Bismillah

694


۱۰رمضان المبارک۱۴۴۰ھ

پوتا پوتی اور نواسا نواسی کی وراثت کا مسئلہ(۷)

عائلی قوانین شریعت کی روشنی میں بیٹا بیٹی کی موجودگی میں پوتا پوتی اور نواسا نواسی کی وراثت کا مسئلہ (۷)

انتخاب مضامین

مفتی اعظم پاکستان حضرت مفتی ولی حسن ٹونکی نور اللہ مرقدہ (شمارہ 644)

واقعہ یہ ہے کہ مسلمان کی یہ تعریف بالکل نرالی ہے ، اس تعریف کی رو سے ہر وہ شخص مسلمان ہے جو نہ انبیاء سابقین کو مانتا ہو اور نہ کتب سابقہ کو مانتا ہو بلکہ قرآن کو یہ مستشرقین کے نظریہ کے مطابق حضرت محمدﷺ کی تصنیف کہتا ہو۔اسی طرح نہ آخر ت کو مانتا ہونہ جزاوسزا اور نہ جنت ودوزخ کو اور ملائکہ کو مانتا ہو اور دین کے قطعی محرمات زنا، شراب ،سودو قمار بازی وغیرہ کو حلال اور جائز کہتا ہو مگر خدا کو ایک اور محمدﷺ کو آخری نبی مانتا ہو اور خود کو مسلمان کہتا ہو… استغفر اللہ

کسی شخص کا مسلمان ہونا ایک شرعی حکم ہے اور صحت نکاح کے باب میں اساسی طور پر مؤثر ہے اس لئے خود مولف کے بیان کردہ رہنمااصول کے تحت ان کا فرض ہے کہ وہ قرآن و حدیث کی روشنی میں اسلام اور مسلمان کی تعریف کریں۔

 یاد رکھئے!اسلام کے دوجزو ہیں: ایمانیات( اعتقادات)، عبادات و احکام، دل سے دونوں کو مانے اور زبان سے دونوں کی پابندی کا اقرار کئے بغیر کوئی شخص مسلمان نہیں ہوسکتا ،یہ قرآن کریم کی آیت کریمہ ذیل صرف ایمانیات کے بیانات پر مشتمل ہے:

امن الرسول بما انزل الیہ من ربہ والمؤمنون کل آمن باللّٰہ وملائکتہ وکتبہ ور سلہ

مان لیا رسول نے اس کو جوکچھ اس پر نازل کیا گیا ہے ا س کے رب کی جانب سے اور مسلمانوں نے بھی، سب نے مان لیااللہ کواس کے فرشتوں کو اس کی کتابوں کو اور اس کے رسولوں کو( تا آخر آیت)

 آیت کریمہ ذیل ایمانیات اور عبادات و احکام دونوں پر مشتمل ہے:

’’لیکن بڑی نیکی یہ ہے کہ جو ایمان لائے اللہ پر اور قیامت کے دن پر اور فرشتوں پر اور سب کتابوں پر اور نبیوں پر اور مال کی محبت کے باوجود اس کو رشتہ داروںکو یتیموں کو محتاجوں کو مسافروں کو مانگنے والوں کو اور گردنیں چھڑانے میں دے اور نماز کو قائم رکھے اور زکوٰۃ دیا کرے اور وہ لوگ ایسے ہیں جو عہد کو پورا کرتے ہے جب کسی سے عہد کرتے ہیں اور جو سختیوں میں بدحالی میں اور لڑائی کے وقت صبر کرنے والے(ثابت قدم ہوتے) ہیں یہی لوگ اپنے دعویٰ ایمان میں سچے ہیں اور یہی لوگ پرہیز گارہیں۔‘‘

اور اوتیت جوامع الکلم کے معجزہ کے مالک نبی کریم علیہ السلام نے صحیح سند کی حدیث ذیل میں اس تمام تفصیل کوالایمان بما جئت بہ کے موجز جملہ میں سمودیا۔

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیںکہ رسول اللہﷺ نے فرمایا:مجھے حکم دیاگیا ہے کہ میں لوگوں سے جنگ جاری رکھوں تاآنکہ وہ لا الہ الا اللہ کی شہادت دیں اورمجھ پر اور شریعت پر جو میں لے کر آیا ہوں ایمان لے آئیں جب انہوں نے اس پر عمل کرلیا تو وہ مسلمان ہوگئے اور انہوں نے اپنے جان ومال کو مجھ سے بچالیا بجز اسلام کے حق کے اور ان کے دلوں کا حساب اللہ کے سپرد ہے۔

