Bismillah

694


۱۰رمضان المبارک۱۴۴۰ھ

بعض مسائل واحکام۔۳

بعض مسائل واحکام۔۳

مفتی اعظم پاکستان حضرت مفتی ولی حسن ٹونکی نور اللہ مرقدہ (شمارہ 625)

اس لحاظ سے بھی زکوٰۃ شرعی ’’امور تعبدیہ‘‘ میں شامل معلوم ہوتی ہے۔ کیونکہ اس کے لئے مذکورہ بالا احکام بیان کئے گئے ہیں۔ مسلمانوں نے اسی بناء پر ہمیشہ ذبیحہ کے مسئلہ کو اہمیت دی اور ذبح کی خدمت ایسے لوگوں کے سپرد کی جو ان کے مسائل سے پوری طرح واقف ہوں اور امین ہوں۔ المدخل میں ہے:

جانوروں کو شرعی طور پر ذبح کرنا ایک امانت ہے لہٰذا اس خدمت کو ایسے لوگوں کے سپرد کرنا چاہئے جو امین ہوں اور دینی امور میں تہمت زدہ نہ ہوں کیونکہ اس کے خصوصی احکام ہیں۔ مثلاً فرائض، سنن، فضائل، شرائط صحت، شرائط فساد۔ اسی طرح یہ کہ کس ذبیحہ کا کھانا جائز ہے اور کس کا نہیں اور کونسا ذبیحہ مکروہ ہے اور کس میں اختلاف ہے اور جب یہ بات ہے تو لازم ہے کہ ذبح کی خدمت انجام دینے والے ایسے لوگ ہوں جو مسائل سے واقف، قابل بھروسہ اور امانت دار ہوں۔

اس کے ایک صفحہ کے بعد ہے:

میں اپنے وطن فاس میں اسی طریقہ پر عمل پاتا ہوں کہ وہاں مویشی کے مالک ذبح نہیں کرتے بلکہ دیندار باخبر لوگ اس کے لئے مقرر ہیں اور وہ ذبح کرتے ہیں۔

عہد رسالتﷺ میں ذبح اور نحر کی خدمت جلیل القدر صحابہ کے ذمہ تھی۔ چنانچہ اس سلسلہ میں حضرت زبیر، عمرو بن العاص، عامر بن کریز، خالد بن اسید بن ابی العیص الاموی رضی اللہ عنہم کا نام لیا جاتا ہے۔

ذبیحہ کے مسائل کی اہمیت کا اندازہ اس سے بھی ہوتا ہے کہ ایک مرتبہ حضرت فاروق اعظم رضی اللہ عنہ سے کسی نے شکایت کی کہ مدینہ منورہ کے قصاب جانور کے ٹھنڈا ہونے سے پہلے کھال نکالنا شروع کردیتے ہیں۔ اس پر حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے مدینہ میں اعلان کرایا، اس اعلان میں لوگوں کی غلطی بھی واضح اور زکوٰۃ شرعی کی بھی نشاندہی کی تاکہ لوگ اس سے غفلت نہ برتیں۔ اعلان کے الفاظ یہ تھے:

’’الزکوٰۃ فی الحق واللبۃ لمن قدر ولا تجعلوا الانفس حتی تزھق‘‘

زکوٰۃ اختیاری کا محل حلق اور لبہ ہے اور پوری طرح جان نکلنے سے پہلے کھال اُتارنے میں جلدی نہ کرو۔

سائل کی مراد اگر یہ ہے کہ بعثت سے قبل جو امور اہل عرب کیا کرتے ہوں اور نبی کریمﷺ نے بعثت کے بعد انہی طریقوں کوبرقرار رکھا ہو وہ امور عادیہ ہیں اور اس طرح نہ ہوں وہ امور تعبدیہ ہیں۔ سو یہ اصطلاح ہی خود ساختہ ہے اور مستشرقین کی خانہ ساز ہے۔ اس اصطلاح کے بموجب نماز، روزہ، حج، طواف، سعی وغیرہ امور عادیہ بن جائیں گے۔ پھر اس کے ساتھ دوسرا مقدمہ بھی لگالیجئے کہ امور عادیہ میں طریقے تبدیل کئے جاسکتے ہیں۔ لہٰذا یہ نتیجہ ظاہر ہے کہ ساری شریعت تبدیل ہوسکتی ہے۔ العیاذ باللہ

