Bismillah

694


۱۰رمضان المبارک۱۴۴۰ھ

طلاق ثلاثہ (۳)

طلاق ثلاثہ (۳)

انتخاب مضامین

مفتی اعظم پاکستان حضرت مفتی ولی حسن ٹونکی نور اللہ مرقدہ (شمارہ 629)

علامہ قرطبیؒ نے اس آیت کے ذیل میں جو کچھ تحریر فرمایا ہے وہ نہایت ہی وقیع ہے، جس کا حاصل یہ ہے کہ آیت کریمہ حرمت کوبیان کررہی ہے تیسری طلاق کے بعد تاوقتیکہ عورت دوسرا نکاح نہ کرے اور میاں بیوی میں باقاعدہ زن و شوہر تعلقات قائم نہ ہوجائیں اس وقت تک عورت پہلے خاوند کے لیے حلال نہیں ہوگی۔

غرض تیسری طلاق سے پہلے حلت رہتی ہے تیسری طلاق کے بعد حرمت آجاتی ہے اور بعض حضرات نے جو تسریح باحسان کو تیسری طلاق قراردیا ہے اس کو مؤلف علام نے پورے شدومد سے مستردکیا ہے اور فرمایاکہ تسریح باحسان کو اس طرح طلاق بائنہ قرار دیا جائے گا کہ عدت گزر جائے اور رجوع نہ کیا جائے تب وہ طلاق بائنہ ہوجائے گی اور نکاح ٹوٹ جائے گا اور اگر اس کو تیسری طلاق قرار دیا جائے تو فان طلقہا کو چوتھی طلاق کہا جائے گاکیونکہ اس سے پہلے فاء تعقیب ہے اور تعقیب کا مطلب یہ ہے کہ مذکور کے بعد ایک اور طلاق آرہی ہے اس کے علاوہ آیت کریمہ کا مطلب جاہلیت کے نظام کو ختم کرکے اسلام کے نظام طلاق کوبیان کرنا ہے پہلے بھی یہ بات ذکر کی جاچکی ہے کہ جاہلیت میں طلاق کسی عدد میں مخصوص نہیں تھی بلاتعداد طلاق دے کر رجوع کرلیا جاتا تھا، آیت کریمہ نے بتلایا کہ دوطلاق تک رجوع ہو سکتا ہے تیسری طلاق دینے کے بعد رجوع کی کوئی صورت نہیں ہے کیونکہ اب رجوع حرام ہوچکا ہے گویا تیسری طلاق سے حرمت آجائے گی اب رجوع کی کوئی صورت نہیں ہے۔

ایک ہی مجلس یا چند مجالس میں تین بار طلاق دینے کا جو انکار کرتے ہیں وہ یہ کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے بندوں کو طلاق دینے کا ایک خاص طریقہ سے وکیل بنایا ہے وہ طریقہ یہ ہے:

(الف) طہر میں طلاق دی جائے

(ب)ایک طہر میں ایک ہی طلاق دی جائے

(ج) ایک سے زیادہ طلاق نہ دی جائے

اب اگر ایک شخص وکالت کے خلاف عمل کر ے یعنی حیض میں طلاق دیدے یا ایک طہر میں ایک سے زیادہ دے دے تو یہ طلاق واقع نہ ہوگی، کیونکہ خلاف توکیل ہے جیسے کوئی شخص اس کو اپنے نکاح کا وکیل بنائے اور وکیل مؤکل کی خلاف مرضی نکاح فاسد یا نکاح باطل منعقد کردے تو یہ نکاح فاسد یا باطل مؤکل کے ذمہ نہیں ہوگا۔

یہ اعتراض بعض لوگوں کی طرف سے بڑے زور وشور سے پیش کیا جاتا ہے لیکن بغوردیکھا جائے تو یہ اعتراض مغالطہ سے کم نہیں، امام جعفر طحاویؒ نے مسکت جواب دیا ہے وکیل وہ ہے جو توکیل کے حق میں کام کرتا ہے مؤکل کی جگہ کام کرتا ہے اگر مؤکل کے مطابق کام کرے تووہ قابل نفاذہے ورنہ نہیں، بندے طلاق دینے میں اپنے لیے عمل کرتے ہیں دوسروں کیلئے نہیں، نہ اپنے رب کے لئے اس لئے طلاق اگر امرالہٰی کے مطابق رہے تو انہی کا فائدہ ہے اور گناہ بھی نہیں، بصورت دیگر طلاق ہوجائے گی البتہ گناہ بھی ساتھ ہوگا ۔ہم دیکھتے ہیں کہ بعض ایسے امور ہیں جن سے اللہ تعالیٰ نے ہمیں منع کیا ہے اور اس کو منکر اور زور کہا ہے جیسے ظہارکہ قرآن مجید کی تصریح کے مطابق یہ ناجائز اور حرام ہے اب اگر کوئی اپنی بیوی سے ظہار کرے تو اس پر حکم شرعی نافذ ہوجائے گااور کفارہ کی ادائیگی تک بیوی حرام ہوجائے گی ، اسی طرح تین طلاقیں اگر ایک مجلس میں دی جا ئیں یا حالت حیض میں طلاق دی جائے تویہ منکر اور ناجائز ہے البتہ واقع ہونا لازمی امر ہے۔

