Bismillah

694


۱۰رمضان المبارک۱۴۴۰ھ

طلاق ثلاثہ (۶)

طلاق ثلاثہ (۶)

انتخاب مضامین

مفتی اعظم پاکستان حضرت مفتی ولی حسن ٹونکی نور اللہ مرقدہ (شمارہ 632)

تو یہ بالاتفاق صحیح نہیں ہے خواہ طلاق کو تین کے عدد میں محصور کرنے سے پہلے ہو یا اس کے بعد کیونکہ طلاق کے احکام آنے سے پہلے یا آیت الطلاق مرتان کے نازل ہونے سے پہلے لوگ بے شمار طلاق دیدیا کرتے تھے اور پھر رجوع کرلیا کرتے تھے تو حکم آیا کہ صرف دو طلاقوں کے بعد رجوع کیا جا سکتا ے تیسری طلاق کے بعد رجوع کی کوئی گنجائش نہیں، تیسری طلاق کے بعد تو تحلیل شرعی کی ضرورت پڑے گی، جب تک تحلیل نہ ہو بیوی پہلے خاوند کے لئے حلال نہ ہوگی۔ ظاہر بات یہ ہے کہ آیت کریمہ اترنے کے بعد کس طرح تین طلاقوں کو ایک سمجھا جا سکتا ہے اس لیے تین طلاقوں سے وہ طلاقیں مراد لی جائیں تو تین علیحدہ علیحدہ طہروں میں نہ دی جائیں بلکہ ایک کلمہ سے یا تین کلموں سے دی جائیں پھر یا یہ مدخول بہا کو دی جائیں یا غیر مدخول بہا کو پھر تین کلموں سے یکے بعد دیگرے دی جائیں تو اس صورت میں پہلی واقع ہو کر بائنہ ہوجائے گی دوسری اور تیسری محل نہ ہونے کی وجہ سے بے اثر ہوں گی اور لغو ہوجائیں گی عورت مدخول بہا ہو اور طلاق کے لفظ یکے بعد دیگرے بہ نیت تاکید کہے جائیں تو اس شوہر کاقول دیانتاً قبول کیا جا سکتا ہے( دیانت اور قضاء کا فرق او رعورت کہاں قاضی کے حکم میں ہے اور کہاں نہیں یہ مسئلہ کتب فقہ کے حوالہ ہے فقہاء کرام نے اس پرسیر حاصل بحث کی ہے اور وہی اس بحث کے حقدار ہیں اور انہی سے یہ مسئلہ دریافت کرنا چاہئے)

رسول اکرمﷺ کے سامنے تین طلاق کی صورت میں جب شوہر دوسری اور تیسری طلاق سے تاکید مرادلیتا تھا اور آنحضورﷺ صاحب وحی تھے کوئی شخص غلط نہیں کہہ سکتا تھا اگر کوئی شخص آپﷺ کے سامنے غلط کہتا تو فوراً وحی اتر کر حقیقت حال واضح کردیتی تھی اس لیے کوئی شخص جھوٹ نہیں کہہ سکتا تھا کیونکہ وحی مبین ساتھ ہی ساتھ موجود تھی حضورﷺ کے دنیا سے تشریف لے جانے کے بعد جب یہ سلسلہ ختم ہوگیا تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے نیت تاکید کا اعتبار نہیں کیا بلکہ الفاظ طلاق کا اعتبار کیا جب لفظ تین بار بولے گئے تو ظاہرہے کہ تین طلاقیں ہی ہوں گی۔رہا حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کا زمانہ تو ان کے زمانہ میں بھی وحی منقطع ہوچکی تھی البتہ انکازمانہ بہت ہی کم تھا اس لیے ان کے زمانے میں اس قسم کا کوئی واقعہ پیش ہی نہ آیا ہو یا اگر پیش آیا تو اس زمانہ کے صلاح وتقویٰ کی وجہ سے شوہر کا قول تاکید کے بارے میں قبول کرلیا گیا تاہم قانون نہیں، عمرفاروق رضی اللہ عنہ کے دور سعادت کو یہ خصوصیت حاصل تھی اس زمانہ میںبہت سے احکام نے قانونی شکل اختیار کی اور امت کے لیے ضوابط و قواعد متعین ہوئے، اسی زمانہ خیر میں قضاء کا یہ قانون مرتب ہوا کہ ظاہر کا اعتبار ہوگا اور اس پر قضاء کے احکام جاری ہوں گے۔

صحیح بخاری شریف میں ہے:

میں نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے فرماتے سنا کہ رسول اللہ ﷺ کے زمانہ میں لوگوں پر وحی کے ذریعہ مواخذہ کیاجاتا تھا اب وحی منقطع ہوگئی اب تمہارا مواخذہ ظاہر اعمال کے بموجب ہوگا جس نے ہمارے سامنے خیر ظاہر کی ہم اس کو امن دیں گے اور قریب کریں گے اس کے باطن سے ہمیں سروکار نہیں جس نے کسی برائی کا اظہار کیا ہم اس کو امن دیں گے اور نہ اس کی تصدیق کریں گے اگرچہ وہ کہے کہ اس کا باطن اچھا ہے۔‘‘

