Bismillah

694


۱۰رمضان المبارک۱۴۴۰ھ

طلاق ثلاثہ (۴)

طلاق ثلاثہ (۴)

انتخاب مضامین

مفتی اعظم پاکستان حضرت مفتی ولی حسن ٹونکی نور اللہ مرقدہ (شمارہ 630)

علامہ طحاویؒ کی دلیل بالکل واضح ہے اور مسکت بھی لیکن اس کے باوجود یہ لوگ فساد پر قائم ہیں اور پرانا مغالطہ دہراتے جاتے ہیں۔

اس موقعہ پر کوئی شخص یہ کہہ سکتا ہے کہ آیت قرآنی ’’فطلقوھن لعدتھن‘‘ عورتوں کو طلاق دوان کی عدت کے وقت سے معلوم ہوا کہ طلاق کے لیے ضروری ہے کہ جس طہر میں جماع نہ کیا جائے اس میں دی جاتی ہے تاکہ حکم قرآنی پر عمل ہوجائے تو اس کا جواب یہ ہے کہ طلاق تو ایسے ہی وقت دیناچاہئے اور حکم قرآنی پر عمل کرنا چاہیے البتہ اگر کوئی اس حکم کی خلاف ورزی کرتا ہے اور زمانہ حیض میں طلاق دیدے یا ایک سے زیادہ طلاق دیدے تو طلاق واقع ہوجائے گی اور طلاق دینے والا حکم قرآنی پر عمل نہ کرنے سے گنہگار بھی ہوگا ایسا نہیں ہو سکتا کہ طلاق واقع ہی نہ ہو، طلاق واقع نہ کر کے اس کو چھوٹ دیدی جائے اور آزاد قد چھوڑ دیا جائے کہ وہ اس طرح ناجائز طریقہ پر طلاق دیتا رہے اور طلاق مؤثر بھی نہ ہو یہ محض غلط ہے اور شریعت کے ساتھ مذاق کرنا ہے۔ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ نے اپنی بیوی کو حیض کے زمانہ میں طلاق دیدی تھی رسول اللہﷺ کو جب علم ہوا تو آپﷺ بہت ناراض ہوئے کیونکہ موصوف نے حکم قرآنی کی خلاف ورزی کی تھی اور حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ کو رجوع کا حکم فرمایا اور ظاہر ہے کہ رجوع بلا وقوع طلاق نہیں ہوا اس سے معلوم ہوا کہ ناپسندیدہ طلاق کو شمار کیا گیا، امام طحاویؒ نے اس نکتہ کو بڑی وضاحت سے بیان فرمایا ہے۔

قرآن کریم کے بعد جب ہم حدیث نبوی ﷺ کا مطالعہ کرتے ہیں تو معلوم ہوتا ہے کہ حدیث پاک کے لحاظ سے بھی ایک کلمہ میں دی ہوئی تین طلاقیں واقع ہوجاتی ہیں امام بخاریؒ اپنی کتاب صحیح بخاری میں’’باب من اجازطلاق الثلاث‘‘ کے تحت عویمر عجلانی کے واقعہ لعان کے بیان کے بعد حدیث کے یہ الفاظ بیان کرتے ہیں:

قال عویمرکذبت علیھا یارسول اللّٰہ ان امسکتھا فطلقھا ثلاثا قبل ان یامرہ رسول اللّٰہﷺ قال ابن شھاب:فکانت تلک سنۃ المتلاعنین

’’عویمر رضی اللہ عنہ نے کہا: اگر میں نے اس کو اپنے پاس رکھا تو گویا میں جھوٹا، اس لیے انہوں نے رسول اللہﷺ کے فرمانے سے قبل ہی تین طلاقیں دیدیں ۔ابن شہاب زہری فرماتے ہیں کہ لعان کرنے والے میاں بیوی کے درمیان طریقہ کار یہی ہے۔‘‘

رسول اللہﷺ کی موجودگی میں عویمر العجلانی تین طلاقیں دیتے ہیں اور رسول اللہﷺ اس پر کوئی اعتراض نہیں کرتے، تین طلاقوں کو ایک کلمہ میں جمع کرنا اگر کوئی منکر ہوتا تو آپ ﷺضرور اعتراض کرتے۔ اس موقعہ پر کوئی شخص کہہ سکتا ہے کہ جب لعان ہوچکا تھا تو طلاق دینا بے فائد ہ تھا ابن شہاب الزہری کے الفاظ اسی کا جواب ہیں کہ ان طلاقوں سے میاں بیوی کے درمیان تفریق ہوگئی یعنی صرف لعان سے تفریق نہیں ہوئی یا تو قاضی تفریق کرے یا شوہر طلاق دے کر بیوی کو اپنی زوجیت سے خار ج کردے۔

امام بخاریؒ نے مندرجہ بالا باب میں رفاعہ القرظی کی بیوی کی مشہور روایت نقل کی ہے روایت میں ہے:

