Bismillah

694


۱۰رمضان المبارک۱۴۴۰ھ

طلاق ثلاثہ (۷)

طلاق ثلاثہ (۷)

انتخاب مضامین

مفتی اعظم پاکستان حضرت مفتی ولی حسن ٹونکی نور اللہ مرقدہ (شمارہ 632)

حدیث اور اس کے متون و طرق وعلل کے سب سے بڑے عالم اپنے زمانہ کے عزالدین بن عبدالسلام اور ابن دقیق العید حضرت مولانا انور شاہ الکا شمیری قدس سرہ العزیز نے فرمایا کہ حدیث مسلم میں’’کانت الثلاث تجعل واحدۃ‘‘ میں لفظ’’جعل‘‘ ایسا ہے جیسا کہ قرآن پاک کی آیت ’’اجعل الالھۃ الھاواحدا‘‘میں ہے ،یہاں تک آیت کریمہ کا مطلب یہ ہے کہ بہت سے جھوٹے خدائوں کے بجائے اس نے ایک معبود کو پکڑ لیایہ معنی نہیں کہ بہت سے معبودوں کو ملا کر ایک معبود بنایا، اسی طرح حدیث کا مطلب بے غبار ہے کہ تین طلاقوں کے بجائے زمانہ خیر زمانہ رسالت اور زمانہ صدیقیت میں ایک طلاق سے کام لیاجاتا تھا پھر جب حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے زمانہ میں اس کی کثرت ہوگئی اور لوگ تین طلاق دینے لگے تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے تین طلاق کا حکم نافذ کردیا اوراس میں تاکید وغیرہ کی نیت کو ختم کردیا اور بتلادیا گیا کہ اب الفاظ طلاق کا اعتبار ہوگا۔ حدیث کے لفظ’’انماتجعل‘‘کی ایک نظیر تو قرآن کریم سے بیان کی تھی، حدیث مبارک میں بھی اس کی ایک نظیر موجود ہے غالباً جامع ترمذی کی روایت ہے’’ من جعل ھمومہ ھماً واحد‘‘اس کے معنی یہ نہیں ہیں کہ بہت سے غم اور فکر کو ایک غم بنالیا بلکہ معنی یہ ہیں کہ بہت سے غموں کو چھوڑ کر ایک غم بنالیا یعنی بہت سے غموں کی جگہ صرف ایک غم بنالیا اور وہ غم آخرت اور فکر فردا ہے۔

حدیث ابن عباس رضی اللہ عنہ پر کلام طویل ہوگیا کیونکہ اس حدیث کو غیر مقلدین پیش کرتے ہیں اور لوگوں کو خواہ مخواہ دھوکہ دینے کی کوشش کرتے ہیں، ختام بحث پر جی چاہتا ہے کہ حافظ ابن رجب الحنبلیؒ کی عبارت کا خلاصہ پیش کیا جائے تاکہ ناظرین پر اس حدیث کی حقیقت واضح ہوسکے۔

 ائمہ اسلام کے اس حدیث کے بارے میں دوطریقے ہیں: ایک طریقہ تو امام احمد اور ان کے موافقین کا ہے وہ یہ کہ اس حدیث کی اسنا د پر بحث کی جائے اور واضح کیا جائے کہ حدیث شاذ ہے اور طائوس منفرد ہے اور اس کا کوئی متابع نہیں راوی ثقہ جماعت کثیرہ کی مخالفت کرتے ہوئے روایت کرے تو یہ حدیث کی علت ہے توقف واجب ہے علاوہ ازیں بطریق صحیح کوئی روایت اس کے ہم معنی نہیں ہے بلکہ ابن عباس رضی اللہ عنہ کے تلامذہ کا بیان طائو س سے مختلف ہے، امام احمد، یحییٰ بن معین، یحییٰ بن سعید القطان، علی بن المدینی رحمہم اللہ تعالیٰ کا مسلک یہی ہے جرح کے امام جوز جانی نے بحث کے بعد فیصلہ کیا ہے’’ھو حدیث شاذ‘‘ حدیث شاذ ہے

ابن رجب نے فیصلہ فرمایا

ومتی اجمع الامۃ علی اطراح العمل بحدیث وجب اطراحہ وترک العمل بہ

’’اور جب امت کسی حدیث کے چھوڑنے اورعمل چھوڑنے پر اجماع کرے تو اس کوچھوڑنا اور اس پر عمل ترک کرنا واجب ہے۔‘‘