حقیقت یہ ہے کہ اہل عرب میں بہت سے طریقے دین حنیف یعنی دین ابراہیمی کے باقی تھے۔ ان میں سے بعض تو علی حالہٖ باقی تھے اور بعض ترمیم واضافہ کے ساتھ، جناب رسول اللہﷺ مستقل پیغمبر اور خاتم الانبیاء ہونے کے ساتھ ہی دین حنیف کے مجدد تھے اور آپﷺ کا لایا ہوا دین اس کی تکمیلی شکل تھا۔ اس لئے آپﷺ نے ان طریقوں کو ہدایت ربانی کے ماتحت ختم نہیں کیا بلکہ ضروری ہدایت کے بعد امت مسلمہ میں جاری رکھا اور اہل عرب کے ترمیم واضافہ کو حذف کرکے ان کو عملی شکل میں ظاہر کیا۔ مستشرقین اس کو اپنی جہالت سے ’’رسم ورواج‘‘ کی پیروی کہتے ہیں۔ حالانکہ یہ سب طریقے تعبدی ہیں اور دین کے اجزاء ہیں۔ ہشام کلبی کا بیان ہے:

اہل عرب نے حضرت ابراہیم اور حضرت اسماعیل علیہما السلام کے دین کو بہت کچھ تبدیل کردیا تھا۔ بتوں کی پرستش شروع کردی تھی اور دوسری قوموں کی تقلید میں مشرکانہ عقائد داخل کرلئے تھے۔ لیکن بایں ہمہ ان میں بہت سی باتیں دین ابراہیم کی باقی تھیں۔ چنانچہ بیت اللہ کی تعظیم، طواف، حج، عمرہ، عرفات اور مزدلفہ میں وقوف، جانوروں کوذبح کرنا اور اس قسم کے امور ابھی تک باقی تھے۔ اگرچہ ان میں بعض چیزیں ان لوگوں نے شامل کرلی تھیں۔

اور یہ بات تو سب جانتے ہیں کہ اہل عرب جانوروں کو نحر یا ذبح کرتے تھے۔ کتاب الاصنام میں ہے:’’فکانوا ینحرون ویذبحون‘‘ (یہ لوگ نحر کرتے تھے اور ذبح کرتے تھے)

شاہ ولی اللہ دہلویؒ حجۃ اللہ البالغہ میںفرماتے ہیں:

’’ولم تزل سنتھم الذبح فی الحلق والنحر فی اللبۃ ما کانوا یخنفون ولا یبعجون‘‘

’’اہل عرب میں برابر یہ طریقہ رہا کہ وہ حلق میں ذبح اور لبہ میں نحر کرتے تھے اور جانوروں کا نہ تو گلا گھونٹتے تھے اور نہ ان کا پیٹ پھاڑتے تھے۔‘‘

اسلام نے اسی طریقہ کو اختیار کیا اور قرآن وحدیث وآثار میں اس کے فرائض، سنن، مستحبات، شرائط صحت، شرائط فساد بتلائے اور مستقل ہدایات دیں،بالآخر ’’کتاب الذبائح‘‘ اسلامی قانون کا ایک اہم باب قرار پایا۔ جس کے اصول وقواعد قاضی ابوالید ابن رشد نے اس طرح شمار کرائے ہیں:

والقول المحیط بقواعد ھذاالکتاب فی خمسۃ ابواب الباب الاول فی معرفۃ محل الذبح والنحروھوالمذبوح والمنحورالباب الثانی فی معرفۃ الذبح والنحرالباب الثالث فی معرفۃ الآلۃ التی بھا یکون الذبح والنحرالباب الرابع فی معرفۃ شروط الذکاۃ الباب الخامس فی معرفۃ الذابح والناحر

’’کتاب الذبائح‘‘ کے قواعد وکلیات کو اس طرح پانچ بابوں میں منحصر کیا جاسکتا ہے: پہلا باب ذبح اور نحر کے محل کے بارے میں اور وہ جانور ہے جس کو ذبح یا نحر کیا جاسکتا ہے۔ دوسرا باب ذبح اور نحر کی پہچان کے بارے میں۔ تیسرا باب آلہ کے بارے میں جس سے ذبح یا نحر کیا جاسکتا ہے۔ چوتھا باب زکوٰۃ شرعی کی شرائط کے بارے میں۔ پانچواں باب ذبح یا نحر کرنے والے کے بارے میں۔

(جاری ہے)

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

Rangonoor Web Designing Copyrights Khabarnama Rangonoor