نفیس پھُول ۔ 683

نفیس پھُول

امام جمال الدین ابن الجوزیؒ

(شمارہ 683)

اگر کوئی یہ سوال کرے کہ ان اشیاء کے اخفا میں کیاراز ہے تو جواب یہ ہے کہ نفس ہمیشہ ایک حال سے دوسرے حال کی طرف ترقی کرتا رہتا ہے،اگر وہ ان اشیاء پر مطلع ہوا توان کے خالق کی طرف چلنے لگے گا تو اس سے پہلے ہی بعض چیزوں کا مستور رہنابھی اس کی عظمت کی دلیل ہے کیونکہ جب مخلوق میں بعض چیزیں ایسی ہیں جن کی حقیقت معلوم نہیں ہوسکتی تو اس کی ذات توبہت ہی عظیم اوربلند وبالا ہے۔

 اگر کوئی پوچھتا ہے کہ صواعق کسے کہتے ہیں برق کی کیا حقیقت ہے زلزلے کیاہوتے ہیں تو یہ جواب کافی ہوسکتا ہے کہ جھنجوڑنے کی چیزیں ہیں تنہیہات ہیں اوران کی حقیقت کو مخفی رکھنے کا رازیہ ہے کہ اگر اسے کھول دیا گیا توان کی عظمت و ہیبت کا معیار گر جائے گا۔ اس نکتہ میں غور کرنے والا جان سکتا ہے کہ واقعی قابل قدربات ہے جب مخلوقات میں ایسی چیزیں موجود ہیں تو خالق کی عظمت و جلالت کا کیا پوچھنا ،لہٰذا مناسب ہے کہ یہاں پر اس کے وجود کے دلائل پراکتفاء کی جائے، سلسلہ رسالت کے جواز اورقیام پر دلائل دئیے جائیں پھر کتب وحی اور رسولوں کے ذریعہ سے اس کے اوصاف کا تعارف حاصل کیا جائے اور اس سے آگے بڑھنے کی کوشش نہ کی جائے۔

 بہت سے لوگوں نے اپنی رائے سے اس کی ذات و صفات میں بحث کی جرأت دکھائی اور اس کے وبال میں مبتلا ہوئے۔

 اور جب ہم نے مان لیا کہ وہ موجود ہے اور اس کے کلام سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ سمیع ہے بصیر ہے حیّ ہے قادر ہے بس صفات میں اسی قدر جان لینا ہمیں کافی ہوگا آگے غور و خوض کی ضرورت نہیں ۔