فقالت یارسول اللّٰہ! ان رفاعہ طلقنی فبت طلاقی وانی نکحت بعدہ عبدالرحمن بن الزبیر

’’اس نے کہا کہ رفاعہ نے مجھے قطعی طلاق دی اور میں نے اس کے بعد عبدالرحمن بن زبیر سے نکاح کیا۔‘‘

حافظ ابن حجر عسقلانی’’فبت طلاقی‘‘ کی تشریح کرتے ہوئے لکھتے ہیں:

’’دوسرے احتمال کی تائید اس سے ہوتی ہے کہ اس خاتون نے کہا کہ میرے شوہر نے مجھے تین طلاقیں دیدی ہیں یہ احتمال ترجمۃ الباب’’من اجاز الطلاق الثلاث‘‘ کی وضاحت کرتا ہے کہ تین طلاقوں کو ایک ساتھ دینا یا متفرق مجالس میں دینے کا جواز بیان کرتا ہے۔‘‘

حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ ایک آدمی نے اپنی بیوی کو تین طلاقیں دیدیں، اس نے دوسرا نکاح کرلیا اس نے بھی طلاق دیدی ،رسول اللہﷺ سے پوچھا گیا کہ یہ عورت پہلے شوہر کے لیے حلال ہے؟ آپﷺ نے فرمایا: نہیں جب تک یہ دوسرا شوہرزن وشوہری کے تعلقات قائم نہ کرے جس طرح پہلے نے کئے۔

اس حدیث پر بعض لوگوں نے اعتراض کیا ہے کہ حدیث عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہاپچھلی حدیث کے متعلق ہے اور یہ بھی رفاعہ القرظی کی بیوی کا واقعہ ہے لیکن یہ اعتراض غلط ہے ،حافظ ابن حجرؒ نے فرمایا:

’’اس سے لوگوں کی غلطی واضح ہوجاتی ہے جو ان دونوں واقعات کو ایک قرار دینے کی فکر میں ہیں، یہ سمجھتے ہوئے کہ رفاعہ بن سموال اور رفاعہ بن وہب دونوں ایک ہی شخصیت کے نام ہیں۔‘‘

اس موقعہ پر تین حدیثیں ایسی ہیں جن سے غیر مقلدین ، اسی طرح منکرین حدیث استدلال کرتے ہیں۔غیر مقلدین کا استدلال تو اس لیے صحیح معلوم ہوتا ہے کہ یہ حضرات کہلاتے تو غیر مقلدین ہیں اور اپنے متعلق یہ تاثر دیتے ہیں کہ وہ کسی کی تقلید نہیں کرتے حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ تقلیدسے کوئی مفر نہیں ہے، ہم ائمہ اجتہاد ابو حنیفہ مالک شافعی احمد رحمہم اللہ کی ان نصوص متعارضہ میں جہاں ہم کوئی فیصلہ نہیں کر پاتے حسن ظن کی بناء پر تقلید کرتے ہیں کہ وہ ہم سے علم، فضل، زہد و تقویٰ، صلاحیت اجتہاداور قرب الی اللہ میں فائق ہیںاور انہوں نے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے علوم کو اپنے مسائل اجتہادیہ میں منعکس کیا تھا اور اپنے قلوب مطہرہ کو ان کے رنگوں سے رنگا تھا، مگر غیر مقلدین حضرات صحیح معنی میں اتباع ہویٰ کرتے ہیں اور جہاں سے بھی اس کی تسکین ہوتی ہے اسی قول کی تقلید کرتے ہیں اور پھر بھی اپنے آپ کو غیر مقلد کہلاتے ہیں، مسائل خلافیہ میں یہ لوگ امام بخاریؒ کا دم بھرتے ہیں اور ان کی تحقیقات کو اپنی تحقیق سمجھتے ہیں لیکن آپ معلوم ہوچکا ہے کہ اس مسئلہ میں امام بخاریؒ کا موقف بھی وہی ہے جو جمہور امت کا ہے اور امام موصوف نے جمہور امت سے سرِ مو اختلاف نہیں کیا اور اپنی صحیح میں’’باب من اجاز الطلاق الثلاث‘‘ لکھ کر جمہور امت کے موقف کی تصدیق و تائید کی ہے اور وہی کہا ہے جو جمہور صحابہ و تابعین کا مذہب ہے۔

تواب طلاقہ ثلاثہ کے مسئلہ میں یہ حضرات حافظ ابن تیمیہ اور حافظ ابن قیم رحمہم اللہ کی تقلید کرتے ہیں اور دونوں حضرات نے جن احادیث کو پیش کیا ہے یہ بھی وہی پیش کردیتے ہیں، چنانچہ ان کے دار الافتائوں سے طلاق ثلاثہ کے بارے میں جو فتوے جاری ہوتے ہیں ان میں وہی احادیث تحریر ہوتی ہیں۔

(جاری ہے)

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

Rangonoor Web Designing Copyrights Khabarnama Rangonoor