات والصیام والحج کلھا تعبدی، والبیع والنکاح والشراء والطلاق والاجارات والجنایات کلھا عادی کان احکامھا معقولۃ المعنی

’’شریعت میں جس کام کے کرنے کا حکم دیا جائے یا جس سے روکا جائے۔ اگر اس کی حقیقت وغایت پوری تفصیل کے ساتھ سمجھ میں نہ آئے تو وہ ’’امر تعبدی‘‘ ہے اور اگر اس کی حقیقت پوری تفصیل وتوضیح کے ساتھ سمجھ میں آجائے۔ اس کی مصلحت یا مضرت پوری طرح واضح ہوجائے تو وہ ’’امر عادی‘‘ ہے۔ لہٰذا وضو غسل وغیرہ نماز، روزہ، حج سب کے امور تعبدیہ ہیں۔ خریدوفروخت، نکاح، طلاق، اجارات، جنایات وعقوبات (جرائم وسزائیں) امور عادیہ ہیں۔

حاصل یہ ہے کہ شریعت محمدیہ نے جن کاموں کے کرنے کا حکم دیا جن کے کرنے سے منع کیا ہے وہ دو قسم پر ہیں۔ ایک قسم تو یہ ہے جن کی حقیقت ومصلحت اور غرض وغایت پوری طرح ذہن انسانی میں نہیں آتی۔ اگرچہ اس کی بعض حکمتیں اور بعض فوائد سمجھ میں آجاتے ہیں۔ وہ امور ’’تعبدیہ‘‘ کہلاتے ہیں کہ وہاں مقصود اللہ تعالیٰ کے حکم کی بجا آوری ہوتا ہے۔ خواہ وہ ہماری سمجھ میں پوری طرح آئے یا نہ آئے۔ وضو، غسل، نماز،روزہ، حج امور تعبدیہ میں داخل ہیں۔ کیونکہ پورے اور کامل طریقہ پر ان کے حکم ومصالح عقل انسانی سے بالاتر ہیں۔ برخلاف ’’امور عادیہ‘‘ کے کہ ان کی غرض وغایت منفعت ومضرت پوری طرح سمجھ میں آجاتی ہے۔

اس بیان کی روشنی میں جب ہم زکوٰۃ شرعی (ذبح کے طریقہ) کو دیکھتے ہیں تو و ہ ہم کو ’’امور تعبدیہ‘‘ میں داخل نظر آتا ہے۔ کیونکہ اس طریقہ کی کچھ حکمتیں اور فوائد معلوم ہوتے ہوئے بھی یہ دعویٰ نہیں کیاجاسکتا ہے کہ اس کی پوری غرض وغایت ہماری سمجھ میں آگئی۔ یہ تو ہم کہہ سکتے ہیں کہ اس طریقہ خاص سے ذبح کرنے سے دم مسفوح آسانی سے نکل جاتا ہے۔ لیکن پھر بھی چند سوالات ذہن انسانی میں پیدا ہوئے۔ مثلاً ان موٹی موٹی رگوں کو کاٹنے کا حکم کیوں دیا؟ دوسری رگوں کے کاٹنے سے بھی یہ مقصد حاصل ہوسکتا ہے۔ چنانچہ ذکوٰۃ غیر اختیاری میں دوسرا طریقہ ہی اختیار کیا گیا ہے۔ غرض اس کی غرض وغایت اور پوری حکمتیں ہماری سمجھ سے بالاتر ہیں۔ لہٰذا اس کو امر تعبدی ہی کہا جائے گا۔

پھر بالفرض اگرہم ذبح کے شرعی طریقہ کو اس اصطلاح کے بموجب ’’امور عادیہ‘‘ میں شمار بھی کرلیں تب بھی اس سے لازم نہیں آتا کہ اس طریقہ کو تبدیل کرنے کا ہمیں حق حاصل ہے۔ کیونکہ امور عادیہ میں بھی ہم شریعت کے احکام کی بجا آوری کے پابندی ہیں اور شریعت کے مقررہ طریقہ کے خلاف دوسرا طریقہ نکالنے کا اختیار نہیں ہے۔ اس لئے کہ امور عادیہ میں بھی تعبد کے معنی پائے جاتے ہیں۔

