Bismillah

694


۱۰رمضان المبارک۱۴۴۰ھ

طلاق ثلاثہ

طلاق ثلاثہ

انتخاب مضامین

مفتی اعظم پاکستان حضرت مفتی ولی حسن ٹونکی نور اللہ مرقدہ (شمارہ 628)

’’درمختار میں کہا ہے اور اسی طرح آلات محترفین میں بھی زکوٰۃ نہیں ردالمحتار میں فرماتے ہیں یعنی چاہے وہ اوزارایسے جو کام لینے میں خراب نہ ہوتے ہوں( گھستے نہ ہوں) جیسے کلہاڑی اور سنسی وغیرہ۔‘‘

وقال الطحطاوی فی حاشیتہ علی الدر المختاروکذلک آلات المتحرفین ای لاتجب فیھاالزکوۃ الا اذانوابھا التجارۃ( ص ۳۹۴ج۱)

’’طحطاوی نے درمختار کے حاشیہ میں کہا ہے: کاریگروں کے اوزار یعنی ان میں زکوٰۃ واجب نہیں بجز اس صورت کے کہ تجارت کی نیت سے رکھے ہوں۔‘‘

حالانکہ مسئولہ مشینوں اور عمارتوں میں تو استہلاک ہوتا ہے یعنی وہ کثرت استعمال سے گھستے اور پرانے ہوتے ہیں ان کی قیمتیں گھٹ جاتی ہے یہی وجہ ہے کہ حکومت ٹیکس لگاتے وقت اس استہلاک کے مقابلے میں چھوٹ دیتی ہے۔

 وفی الفقہ علی المذاھب الاربعہ وکذلک لاتجب الزکوٰۃ فی آلات صناعۃ( ص ۴۷۶ج۱)

کتاب الفقہ علی المذاہب الاربعہ میں لکھا ہے: اور اسی طرح صنعت و حرفت کے اوزاروں میں زکوٰۃ واجب نہیں ہوتی۔

ہذا ماعندی واللّٰہ تعالیٰ اعلم

وعلمہ اتم واحکم

طلاق ثلاثہ

طلاق کی ایک صورت یہ ہے کہ شوہر مجلس میں یا متعدد مجالس میں تین بار طلاق کے لفظ ادا کردے، مثلاً کہے: میں نے فلاں کو تین طلاقیں دیں یا کہے فلاں کو ایک طلاق دو طلاق تین طلاق، غرض ایک ہی مجلس میں تین طلاقیں ایک ساتھ کہہ دے یا اسی طرح متعد د مجالس میں تین بار طلاق دیدے خواہ طہر میں دے یا حالت حیض میں۔اس مسئلہ میں جمہور صحابہؓ، جمہورتابعین، جمہور ائمہ امام ابوحنیفہ امام مالک امام شافعی امام احمد رحمہم اللہ سب کے نزدیک تین طلاقیں واقع ہوجائیں گی، بیوی نکاح سے نکل جائے گی اور زوجین کے درمیان حرمت غلیظہ قائم ہوجائے گی، اگر چہ بعض ائمہ کے نزدیک ایک طہر میں بھی تین طلاقیں ایک ساتھ دیں تو گناہ بھی نہیں ہوگا اور تین طلاقیں بھی واقع ہوجائیں گی، چنانچہ امام شافعیؒ کا یہی مذہب ہے اور ائمہ ثلاثہ امام ابو حنیفہؒ امام مالکؒ اور امام احمدؒ کے نزدیک ایک طہر میں بھی ایک مجلس میں تینوں طلاقوں کو جمع کرنا مکروہ ہے۔

