Bismillah

694


۱۰رمضان المبارک۱۴۴۰ھ

نفیس پھُول ۔ 679

نفیس پھُول

امام جمال الدین ابن الجوزیؒ

(شمارہ 679)

بعض نام نہاد صوفیوںکی جہالت

علم کی فضیلت میں اضافہ کا ایک سبب میرے نزدیک یہ بھی ہے کہ کچھ لوگ علم کو چھوڑ کرعبادت وریاضت میں مشغول ہوئے اورمطلوبہ حقائق تک پہنچنے سے محروم رہ گئے۔

گذشتہ لوگوں میں سے ایک کا قصہ ہے کہ اس نے کسی شخص سے کہا: اے ابو الولید ! اگر واقعی تو اولاد والا ہے یعنی اس کے اولادنہ ہونے کی صورت میں وہ اس کنیت کے استعمال سے بچنا چاہتا تھا اگر یہ شخص علم میں لگا ہوتا تو اسے معلوم ہوتا کہ آنحضرتﷺ نے صہیب کی ابو یحییٰ کنیت رکھی اور ایک بچے کو یا ابا عمیر کہہ کر پکارتے اور فرماتے تھے: تیرے بلبل کا کیا ہوا۔ اور بعض صوفیاء کہلانے والے ایسے بھی ہیں جو تمام اسباب کے ترک کو توکل کہتے ہیں اوریہ علم سے ناواقفی کی بات ہے کیونکہ آپﷺ غار میں داخل ہوئے تھے، طبیب سے مشورہ فرمایا تھا، جہاد میں زرہ پہنی تھی، خندق کھودی تھی، مکہ میں مطعم بن عدی کی امان حاصل فرمائی تھی اور وہ کافر تھا اور آپﷺ ہی نے حضرت سعدرضی اللہ عنہ سے یہ فرمایا تھا کہ اگر تواپنے وارثوں کو غنی چھوڑ کر جائے اس سے بہتر ہے کہ ان کو نادار چھوڑ کر جائے کہ وہ لوگوں کے آگے ہاتھ پھیلاتے ہوں۔ ہاں اللہ کی ذات سے غافل ہو کر اسباب میں لگنا غلط ہے اور اللہ کے ساتھ تعلق خاطر ہوتے ہوئے اسباب میں لگنا غلط ہے اور مسبب کے ساتھ تعلق خاطر ہوتے ہوئے اسباب کا استعمال کرنا جائز ہے، اس قسم کی تمام تاریکیاں علم کی شمع سے ختم ہوتی ہیں اورجہالت کی تاریکی میںچلنے والے یا خواہشات کی گلیوں میں گھومنے والے گمراہ ہوجاتے ہیں…

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

Rangonoor Web Designing Copyrights Khabarnama Rangonoor