حضرت فاروق اعظم رضی اللہ عنہ کے اس فرمان کا تعلق اگر چہ شہادات اور قضاء اور بہت سے دیگر احکام سے ہے البتہ طلاق وغیرہ بھی اس میں داخل ہے، ورنہ دور فاروقی سے یہ اعلان کہ رسول اللہﷺ کے عہد با سعادت میں بعض حضرات کا مواخذہ وحی سے ہوتا تھا اب وحی منقطع ہوچکی ہے اب صرف ظاہر کا اعتبا ہوگا بڑا فیصلہ کن اعلان ہے اور دور رس نتائج کا حامل ہے۔ قضاء و شہادات اور معاملات ہی اس کے دائرہ اختیار میں داخل نہیں ہیںبلکہ طلاق کی مذکورہ بالاصورت بھی اس میں داخل ہے۔ صدیوں سے اسلامی عدالتوں کے قاضیوں نے اس قانون کو نہ صرف اپنایا بلکہ اس کے عدالتی فیصلوں اور نظائر کا مدارہی اس قانون پر رہا۔

رسول اللہﷺ کے زمانہ باسعادت کی ایک نظیر مزید ذہن نشین فرمائیے:

’’عقبہ بن حارث نے ابی اہاب بن عزیز کی بیٹی سے نکاح کیا ایک عورت آئی اور اس نے کہا: میں نے عقبہ اور جس عورت سے اس کا نکاح ہوا ہے ان دونوں کو دودھ پلایا ہے عقبہ نے انکار کرتے ہوئے کہا: میں نہیں سمجھتا کہ تم نے مجھے دودھ پلایا اور تم نے مجھے خبر بھی نہیں کی ،عقبہ مدینہ گئے حضورﷺ سے پوچھا آپﷺ نے فرمایا: جب کہہ دیا گیا تو پھر کیسے؟ عقبہ نے اس عورت کوچھوڑ دیا اس نے دوسرے آدمی سے نکاح کرلیا۔‘‘

جامع ترمذی میں یہ حدیث قدرے مفصل ہے:

’’عقبہ کہتے ہیں کہ میں نے ایک عورت سے نکاح کیا ایک کالے رنگ کی عورت آئی اور اس نے کہا کہ میں نے تم دونو ںکو دودھ پلایا ہے حالانکہ وہ جھوٹی ہے راوی کہتے ہیں کہ حضورﷺ نے مجھ سے منہ پھیر لیا میں حضورﷺ کے چہرے کی طرف سے آیا اور میں نے عرض کیا کہ یہ عورت جھوٹی ہے آپﷺ نے فرمایا: کس طرح؟جب وہ کہہ رہی ہے کہ اس نے دودھ پلایا بیوی کوچھوڑدے۔‘‘

یہاں پر حدیث پاک میں یہ لفظ کہ آپﷺ نے منہ پھیرلیا اگر یہاں کوئی ضابطہ ہوتا یا قانون ہوتا تو آپﷺ فوراً حکم دیتے کہ بیوی کو چھوڑدے آپ ﷺ نے ایسا نہیں فرمایا، نبی کسی غلط بات پر ایک لمحہ کے لیے بھی برقرار نہیں رہتا پھر آپﷺ پر وحی آئی اور وحی سے آپﷺ نے فرمایا کہ بیوی کو چھوڑدے۔ یہی بات حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمائی کہ’’کان الناس یوخذون بالوحی فی عھد رسول اللّٰہﷺ‘‘یعنی حضورﷺ کے زمانہ میں بعض لوگوں سے وحی کے مطابق مؤاخذہ ہوتا تھا۔ وحی نے یہاں فیصلہ کیا ورنہ قاعدہ کے اعتبار سے یہاں بیوی کوچھوڑنے کا فیصلہ مشکل تھا، دودھ پلانے کادعویٰ کرنے والی خاتون لونڈی تھیں یہاں تک کہ وہ طلاق بائنہ ہو کر باعث تفریق قرار پائی تھی۔

اس طریقہ سے طلاق چونکہ ابغض المباحات ہے اس لیے کم سے کم لفظ طلاق بولاگیا اور شوہر کا مقصد یعنی تفریق حاصل ہوگئی تو اب یہ مطلب حدیث کا واضح ہوگیا کہ آنحضورﷺ اور صدیق اکبررضی اللہ عنہ کے زمانہ میں تین طلاقوں کو ایک سمجھا جاتا تھا یعنی ایک طلاق سے وہ کام لیا جاتا تھا جو تین طلاق سے لیاجاتا تھا۔

(جاری ہے)

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

Rangonoor Web Designing Copyrights Khabarnama Rangonoor