 امام ابو حنیفہؒ کے نزدیک اگر ہر طہر میں ایک ایک طلاق تین ماہ میں مکمل کی جائے تو کراہت نہیں ہوگی، امام مالکؒ اور امام احمد کے نزدیک یہ بھی مکروہ ہے بلکہ طلاق دینے کاطریقہ ان حضرات کے نزدیک یہ ہے کہ طلاق کے لفظ کو کم سے کم استعمال کیا جائے، ا س لئے طلاق ایک طہر میں دی جائے، پھرعدت گزرنے دی جائے یہاں تک کہ طلاق بائنہ ہوجائے،غرض ان کے نزدیک طلاق سنت کے لئے زمانہ اور عدد ضروی ہے۔ امام ابو حنیفہؒ کے نزدیک زمانہ ضروری ہے کہ حالت طہر میں ہو حالت حیض نہ ہو، عدد کا سنت سے تعلق نہیں ہے۔ اگر عدد کو تین طہروں میں استعمال کیا جائے تو یہ بھی سنت کا ایک طریقہ ہے اس لئے بلا کراہت طلاق واقع ہوجائے گی اس پر سب کا اتفاق ہے کہ تین طلاق کسی صورت سے بھی دی جائے تین طلاقیں واقع ہوجائیں گی اور حرمت غلیظہ قائم ہوجائے گی۔ اس مسئلہ کو ہم قرآن کریم، حدیث نبویﷺ، اجماع اور قیاس سے ان شاء اللہ ثابت کریں گے اس سلسلہ میں پہلی آیت حسب ذیل ہے:

فان طلقھا فلا تحل لہ من بعد حتی تنکح زوجاغیرہ

’’اگر بیوی کو تیسری طلاق دیدی تو جب تک وہ عورت دوسرا نکاح نہ کرے اس وقت تک وہ پہلے خاوند کے لئے حلال نہ ہوگی۔‘‘

اس آیت کریمہ میں پہلے مختلف قسم کی طلاق بیان کرنے کے بعد یہ ہدایت دی گئی ہے کہ تیسری طلاق کے بعد خاوند کے لئے عورت کی حلت ختم ہوجاتی ہے اب جب تک وہ عدت کے بعد دوسرے شخص سے نکاح نہ کرے اور شخص ثانی اس سے زن و شوہری کے تعلقات قائم نہ کرے اور پھر عدت نہ گزارے اس وقت تک عورت پہلے خاوند کے لئے حلال نہ ہوگی۔ تیسری طلاق کے سلسلہ میں آیت کریمہ مطلق ہے تیسری طلاق ایک مجلس میں دی جائے یا متعدد مجالس کا ثابت کرنا قرآن کریم کا فہم نہ ہونے کی دلیل ہے۔

مفسر کبیر امام ابی عبداللہ محمد بن احمد الانصاریؒ اپنی تفسیر الجامع لا حکام القرآن میں لکھتے ہیں:

’’تیسری طلاق اس آیت کریمہ میں ذکر کی گئی ہے جس سے ایسی جدائی آتی ہے جو تحریم ثابت کرنے والی ہے جب تک کہ دوسرے شوہر سے نکاح نہ کرے، اس لیے آیت کریمہاوتسریح با حسان کو جدید فائدہ پر حمل کرنا ضروری ہے یعنی دوطلاقوں کی عدت ختم ہونے کے بعدجدائی واقع ہونا، نیز آیت کریمہ سے مقصد طلاق کے ایسے عدد کو بیان کرنا بھی ہے جس سے تحریم آجاتی ہے۔ جاہلیت کے زمانہ میں طلاق کسی عدد مقرر کے ساتھ خاص نہیں تھی اس کو منسوخ کرنا بھی مقصد ہے اس لئے اگر اوتسریح باحسان سے تیسری طلاق مراد ہوتی تو تین طلاقوں سے حرمت کا واقع ہوجانا معلوم نہیں ہوتا کیونکہ اگر صرف اس کو بیان کیا جاتا اور اس آیت کو نہ بیان کیا جاتا تو حرمت والی جدائی جس میں نکاح ثانی کی ضرورت ہوتی ہے معلوم نہیں ہوتی، اس قسم کی تحریم تو اسی آیت کریمہ سے معلوم ہورہی ہے اس لئے ضروری ہے کہ اوتسریح باحسان سے مراد تیسری طلاق نہ ہو، اگر ا س سے تیسری طلاق مراد ہوتی توفان طلقھا سے چوتھی مراد ہوتی کیونکہ اس میں فاء تعقیب کے لئے آتی ہے جس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ گزری ہوئی طلاقوں کے بعد ایک ہی طلاق آرہی ہے، الغرض اس سے ثابت ہوا کہ تسریح باحسان سے مراد یہ ہے کہ ایک طلاق یا دوطلاق کے بعد عورت کو چھوڑ دیا جائے یعنی رجوع نہ کیا جائے تاوقتیکہ اس کی عدت ختم ہوجائے۔( ص ۱۲۰ج۳)

(جاری ہے)

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

Rangonoor Web Designing Copyrights Khabarnama Rangonoor