صحیحین اور تمام دوسری حدیث کی کتابوں میں حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کی مشہور حدیث ہے کہ موصوف نے اپنی بیوی کو حالت حیض میں طلاق دی تھی، عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما نے اپنے والد ماجد حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے ذکر کیا، حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے رسول اکرمﷺ سے عرض کیا، آپﷺ نے فرمایا : اپنے بیٹے کو حکم دو کہ وہ بیوی سے رجوع کرلے اور پھر اگر طلاق دینا چاہے تو دوسرے طہر میں طلاق دے۔

اب غور فرمائیے حالت حیض میں طلاق ناجائز اور حرام ہے تاہم یہ طلاق واقع ہوگی اسی لئے رجوع کرنے کا حکم دیا گیا۔ بعض حضرات سمجھتے ہیں کہ طلاق واقع نہیں ہوئی تھی لیکن صحیحین اور دوسر ی کتب میں واضح الفاظ موجود ہیں جن سے معلوم ہوتا ہے کہ طلاق شمار کی گئی ہے اور رجوع کرنے کا حکم تو اس قدر واضح ہے کہ تقریباً حدیث پاک کی ہر کتاب میں موجود ہے، ظاہرہے کہ رجوع کا مطلب یہی ہے کہ طلاق واقع ہوئی ورنہ رجوع بے معنی ہوجاتا ہے۔

 صحیح مسلم میںزہری کا ایک طریق مذکور ہے اس میں ابن عمر رضی اللہ عنہ کے یہ الفاظ ذکر کئے گئے ہیں، ابن عمر کہتے ہیں کہ میں نے اپنی بیوی سے رجوع کرلیا اور میں نے جو طلاق دی تھی وہ شمار کی گئی اور صحیحین کی روایات میں اس طلاق کے شمار کئے جانے کو ایک دوسرے پیرایہ بیان سے ذکر کیا گیا ہے چنانچہ صحیح مسلم میں ہے کہ یونس بن جبیر بیان کرتے ہیں کہ میں نے ابن عمر رضی اللہ عنہ سے سنا وہ فرماتے تھے کہ میں نے اپنی بیوی کو حیض کے زمانہ میں طلاق دیدی تھی، حضرت عمر رضی اللہ عنہ حضور اکرام کی خدمت میں حاضر ہوئے اور آپﷺ سے یہ واقعہ بیان کیا آپﷺ نے ارشاد فرمایا: اس کو رجوع کرنے کا حکم دو پاک ہونے کے بعد اگر وہ طلاق دینا چاہے تو طلاق دیدے، یونس بن جبیر کہتے ہیں کہ میں نے ابن عمر رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ وہ طلاق شمار ہوگی یا نہیں؟ حضرت نے جواب دیا کہ وہ طلاق شمار ہونے سے کون سا امر مانع ہے اگر کوئی شخص عاجز یا احمق بن جائے تو شریعت کے احکام کیا معطل ہوجائیں گے، حدیث پاک کے اصل لفظ یہ ہیں:

قال قلت لابن عمرافتحسب بھا فقال مایمنعہ ارأیت ان عجزاواستحمق

’’میں نے ابن عمر رضی اللہ عنہما سے پوچھا: کیا اس کو شمار کیا جائے گا؟ انہوں نے کہا: اس سے کونسی چیز مانع ہے مجھے بتائو اگر کوئی آدمی عاجز اور احمق ہوجائے تو کیا کیا جائے ۔‘‘

غیر مقلدین اور منکرین حدیث کہتے ہیں کہ ایک جلسہ میں یا ایک جملہ میں تین طلاقیں ناجائز اور حرام ہیں کیونکہ قرآن شریف نے طلاق دینے کا جو مشروع طریقہ بتلایا ہے وہ یہ ہے کہ ایک طہر میں ایک ہی طلاق دی جائے یا دوطلاقیں دے، تین طلاقیں ایک ساتھ دینا غیر مشروع ہیں لیکن یہ ائمہ بھی اس کے قائل ہیں کہ اگر دیدی جائیں تو واقع ضرور ہوجائیں گی ۔غیر مقلدین اور منکرین شافعی کہتے ہیں کہ تین طلاقیں جمع کرنا حرام ہے اس لئے واقع نہیں ہوںگی۔ ان کے اس مغالطہ کا علامہ طحاویؒ نے شرح معانی الآثار میں جواب دیا ہے کہ ظہار کو قرآن مجید میں منکرامن القول وزورا کہا گیا ہے یعنی ناجائز اور حرام کہا گیا ہے لیکن اس کے باوجود اس پرحکم شرعی دیا گیا ہے یعنی کفارے کا حکم دیا گیا ہے۔

(جاری ہے)

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

Rangonoor Web Designing Copyrights Khabarnama Rangonoor