دوسرا طریقہ ابن راہویہ اور ان کے متبعین کا ہے وہ یہ کہ اس حدیث کے معنی ومصداق پر بحث کی جائے، معنی و مصداق پر بحث بحمداللہ گزر چکی ہے۔

 ایک دوسری حدیث بھی جس سے یہ حضرات استدلال کرتے ہیں اور مسئلہ طلاق ثلاثہ میں بڑی شدومد سے پیش کرتے ہیں امام اہل سنت احمد بن حنبلؒ نے اپنی مسند میں اس طرح نقل فرمائی ہے:

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رکانہ بن عبدیزید نے اپنی بیوی کو تین بار ایک مجلس میںطلاق دیدی تو اس پر وہ بہت زیادہ رنجیدہ ہوئے، رسول اکرمﷺ نے ان سے سوال کیا: تم نے کیسے طلاق دی؟ انہوں نے کہا: ایک مجلس میں تین طلاقیں دیدیں، آپﷺ نے فرمایا: وہ تو ایک طلاق ہوئی اگر چاہو تورجوع کرلو۔ راوی کہتے ہیں کہ صاحب واقعہ نے رجوع کرلیا۔‘‘

سب سے پہلے تو یہ حدیث ان لوگوں کے خلاف دلیل ہے جو یہ کہتے ہیں کہ بزمانہ صحابہؓ تین طلاقیں ایک ساتھ نہیں دی جاتی تھیں، میں نے طلاق دی میں نے طلاق دی یہ حضرات کہتے ہیں کہ اس طرح طلاق نہیں دی جاتی تھی یہ حدیث اگر صحیح ہو تو ان کے رد کے لیے کافی ہے۔

 آسان جواب اس حدیث کا یہ ہے کہ طلاق دینے والے نے علیحدہ علیحدہ لفظوں سے طلاق دی تھی، دوسری طلاق تیسری طلاق کو بطور تاکیدذکر کیا تھا رسول اکرمﷺ نے پوچھا تو انہوں نے تاکید ہی کی بات بتلائی پھر وحی بھی اس کے خلاف نہیں آئی تو آپﷺ نے ایک طلاق کا فیصلہ کرادیا۔ یہ تو اجمالی جواب ہے اگرہم تفصیل میں جائیں اس کے رواۃ اور اس کے دوسرے طرق کو دیکھیں تو حقیقت علماء محدثین کی آراء اور تحقیق کی روشنی میں سامنے آتی ہے کہ اس حدیث میں اضطراب ہے بعض روایات میں تعداد طلاق مذکور نہیں بلکہ صرف یہ لفظ ہیں ’’انی طلقتھا‘‘ نہ’’ ثلاثا ‘‘کا لفظ ہے نہ’’البتۃ‘‘ کا لفظ ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ میں نے طلاق دی ہے، محمد بن ثور الصنعانی کی روایت میں یہی لفظ ہیں، محمد بن ثور کی جلالت قدر اور ثقاہت سے کسی کو انکار نہیں ہے امام شافعیؒ ابودائود ترمذی اور ابن ماجہ کی روایت میں ثلاثا کا لفظ نہیں ہے بلکہ یہ الفاظ ہیں’’انی طلقت امراتی سھیۃ البتۃ‘‘ میں نے اپنی بیوی سہیہ کو طلاق بتۃ دی اس کے بعدیہ لفظ بھی ہیں تو میں نے اس سے ایک ہی مراد لی تھی اس لیے حضورﷺ نے میری بیوی مجھ پر واپس کرنے کاحکم دیا۔ زیادہ تر محدثین نے اسی لفظ کو ترجیح دی ہے البتہ کے لفظ کے ساتھ طلاق دینے میں علماء کا اختلاف ہے امام ترمذیؒ اسی حدیث یعنی حدیث رکانہ کو اپنی صحیح میں بلفظ البتۃ روایت کر کے مذاہب اس طرح نقل کرتے ہیں…

رسول اکرمﷺ کے صحابہ اور دوسرے حضرات طلاق البتہ کے بارے میں مختلف ہیں، عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ انہوں نے اس کو ایک طلاق قرار دیا ہے، حضرت علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ انہوں نے اس کو تین طلاق قرار دیا ہے، بعض علماء کی رائے ہے کہ اس میں نیت کا اعتبار ہوگا اگر ایک کی نیت کی توایک طلاق ہوگی اور اگر تین طلاق کی نیت کی تو تین طلاق ہوں گی اور اگر دو کی نیت کی تب بھی ایک ہی طلاق ہوگی۔‘‘

(جاری ہے)

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

Rangonoor Web Designing Copyrights Khabarnama Rangonoor