 اس حدیث سے معلوم ہواکہ اللہ کو ایک ماننے اور محمد مصطفیﷺ کو خاتم النبیین ماننے کے ساتھ ہی آپ ﷺ کے لائے ہوئے پورے دین کو ماننا اور زبان سے ان تینوں باتوں کا اقرار کرنا مسلمان ہونے اور اسلام کی پناہ میں آنے کے لئے ضروری ہے اس کے بغیر اسلام کے احکام کسی شخص پر جاری نہیں ہو سکتے، ان تینوں میں سے کسی ایک کو بھی جو کوئی نہ مانے وہ کافر اور واجب القتل ہے۔ا سی لئے علماء عقائد نے ایمان و اسلام کی حسب ذیل تعریف کی ہے:

ہوالتصدیق بما جاء بہ من عند اللّٰہ والاقرار بہ فی جمیع ما علم بالضرورۃ مجیئہ

ایمان کے معنی ہیں رسول اللہﷺ جو( دین) اللہ کے پاس سے لائے ہیں اس کو دل سے ماننا اور زبان سے اقرار کرنا ان تمام( عقائد، عبادات اور احکام) کا جن کو آپﷺ کا لے کرآنابدیہی اور یقینی ہے۔(شرح عقائد:ص۱۴)

 لہٰذا مسلمان کی شرعی تعریف’’ مجموعہ قوانین اسلام‘‘ میں مذکورئہ بالارہنما اصول کے تحت نصوص قرآن و حدیث صحیح کی روشنی میں یہ ہونی چاہئے: جو کوئی شخص خدا کو ایک اور حضرت محمدﷺ کو آخری نبی مانتا ہو اور تمام ضروریات دین کو دل سے مانتا ہوں اور ان کی پابندی کا زبان سے اقرار کرتا ہو وہ مسلمان ہے۔

 ۳)…(الف) صغیر سنی کی شادی یعنی باپ کے اپنی نابالغ اولاد کی شادی کردینے کے خلاف قانون اور مروّجہ عائلی قوانین کے تحت قابل سزا جرم ہونے کے سلسلہ میں لکھتے ہیں:یہ امر کہ صغرسنی کی شادیوں کو پاکستان میں ممنوع قرار دیدیا گیا ہے ایک سماجی مسئلہ ہے اور اس مسئلہ کو خالص مذہبی انداز میں سوچنے کے بجائے ،سماجی اور معاشرتی پہلو سے بھی سوچنا اورغورکرنا چاہئے۔

 ہمیں حیرت ہے کہ مؤلف’’ مجموعہ قوانین اسلام‘‘ کے اندر کسی مسئلہ کو سماجی یا معاشرتی پہلو سے سوچنے اور اس کے حل کرنے کا دعوت دے رہے ہیں اور مسئلہ بھی ایسا کہ خودان کے اختیار کردہ رہنما اصول کے تحت نہ صرف کتاب و سنت بلکہ اجماع امت بلکہ اجماع صحابہ بھی اس پر موجود ہے کیا مؤلف کتاب و سنت سے کوئی بھی دلیل پیش کر سکتے ہیں جس میں سماج یا معاشرہ کو ماخذ احکام شرعیہ قرار دیا گیا ہواور وہ خود مصلحت عامہ( حالانکہ مصلحت عامہ سے ائمہ مجتہدین کی مراد سماجی یا معاشرتی مصلحت ہر گز نہیں ہے اگر وہ ایسا سمجھتے ہیں تویہ ان کی سخت غلط فہمی ہے بلکہ مصلحت عامہ سے مراد عامۃ المسلمین سے تعلق رکھنے والی دینی اور شرعی مصلحت ہے) کے تحت دونوں جگہ قوسین( بریکٹ) کے درمیان مصلحت عامہ کے ساتھ جو قرآن وسنت کے احکام سے منافی نہ ہو کی قید لگاتے ہیں اس کے معنی اس کے سوا اور کیا ہو سکتے ہیں کہ جو مصلحت کتاب وسنت کے منافی ہواس کا ہرگز اعتبار نہیں کیا جائے گا، زیر بحث مسئلہ میں آپ کی’’ سماجی اور معاشرتی مصلحت ‘‘نہ صرف قرآن و سنت کے بلکہ اجماع امت اور اجماع صحابہ کے قطعاً منافی ہے چنانچہ وہ اپنی تشریح ان الفاظ سے شروع کرتے ہیں:

’’ائمہ اربعہ اور شیعوں کا اس امر میں اتفاق ہے کہ نا بالغ کا نکاح اس کا ولی کرسکتا ہے‘‘

 اول تو ائمہ مجتہدین اربعہ جن کے مذاہب ہی پورے عالم اسلامی میں مقبول ہوئے ہیں کااجماع اتنی قوی حجت شرعیہ ہے کہ ان کے مقابلہ پرابن شبرمہ اور قاضی ابو بکر بن الاصم کا نام لینا ہی مضحکہ خیز ہے گویاپوری چودہ سوسالہ امت میں صرف دو نفر جس اجماعی مسئلہ میں مخالف گذرے ہوں کیاشرعاً وعقلاًکسی طرح بھی ان کا اختلاف قابل ذکر ہے؟ (جاری ہے)

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

Rangonoor Web Designing Copyrights Khabarnama Rangonoor