خریدو فروخت وغیرہ معاملات امور عادیہ ہیں لیکن ان میں سے کسی کو اختیار نہیں ہے کہ شرعی احکام کو تبدیل کردے اور شریعت نے صحیح، فاسد، باطل، مکروہ کی جو حد بندیاں کی ہیں، ان کو توڑ دے۔ دیکھئے امام الشاطبی اسی حقیقت کو بیان فرمارہے ہیں:

’’ولا بدفیھا من التعبد اوھی مقیدۃ بامور شرعیۃ لا خیرۃ للمکلف فیھا… واذا کان کذلک فقد ظھر اشتراک القسمین فی معنی التعبد‘‘

امور عادیہ میں بھی تعبد کے معنی پائے جاتے ہیں۔ کیونکہ یہ بھی شرعی احکام کے ساتھ مقید ہیں اور مکلف کو ان میں کسی قسم کا اختیار نہیں ہے۔ لہٰذا واضح ہوگیا کہ دونوں قسمیں امور تعبدیہ اور عادیہ تعبد کے معنی میں شریک ہیں۔

یہی وجہ ہے کہ آئمہ مجتہدین نے ذبح کے صرف طریقہ مسنون کو جائز اور صحیح قرار دیا ہے۔ اس کے علاوہ دوسرے طریقوں کو باطل اور کالعدم سمجھا اور کسی دوسرے طریقہ سے ذبح کئے ہوئے جانور کو حرام اور مردار بتلایا ہے۔ امام شافعیؒ اپنی بے نظیر کتاب ’’الام‘‘ میں فرماتے ہیں:

’’الزکوٰۃ وجھان،وجہ فیما قدر علیہ الذبح والنحروفیھا لم یقدر علیہ مانالہ الانسان بسلاح بیدہ اور میہ بیدہ فھی عمل ھداہ اوما احل اللّٰہ عزوجل من الجوارح المعلمات التی تاخذ یفعل الانسان کما یصیب السھم،فاما الحفرۃ فانھا لیست واحداً من ذاکان فیھا اسلاہ یقتل اولم یکن ولو ان رجلاً نصب سیفاً اورمحاثم اضطر صیداً الیہ فاصابہ نذکاہ لم یحل اکلہ لانھا ذکاۃ بغیر فعل احد‘‘

’’زکوٰۃ کے دو طریقے ہیں: ایک طریقہ تو زکوٰۃ اختیاری کا ہے اور وہ ذبح یا نحر ہے۔ دوسرا طریقہ زکوٰۃ غیر اختیاری کا ہے۔ اس میں اپنے ہاتھ سے تیر مارنا یا کسی ہتھیار سے کام لینا یا شکاری جانوروں سے شکار کرنا وغیرہ صورتیں داخل ہیں اور ان سب میں انسانی فعل وعمل کو دخل ہے۔گڑھا کھود کر کسی جانور کو اس میں گرا کر مار دینا زکوٰۃ شرعی کے طریقوں میں داخل نہیں ہے۔ خواہ گڑھے میں ہتھیار ہوںیا نہ ہوں۔ اسی طرح اگر ایک شخص نے تلوار یا نیزہ گاڑ لیا، پھر کسی جانور کو اس کی طرف بھگایا اور اس سے ذبح ہوگیا تو اس کا کھانا بھی جائز نہیں ہے کیونکہ یہ بلا کسی تخصیص کے ذبح کرنے کے ذبح ہوا۔

امور تعبدیہ کا ایک خاصہ یہ ہے کہ ان میں فرائض، سنن، فضائل، مستحبات شریعت کی جانب سے بیان کئے جاتے ہیں ۔ امور عادیہ میں فرائض، سنن ، فضائل بیان نہیں کئے جاتے۔

(جاری ہے)

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

Rangonoor Web Designing Copyrights Khabarnama Rangonoor